اسٹرابری صحت کے لیے کتنی مفید ہے

Strawberry

سرخ رنگ کا یہ پھل دیکھنے میں جتنا خوبصورت ہے جسمانی صحت کے لیے اتنا ہی فائدہ مند بھی۔ اگر آپ اسٹرابری کو پسند نہیں کرتے تو ضرور کریں، اس لیے کیونکہ یہ لذیذ اور عرق سے بھرپور ہے بلکہ یہ کسی بھی طرح سپرفوڈ سے کم نہیں۔ وٹامن سی سے لے کر متعدد اینٹی آکسائیڈنٹس تک اسٹرابری متعدد طبی فوائد پہنچاتی ہے اور ان میں سے کچھ آپ کو حیران کردیں گے۔

جسمانی دفاعی نظام بہتر بنائے

طبی ماہرین کے مطابق اسٹرابری وٹامن سی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، انسانی جسم اس وٹامن کو بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اسی لیے اسے غذائی شکل میں حاصل کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے، وٹامن سی جسمانی دفاعی نظام کو مضبوط اور طاقتور کرتا ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق اگر چند ہفتوں تک اسٹرابری کا روزانہ کچھ مقدار میں استعمال کیا جائے تو اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹ کی طاقت خون کا حصہ بن جاتی ہے۔

آنکھوں کی صحت کے لیے

اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور اسٹرابری کا پھل موتیے کے مرض کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑھاپے میں بینائی ختم ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ ہماری آنکھوں کو وٹامن سی درکار ہوتا ہے تاکہ سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کے اثرات سے بچا جاسکے جو قرنیے کے پروٹین کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ وٹامن سی آنکھوں کے قرینے اور پردہ چشم کو مضبوط بنانے کا بھی کام کرتا ہے۔

کینسر کے خلاف مفید

وٹامن سی ایسا جز ہے جو کینسر کی روک تھام کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جسم کے صحت مند دفاعی نظام کی بدولت امراض سے دفاع بھی مضبوط ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اسٹرابری میں موجود ایک جز ellagic acid انسداد کینسر کی خصوصیات رکھتا ہے اور کینسر کی خلیات کی نشوونما کو روکتا ہے۔

جھریوں سے تحفظ

اسٹرابریز میں موجود وٹامن سی کولیگن کی پروڈکشن کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے جو جلد کی لچک اور نرمی کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، عمر بڑھنے کے ساتھ کولیگن کی سطح میں کمی آتی ہے تاہم وٹامن سی سے بھرپور غذا کے استعمال سے جلد کو صحت مند اور جوان بنانے میں مدد ملتی ہے، وٹامن سی کے ساتھ ساتھ اسٹرابری میں ellagic acid بھی کولیگن کے خاتمے اور ورم کے ردعمل کو روکتا ہے اور یہ دونوں عوامل جھریوں کا باعث بنتے ہیں۔

خراب کولیسٹرول کے خلاف مزاحمت

دنیا بھر میں امراض قلب اموات کی بڑی وجوہات میں سے یاک ہیں اور اسٹرابری میں دل کی صحت کو بہتر بنانے کی بھی خوبی ہے۔ ellagic acid اور فلیونوئڈز ایسا اینٹی آکسائیڈنٹ اثر فراہم کرتے ہیں جو دل کی صحت کو بہتر بناتے ہیں، یہ خون میں خراب کولیسٹرول کے اثرات کا مقابلہ کرتے ہیں جو شریانوں میں خون گاڑھا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ ایک کینیڈین تحقیق کے مطابق اسٹرابری کا غذا میں استعمال امراض قلب اور ذیابیطس سے تحفظ دیتا ہے۔

ورم میں کمی

اسٹرابریز میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس اور دیگر اجزاءجوڑوں کے ورم کا اثر کم کرنے میں بھی ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہاروڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک تحقیق کے جو خواتین ہر ہفتے 16 یا اس سے زائد اسٹرابریز کھاتی ہیں ان میں جوڑوں کے ورم کا خطرہ 14 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

بلڈپریشر کو ریگولیٹ کرے

اسٹرابری میں شامل پوٹاشیم بھی ایک اور صحت بخش جز ہے اور وہ نہ صرف بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ اس سے ہائی بلڈ پریشر کی سطح میں بھی کمی لائی جاسکتی ہے۔ بلڈ پریشر، خراب کولیسٹرول اور ورم سے تحفظ دینے کے باعث اسے دل کی صحت کے لیے بہترین پھلوں میں سے ایک بھی قرار دیا جاتا ہے۔

جسم میں فائبر بڑھائے

فائبر کھانے کے ہضم ہونے کے لیے ضروری ہوتا ہے اور اسٹرابری میں قدرتی طور پر اس کی کچھ مقدار شامل ہوتی ہے۔ جسم میں فائبر کی کمی کے نتیجے میں قبض اور آنتوں کے ورم کا خطرہ ہوتا ہے جس کا سامنا عمر کی چھٹی دہائی میں موجود 50 فیصد افراد کو ہوتا ہے۔ فائبر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے خلاف بھی جدوجہد کرتا ہے کیونکہ یہ خون میں چینی کی جذب کرنے کے عمل کو سست کردیتا ہے۔

جسمانی وزن کے لیے مفید

صحت مند وزن کو برقرار رکھنا ذیابیطس ٹائپ ٹو اور امراض قلب کے خلاف بہترین دفاع ثابت ہوتا ہے، اسٹرابری قدرتی طور پر کم کیلوریز والا پھل ہے، جس میں چربی نہیں ہوتی جبکہ نمکیات اور قدرتی چینی کی مقدار بھی بہت کم ہوتی ہے، جو جسمانی وزن کو معمول میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

دوران حمل مفید

حاملہ خواتین کے لیے عام طور پر بی وٹامن کی ایک قسم Folate کے استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے اور اسٹرابریز اس کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ Folate کو حمل کے ابتدائی مراحمل میں بچے کے دماغ، کھوپڑی اور ریڑھ کی ہڈی کے لیے ضروری جز مانا جاتا ہے اور اسٹرابری کے استعمال سے مخصوص پیدائشی نقص کی روک تھام میں بھی ممکنہ طور پر مدد مل سکتی ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *