جو شاعری سماج سے نہ جڑی ہو وہ محض لفظی جادوگری ہے ، توانا لہجے کے معروف شاعر اشرف گل سے گفتگو

اردو شاعری میں اشرف گل کا حوالہ نہایت معتبر ہے، آپ ایک طویل عرصے سے شعر کہہ رہے ہیں اور جہاں جہاں اردو ادب کے قاری موجود ہیں، اشرف گل کا نام بخوبی جانتے ہیں- اشرف گل حقیقتا" اپنی ذات میں انجمن ہیں، سنجیدہ شاعری تو خوب کرتے ہی ہیں، فکاہیہ شاعری میں بھی منفرد مقام رکھتے ہیں، موسیقار بھی ہیں اور گلوکار بھی- ایک عرصے سے خواہش تھی کہ آپ سے تفصیلی گفتگو کی جائے اور اس میں قارئین کو بھی شریک کیا جائے- میں تہہ دل سے اشرف گل صاحب کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے اپنے قیمتی وقت سے کچھ لمحات نکالے اور مجھے ایک خوبصورت گفتگو کا موقع فراہم کیا-(گل نوخیز اختر)


ashraf Gill

 کب سے شاعری کا سلسلہ شروع ہُوا اورکیوں ہُوا؟

** سب سے پہلے تو میں آپ کا شکریہ ادا کرنے میں فخر محسوس کرتا ہُوں کہ آپ جیسے صاحبِ فِکر و ہُنر نے مجھے دریافت کِیا۔ جب کہ میں بہت دیر سے اپنے ملک پاکستان سے باہر ہُوں۔ مگرکبھی کبھار لاہور کا چکر لگاتا بھی رہتا ہُوں۔ کیونکہ وہاں کی مٹی میری رگ و پے میں رچی بسی ہُوئی ہے۔ اب آپ کے سوال کی جانب آپ سے مخاطب ہوتا ہُوں۔ شاعری میرے خمیر میں تھی مگر نمودار تب ہُوئی جب میں یونائیٹڈ بینک میں اپنی نوکری کے دوران سنہ ۱۹۶۸ ؁ء میں منڈی فیض آباد تحصیل ننکانہ صاحب میں متعین تھا۔ ایک شعر وارد ہُوا۔ مجھے وہ شعر یاد تو نہیں۔ کہیں اوراق میں گُم ہو گیا۔ مگر اتفاقاََاس چھوٹے سے قصبے میں ایک عمر رسیدہ شخص محمد اسماعیل جو ہندوستان سے شاید ملیر کوٹلہ سے تھے‘ بینک میں اکثر آتے رہتے تھے۔ ان سے بات ہوتی رہتی تھی ۔ وہ علم و ادب میں بھی کافی دسترس رکھتے تھے۔میں نے وُہ نووارد شعر اُن کو سنایا۔ انہوں نے مجھے میرے اِس شعر پر جو شاعری کی رُو سے مکمل تھا۔ کہنے پر میری حوصلہ افزائی کی۔مزید انہوں نے میری قابلیت کو چیک کرنے کیلئے ایک مصرعہ دے دِیا۔ جو مجھے اب بھی یاد ہے جو تھا: ؂ نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل۔۔۔۔اور اس مصرعے پر دوسرا مصرعہ کہہ کر یہ شعر مکمل کرنے کا بولا۔میں نے ایک ٹیسٹ کے طور پر اپنے ذہن پر بوجھ ڈالا۔اور اگلے ہی دن میں نے اپنی خداداد اہلیت کے مطابق مصرع اُولیٰ لکھ دیا: جو ےُوں تھا: ؂ جو لوگ پی کے بہک جاتے ہیں ‘ بناوٹ ہے۔۔۔۔ نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل۔۔۔۔جب اسماعیل صاحب کو سُنایا۔ تو انہوں نے مجھے ایک شاعر ہونے کی سند دے دی۔جو مجھے اچھا لگا۔ اور بعد ازیں یہ دبی ہُوئی شاعری وقتاََ فوقتاََ نمودار ہوتی رہی۔کچھ کاغذات میں سنبھالی گئی اور کچھ ضائع بھی ہوتی رہی۔ اس وقت مجھے عروض کا کچھ علم نہ تھا۔ بس خدا سے جو عطا ہوتا۔ وہی تھا۔اس دوران غمِ روزگار میں ایسا اُلجھا۔ کہ باقاعدہ مشاعروں میں شامل نہیں ہو سکا۔ مگر کچھ نہ کچھ لکھتا ضرور رہا۔

 آپ نے صرف شاعری ہی کی یا نثر میں بھی طبع آزمائی کی؟

gill-3

** جی ہاں۔ میں نے زیادہ تر شاعری ہی کی ہے۔ نثر میں بھی کوشش کی ضرور ہے مگر اتنا زیادہ کام نہیں ہو پایا۔ نثر میں ایک خاکہ ’’انانیت‘‘۔۔ایک کہانی روداد ’’میرا پیارا وطن‘‘ اور ایک انشائیہ: ’’ضِد‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی زندگی پر مبنی آپ بیتی پر بھی کام کر رہا ہُوں۔ اور ہندوستان میں جو چار مرتبہ سفر کر چکا ہُوں۔ اُن کے احوال بھی تحریر کر دئے ہُوئے ہیں۔ علاوہ ازیں ایک مشہور امریکن ناول۔افسانہ نگار Herman melvile کی ایک کہانی 'Bartelyby the Scrivenor' کا ترجمہ بھی کِیا ہے۔ شاید یہ عمل بھی نثر کے ہی زمرے میں آتا ہے۔ یہ تمام نثریات جلد ہی آپ کو روانہ کرونگا۔ انشاء اللہ ۔
آپ موسیقار بھی ہیں ‘ نغمہ نگار بھی ‘ شاعر بھی ‘ اتنی ساری جہتیں آپ کیسے نبھا لیتے ہیں؟

** یہ سوال جتنا آپ کیلئے آسان ہے۔ اتنا مجھے جواب دینے میں مشکل نظر آتا ہے۔مگر آپ کے سامنے ایسے حقائق کو واضح تو کرنا ہے۔ اس بارے جب میں از خود اپنے بارے غور کرتا ہُوں ۔ تو محسوس کرتا ہُوں کہ واقعی ان کاموں کو سر انجام دینے میں کوئی غیر مرئی قوت میرے ساتھ رہتی ہے۔ اور وہ بس ایک ہی ہے۔ خدائے بزرگ و برتر کی غیبی امداد۔ جس نے مجھے صحت اور ہمت سے نوازا۔ دوسرے نمبر پر میں اپنی ماں کی دعاؤں کے اثرات کا بھی معتقد ہُوں۔ جس نے میرے بچپن میں اپنی نوجوان بیوگی کے دوران مجھے پروان چڑھانے میں ایک شاندار کارنامہ ادا کِیا ہے۔ اور ہمیشہ مثبت سوچ سے ہی میری بچپن سے لیکر جوانی تک رہنمائی کی۔ماں بھی چل بسی۔ مگر جب شاعری کا باقاعدہ عمل شروع ہُوا۔ اس وقت میری بیگم نے میرے ان کاموں کو تن دہی سے کرنے میں میرا مکمل ساتھ دِیا اور کبھی اپنی ضروریات کو بیچ میں لا کر مداخلت نہیں کی۔اُس نے ہمارے بچوں کی بہترین دیکھ بھال کرنے کے ساتھ ساتھ میرے قلم کی رفتار کو چلنے اور اور موسیقی کو کندھے سے کندھا ملا کر ساتھ دینے میں مجھے بہترین سہارا مہیا کِیا ہے۔

gill-4

 اب تک کتنی کتب شائع ہو چُکی ہیں؟

** جی: اب تک میری نَو (۰۹) عدد کتابیں شائع ہو چُکی ہیں۔ جن میں چند ایک تو دو دو تین تین بار بھی چھپ چُکی ہیں۔ ان کتابوں کے نام ہیں: اُردو غزلیات: ۰۱۔ ’’ وفا کیوں نہیں مِلتی؟‘‘۔ ۰۲۔ ’’چلو اِک ساتھ چلتے ہیں‘‘۔ ۰۳۔ ’’وُہ مِلا کے ہاتھ جُدا ہُوا‘‘۔ پنجابی غزلیات: ۰۱۔ ’’ کرلاندی تان‘‘۔ ۰۲۔ جیون رُت کنڈیالی‘‘۔ ۰۳۔ ’’ سوجاں‘‘۔ دوسری زبانوں میں اشاعت شُدہ: ۰۱۔ ’’ تولویں بول‘‘ (چیدہ پنجابی غزلیات گرمکھی رسم ا لخط میں برنالا۔ پنجاب ۔انڈیا سے)۔ ۰۲۔’’ سازو سوزِ سُخن‘‘(چیدہ اُردو غزلیات گُرمُکھی رسم ا لخط میں چندی گڑھ۔ پنجاب۔ انڈیا سے)۔ ۰۳۔ ’’ سُلگتی سوچوں سے‘‘ ( منتخب اُردو غزلیات ’ہندی۔دیوناگری‘ رسم ا لخط میں حیدرآباد۔ دکن۔ انڈیا سے)۔ علاوہ ازیں میں یہ بھی آپ کو بتانا چاہتا ہُوں۔ کہ میں نے از خود اپنی ہمت سے گرمکھی اور ہندی کے حروف سے صرف شناسائی ہی نہیں کی۔ بلکہ لکھ پڑھ بھی لیتا ہُوں۔ اور اپنی تمام پنجابی غزلیات کو گرمکھی میں اپنے کمپیوٹر میں خود ہی ٹائیپ کرکے محفوظ کِیا ہُوا ہے۔

اتنا کام کرنے کے باوجود آپ درویشوں والی زندگی کیوں گذار رہے ہیں۔جبکہ آجکل تو ایک غزل کہہ لینے والے بھی شہرت کے آسمان پر چھانے کیلئے بیتاب نظر آتے ہیں؟

** جناب: درویشوں والی زندگی کا کہاں میں حامل ہُوں۔’ من آنم کہ من دانم‘۔ وہ لوگ تو دنیا تیاگ دیتے ہیں۔ اور میں تو اس زندگی کے تلخ و شیریں کو چکھتے بلکہ نگلتے ہوئے عہدا برآ ہورہا ہُوں۔ہاں مگر آپ نے جس طرف اشارہ کِیا ہے۔ اس سے لگتا ہے۔ کہ میں اپنے کو مشتہر نہیں کرتا۔ مجھے در اصل کام کرنے سے پیار ہے۔اور وہ بھی تن دہی سے۔ ایک فریضہ سمجھ کے۔ شاید خدا تعالےٰ نے مجھے اس کام کیلئے موزوں جانا ہے۔ جو وہ مجھ سے ایسا کام لے رہا ہے۔میں کسی کو متاثر کرنے یا کسی کے کام پر نقطہ چینی کرنے یا کسی کو خواہ نخواہ زیر دست کرنے یا خود پر اپنے معتبر ہونے کی مہر لگانے سے ہر صورت احتراز کرتا ہُوں۔ دیگر لوگوں کی بات دِگر ہے جو ایک اینٹ کی مسجد تعمیر کرکے خود ہی امامت اور مبتدی کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ بہر حال مجھے کسی کو بُرا یا بھلا کہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہاں چند ایک اصحاب ایسے بھی مِلے۔ جو مجھ سے اصلاح لینے میں میرے شکرگذار ہُوں۔ البتہ میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہُوں کہ انہوں نے مجھے اس قابل سمجھ کے مجھے عزت بخشی ہے۔ایک صاحب تو ایسے ہیں جو جالندھر۔ انڈیا سے ہیں اور آجکل آسٹریلیا مقیم ہیں۔ ان کے کئی گیت ریکارڈ بھی ہو چُکے ہیں۔ مگر اپنی شاعری کو مجھ سے جب سے اصلاح کا عمل شروع کِیا ہے۔ مجھ سے صاف ہی کہہ دِیا۔ کہ گِل صاحب: ان کہ ماضی کی شاعری بالکل بیکار ہوگئی۔ شاعری کا تو پتہ ہی اب چلا ہے۔ جونہی آپ سے مشورہ کرنا شروع کِیا۔الحمد و للہ۔ یہ سب اللہ ہی کا احسان ہے مجھ پر۔

gill-5

 پاکستان سے باہر رہ کراُردو ادب کی خدمت کرنا آسان ہے یا مشکل؟

** جناب: اُردو ادب کی خدمت کسی جگہ بھی رہ کر کی جا سکتی ہے۔شرط یہ ہے کہ نیک نیتی ہو۔ کسی دوسرے ادیب۔ شاعر کے بارے بُغض نہ ہو۔ حسد سے پاک ہونے سے انسان سیکھتا ہے۔ لیکن یہ تو پیغمبرانہ صفات ہیں۔ انسانوں میں مفقود ہیں۔ مگر میں سمجھتا ہُوں کہ چاہے تمام صفات نہ بھی ہوں تب بھی خدمت ہو سکتی ہے۔ البتہ پاکستان میں رہ آسان اسلئے ہے کہ وہاں لوگوں سے ادبی محفلوں میں مِل بیٹھنے کے کافی مواقع دستیاب ہیں۔ اور یہ عمل ذرا زیادہ ہو تا ہے۔ چاہے سبھی ساہتکار اپنے اپنے گروہوں میں بٹے ہُوئے ہیں۔ اور گروہ بندی کرنا ہمارے اس خطے کے لوگوں کی رگوں میں خون کے جیسا ہے۔ جیسے میں نے یہی ٹولہ بندی ہندوستان کے شہروں کلکتہ۔ حیدرآباد۔ لکھنؤ۔ اور پنجاب میں دیکھی ہے۔ اسلئے ایک گروہ کے ادب پرورلوگ دوسرے گروہ کے بارے کچھ نہ بتاتے ہیں نہ ہی ان سے ملاقات کرواتے ہیں۔ اگراس شہر کے کسی نامور شاعر یا ادیب کے بارے دریافت کِیا بھی جائے۔ اور ان سے مِلنے کی آرزو کی جائے۔ تو انواع کے نقائص بتا کر ان شہرہ آفاق ناموں کی ےُوں بھی توقیر دراصل بڑھاتے ہیں۔بس ؂ ہمچو ما دیگرے نیست۔ کے دائرے میں بند لوگ نظر آئے۔ جا بجا ایسے ہی دیکھنے میں آیا۔مگر اس کے باوجود ہر جگہ اردو ادب کی ترویج کا عمل جاری و ساری بھی ہے۔

 آپ نے مزاحیہ شاعری بھی کی۔ مگر اسے منظرِ عام پر نہیں لائے۔کوئی خاص وجہ؟

** جی ہاں: کچھ مزاحیہ شاعری بھی اتفاقاََ ہو گئی۔ مگر زیادہ نہیں۔جو بھی ہوئی اس کو وقتاََ فوقتاََ فیس بُک کر پیش کرتا رہتا ہُوں۔ جب میں نے غزل کہنی شروع کی۔ تو اس کے بہت ہی سنجیدہ جزئیات اور لوزمات ہونے پر سوچا۔ تو غزل سب سے مشکل کام لگا۔ مگر اس میدان میں کُود پڑا۔ اور کچھ نہ کچھ کام سرانجام ہو ہی گیا۔ پھر جب ہزل لکھی تو دیکھا۔ کہ مزاحیہ شاعری میں مضامین کا نکالنا زیادہ دشوار کام ہے۔ اور واقعی یہی سچ ہے۔ جیسے ہزل لکھنے والے شعرا خال خال ہیں۔ویسے ہی نثر کے میدان میں بھی مزاح نگار بہت کم ہی مِلتے ہیں۔آپ کا کام دیکھتا رہتا ہُوں۔اچھا لگتا ہے۔ آپ کو بات سے پیدا کرنے میں خاص قدرت ہی حاصل نہیں ہے۔بلکہ عام لوگ بھی ان باتوں سے محظوظ ہوتے ہیں۔ ویسے تو کافی لوگ ہیں۔ یوسفی صاحب کو پڑھا۔ان کے پاس الفاظ کا بھنڈار ہے۔اور صرف خواص اور سنجیدہ لوگ اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ مجتبیٰ حسین کو بھی پڑھا ہے۔ خوب کاٹ ہے ان کی سہل زبان میں۔ ان سے میری سنہ ۲۰۱۴ ء ؁ میں حیدرآباد ۔ دکن ملاقات بھی ہُوئی ۔ بہت لمبے تڑنگے انسان ہیں۔ نظریں اوپر اُٹھا کر بات کرنا پڑتی ہے۔ میں اور بھی ہزل کی کوشش کرونگا۔ انشاء اللہ۔

 اگر آپ کو کہا جائے کہ میوزک اور شاعری میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ تو آپ کی ترجیح کیا ہوگی؟

gill

**اس سوال کا جو اب دینے سے پہلے مجھے اپنے بچپن اور نوجوانی کے درمیانی حصے میں جانا پڑیگا۔میرے گاؤں میں میرے ایک امیر ہمسایوں کے گھر ایک بیٹری سے چلنے والا ریڈیو لایا گیا تھا۔ میرے ان کے بچوں سے اچھے تعلقات تھے۔ اور میرا ان کے گھر آنا جانا بھی تھا۔ میں اپنی تعلیم کے دوران ان کے چھوٹے بچوں کو پڑھایا بھی کرتا تھا۔ اس وقت انڈیا کی جو فلمیں ریلیز ہوتی تھیں۔ ان کے گیت ریڈیو سیلون سے نشر ہُوا کرتے تھے۔ جن میں مثال کے طور پر محمد رفیع کا گیت: غریب جان کے۔۔۔ لتا منگیشکر کا۔ ساری ساری رات تیری یاد ستائے۔۔۔ مناڈے کا۔ تُو پیار کا ساگر ہے۔۔۔۔ و دیگر گلوکاروں کی جادوئی آوازیں نہایت مسحور کُن ہوتی تھیں۔ اور سیدھا دل کو جا کر چھوتی تھیں۔ میں صرف گیت سن کر ہی لطف اندوز نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ شاعروں کی شاعری پر بھی بہت غور کرتا تھا۔ کہ وہ کیسے ایک مصرعے کو دوسرے سے مِلا کر نہ صرف الفاظ کی جادوگری پیش کرتے ہیں۔ بلکہ ایک لائن سے دوسری لائن کا ربط پیدا کرکے دلفریب پیغام بھی مہیا کرتے تھے۔ ان میں سے ساحر لدھیانوی ‘ شکیل بدایونی‘ شیلندر ‘ مجروح سلطان پوری ‘ کیفی اعظمی و دیگر۔ ساحر کے کلام میں واقعی ساحری سا نشہ تھا۔ اور ساحر کے کلام کو ہی مدِنظر رکھ کر میری شاعری نے انگڑائی لی۔ دونوں شوق گویا ہمدم رہے۔ مگر ان علوم کو کسی خاص وقت کا انتظار تھا۔ جو پہلے شاعری کی شکل میں ظاہر ہُوا۔ بعد ازیں موسیقی نے بھی دامن تھام لِیا۔ لہٰذا اب یہ دونوں ہی علوم میرے لئے لازم و ملزوم ہو گئے ہیں۔ میں یہاں یہ بھی بتانا ضروری سمجھتا ہُوں کہ مجھے شاعری اور موسیقی میں کوئی باقاعدہ مددگار یا استاد تعلیم حاصل کرنے کیلئے دستیاب نہیں ہو سکا۔ شاعری کیلئے مختلف شعراء کو پڑھکر اپنے آپ سے موازنہ کرتا رہا۔ اور سنگیت بڑے بڑے فنکاروں کو سُن سُن کر استفادہ کر رہا ہُوں۔ ہاں البتہ یہاں پر چند ایک پاکستانی اور ہندوستانی موسیقی کے فنکاروں سے ان کے یہاں کے دوروں کے دوران کچھ راگوں کی مخصوص سُروں اور چالوں سے واقفیت حاصل کرکے کافی امداد مِلی ہے۔ جس سے از خود دھنیں بنانے میں مجھے راستے مہیا ہُوئے ہیں۔ موسیقی سمندر ہے۔ اور بھی سیکھنا چاہتا ہُوں۔ مگر کوئی استاد دستیاب نہیں۔ البتہ اب شاعری اور موسیقی دونوں ہی میرے کام کا جزو ہیں۔

 آپ کا بیشتر کلام گایا بھی گیا ہے۔ کن کن گلوکاروں نے آپ کے کلام کو گایا ہے؟

**جی ہاں۔ اللہ تعالےٰ نے مجھے اس شرف سے بھی نوازا ہے۔شروع میں ایسے ہُوا کہ میرے لاہور کے چند ایک دوروں کے دوران مجھے اکمل شہزاد گھمن جو ایک ساہت کار بھی ہیں۔ اور ریڈیو پاکستان لاہورمیں اس وقت پروڈیوسر بھی تھے۔ ان کی وساطت سے وہاں کے میوزک پروڈیوسر اعظم خاں سے ملاقات ہوئی۔ اعظم خاں نے اسی ہی وقت ریکارڈنگ سٹوڈیو میں موجودہ میوزک ڈائیریکٹر صفدر نیازکی کمپوزیشن میں میری ایک غزل ریکارڈ کروا دی۔ بعد ازاں اسی ہی میوزک کمپوزر نے میری دو اُردو غزل کی کتابیں لیکر اس میں سے غزلیں منتخب کیں۔ جن میں دو عدد غلام علی۔ چار عدد حامد علی خاں۔ اور پانچ عدد ریاض علی خاں کی آواز میں ریکارڈ ہوئیں۔ اور میری آواز کو بھی ریکارڈنگ کے قابل سمجھتے ہُوئے میرے ساتھ ایک غزل ایک لیڈی سنگر رفعت مُغل کے ساتھ ڈیوٹ کی شکل میں ریکارڈ کروا ڈالی۔ اور وہی البم میں نے از خود ممبئی جا کر 'T. Series' سے ریلیز بھی کروایا۔ اس کے بعد پھر جب میں لاہور گیا۔ تو نصیبو لعل کے ساتھ بھی اپنے پنجابی کے پانچ عدد گیت اپنی آواز کے ساتھ ڈیوٹ کی شکل میں ریکارڈ کروائے۔ پھر اب آخری بار ۲۰۱۴ ء ؁ میں لاہور جا کر دو عدد پنجابی گیت لیڈی گلوکاروں: سائرہ نسیم۔ امن علی۔ اور نیناں کنول کے ساتھ دوگانے کی شکل میں ریکارڈ کروا چُکا ہُوں۔

 آپ غزل پسند لگتے ہیں۔ نظم سے کوئی خاص مخاصمت؟

gill-6

**یہ بہت ہی دلچسپ سوال ہے۔ در اصل جب میرا شاعری کا عمل شروع ہُوا۔ تو غزل سے ابتدا ہُوئی۔ اور اسی ہی میں اٹک کر رہ گیا۔ یا پھر گیت بھی لکھے۔ اور گیت بھی غزل ہی ایک قسم ہے۔ بس اس کے انترے میں ایک لائن بڑھا دی جاتی ہے۔ جیسے پہلے بھی بتا چُکا ہُوں۔ کہ غزل کے لوازمات کافی ہوتے ہیں۔ ایک شعر کی دو لائنوں میں توازن ہی پیدا کرنا نہیں ہوتا۔ علمِ تقطیع میں کس حرف خصوصاََ حروفِ عِلت کو گرانا۔ بھرتی کے الفاظ سے اجتناب۔ الفاظ کا درست چناؤ ہی نہیں بلکہ کس جگہ اس کو رکھنا ہے۔ تاکہ شعر کا بہاؤ دریا کے پانی کی طرح سے ہو۔ اور بھی بہت کچھ۔ اور مجھے مشکل کام کرنا آسان لگتا ہے۔ اسی لئے غزل سے دھیا ن کسی اور جانب کم ہی گیا۔ نظم سے مجھے ذرا بھر بھی دشمنی نہیں۔ کیوں ہو بھلا۔ نظم میں بھی بہت کچھ کہا جاتا ہے۔ اس کا میدان وسیع ہوتا ہے۔ کوئی بندش نہیں۔ نظم کی ہر لائن کو چھوٹی یا بڑی کر نے میں کچھ ہرج نہیں۔ میرے خیال میں نظم ایک مِنی کہانی کی مانند ہے۔ جس میں شاعر اپنے ماہرانہ ہُنر کی جادوگری پیش کرتا ہے۔ مگر غزل میں ہر شعر اپنے اندر ایک مضمون کا مکمل احاطہ کِئے ہوتا ہے۔ لہٰذاادب ادب ہے۔ کسی بھی زمرے میں ہو۔ اسکی اپنی اہمیت ہے۔

 آنے والادَور غزل کا ہے یا نظم کا؟

**میرے خیال میں نظم اور غزل دونوں جڑواں بہنیں ہی ہیں۔ جو زندگی میں ایک دوسری کے ساتھ رہنا پسند کرتی ہیں۔ اور ان کو شعرا ہی تخلیق کرتے ہیں۔ اور وہ بھی ہمارے ہی ساتھ بستے ہیں۔ یہ دونوں بہنیں چاہتے ہُوئے بھی جدائی برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ اسلئے نظم لکھنے والوں کو اسی ہی میں مزا آتا ہے۔ جبکہ غزل نگاروں کو اپنے فن کو پیش کرنے میں لطف آتا ہے۔

کتاب کلچر کے خاتمے کی باتوں میں کتنی سچائی ہے؟

** میرے خیال میںیہ صرف باتیں ہی ہیں۔ اور باتوں کا کیا؟ یہ کتاب کلچر ہی ہے جس کی بدولت بہت سے گُم شدہ ادب نگاروں سے علم دوست لوگوں کوآگاہی ہو پائی ہے۔ جتنے بھی پرانے مشہور شعراء جن میں مرزا غالب بھی ہیں۔ وہ اسی لئے اپنا اصل مقا م حاصل کر سکے۔ کہ ان کا کلام چھاپے کی نذر ہُوا۔ اگر وہ کتابی شکل میں دستیاب نہ ہو پاتے۔ تو کچھ بھی محفوظ نہ رہ پاتا۔ ایک بار کسی امریکن چینل پر ایک پروگرام نشر ہُوا تھا۔ جس میں ایک سَو مختلف ایجادات کا تذکرہ شامل تھا جن کی بدولت دنیا ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہُوئی۔ان سب میں نمبر ایک پر آنے والی ایجاد پرنٹنگ پریس تھا۔جس نے دنیا بھر میں مختلف معمولی سے غیر معمولی ذہین لوگوں کو کتاب کے ذریعے سے متعارف کروایا۔لہٰذا کتاب کلچر زندہ و پائیندہ رہیگا۔ چاہے آجکل کتنے ہی معلوماتی ذرائع جنم لے چُکے ہیں۔

اب تک کتنے ایوارڈ حاصل کر چُکے ہیں؟

gill-7

**مجھ پر اللہ تعالےٰ کا خاص کرم ہے۔ کہ مجھے پاکستان سمیت ہندوستان سے تقریباََ بیس سے زیادہ ایوارڈسے نوازا گیا ہے۔ جن کا تفصیلی ذکر میری ہر ایک کتاب میں تقریباََ تقریباََ درج ہے۔ اور یہ سلسلہ یہاں امریکہ میں ابھی تک جاری ہے۔ الحمد و للہ۔
سوال: زُود نویس ہونے کے باوجود آپ ہر شعر میں نیا معانی نکالنے پر قادر ہیں۔ یہ صلاحیت قدرتی ہے۔ یا اس میں بھی آپ کی ذاتی محنت شامل ہے؟
**اس سوال کے جواب میں خدائے بزرگ کا بے حد ممنون ہُوں۔ جو اس نے مجھے ایسی صفت سے نوازا ہے۔ اس میں میری ذاتی محنت اتنی ہی شامل ہے۔ جیسے آٹے میں نمک کے برابر۔ بس اللہ تعالےٰ نے مجھے سوُجھ بُوجھ سے نوازا ہے۔اور یہ کام میری وساطت سے آپ جیسے ادب شناس لوگوں تک پہنچایا ہے۔ جس سے میری پہچان ہونے پر میری پزیرائی ہو پائی۔

 شاعری میں کس نظرئیے کے قائل ہیں؟

**در اصل میں نے کبھی بھی کسی نظرئیے پر توجہ دی اور نہ ہی پیروی کی۔ البتہ اچھے شاعروں کو پڑھ کر اپنے کلام کا موازنہ ضرور کِیا ہے۔ تاکہ مجھے معلوم ہو سکے کہ میں کہاں ہُوں؟ اور کیا کر رہا ہُوں؟ میرا اپنا نظریہ سماج میں ہوتی نا انصافی اور انسانیت کے دُکھ درد کو اجاگر کرنے کے ارد گرد گھومتا ہے۔ جس کا تذکرہ میرے شعروں کی شکل میں جگہ جگہ پر ہے۔ لوگوں کے مسائل اور ارباب حکومت کی بے توجہی اور انسان کا اپنے ہی بھائیوں کے ساتھ ٹُوٹ جانا اور پھر اس سے جُڑنے کی کوشش بھی نہ کرنا۔ یہی سب باتیں میری شاعری کا لُبِ لباب ہیں۔ کیونکہ میں خود بھی ایک غریب گھرانے کی پیداوار ہُوں۔ اور اپنے ارد گرد لاچار و بے بس لوگوں کو قریب سے دیکھتا رہا ہُوں۔اگر ہم لوگ ادب میں زمین آسمان پتھروں پہاڑوں ندی نالوں کی باتیں کرتے رہینگے۔ تو بے سود ہیں۔ ہاں اگر ان سب مادیات کو انسان سے منسلک کریں تو اہمیت کی حامل ہو جاتی ہیں۔جس شاعری کا سماج سے رشتہ نہیں ہوتا۔ وہ تو صرف الفاظ کی جادوگری ہی کہی جا سکتی ہے۔

آپ علمِ عروض پر بھی دسترس رکھتے ہیں۔ آپ کے خیال میں ایک شاعر کیلئے عروض سیکھنا کتنا ضروری ہے؟

** ارے صاحب : لفظ ’دسترس‘ بہت دلچسپ مگر ایک طاقتور مطلب کا حامل ہے۔ جس کے بارے کسی بھی بڑے فنکار سے پوچھیں۔ تو اس کے پاس یہی جواب ہوگا۔ کہ وہ ابھی اور کچھ سیکھنے کے عمل سے گذر رہا ہے۔ ہاں البتہ میں نے علمِ عروض کا جب بھی مطالعہ کِیا ۔ بارہا سر کے اوپر سے گذرتا گیا۔ کچھ تھوڑی بہت جو سمجھ آئی۔ اس سے اشعار کی درستگی میں مدد ملی۔ مگر یہ بھی ضروری نہیں کہ جو علم عروض کا جانکار ہو۔ وہ اچھا شعر بھی کہہ سکتا ہو۔ شعر گوئی خداتعالےٰ کی عطا کردہ صلاحیت ہے۔ جس وُہ کچھ لوگوں کو ودیعت کرتا ہے۔ مگر علمِ عروض ایک علم ہے۔ جو مختلف ذرائع سے پڑھ کر یا سیکھ کر حاصل ہوتا ہے۔ ہاں البتہ مجھے علمِ عروض کی تھوڑی بہت شُدھ بُدھ ضرور ہے۔ جو آمد کے اشعار کی نوک پلک درست کرنے میں معاون ہوتی ہے۔باقی علمِ عروض کو سامنے رکھ کر ایک اچھا شعر تخلیق نہیں کِیا جا سکتا۔ہاں ہر شاعر کیلئے عروض سیکھنا کتنا ضروری ہے۔ اشد ضروری ہے۔تبھی آپ اچھی شاعری کر سکتے ہیں۔ وگرنہ ہر کوئی اپنے بارے جو بھی سوچے۔ اس کا حق ہے۔ ؂فِکرِ ہر کس بقدرِ ہمتِ اُوست۔ آپ کا شکریہ۔ جو آپ نے مجھے اس قدر اپنا نہایت قیمتی وقت عنائت کِیا۔ اور میرے اندر کافی گُم شدہ اور بکھرے ہوئے خیالات کو مجتمع کرکے منظرِ عام پر لانے میں میری رہنمائی کی۔ جاتے جاتے آپ سے دعاؤں کی درخواست ضرور کرونگا۔گر قبول اُفتد۔ اللہ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔ آمین۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *