کیموفلیج

حسن اعجاز گوندل
Hassan Ejaz Gondal
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ملک کے مذہبی طبقہ نے ہمیں تفرقہ بازی کی بیڑیوں میں یو جکڑا ہے کہ آج تک عوام کو سنی  ، شیعہ،  اہلحدیث،  دیوبندی اور بریلوی وغیرہ کی فرقہ پرستی ہی انعام میں ملی۔ان تمام مسلکوں کے کرتہ دھرتاؤں کی اکثریت نے فقہی اختلافات سے زیادہ کسی کو بھی اسلام نہ سکھایا. حالانکہ 90% سے زیادہ باتیں ان سب میں مشترک ہیں۔مثال کہ طور پر چوری نہ سنی ہے نہ شیعہ،  حرام خوری نہ وہابی ہے نہ دیوبندی،  سود نہ بریلوی ہے نہ غیر مقلد،  شرم و حیاء کی پاس داری،  صفائ کا نصف ایمان ہونا،  حاکم کا صادق و امین ہونا، غیبت، خیانت،ذنا، جھوٹ،  ناپ تول میں کمی جیسے سینکڑوں اہم معاملات ہیں جن پر یہ سب لوگ ایک ہی رائے رکھتے ہیں مگر افسوس کے علماء کی اکثریت نے فروعی مسائل کو ہی اسلام بتلایا اور عوام نے بھی اسی پر اکتفا کیا- ایسے میں اسلام بطور نظام کے نفاذ کا الم اٹھائے جو طبقات میدان میں آئے ان میں  سے ایک تو وہ تھے جو  ریاست کے خلاف مسلحہ جدودجہد کے نام پر اٹھے اور نا صرف اپنی ذات کو نقصان پہنچایا بلکہ ریاست کہ ساتھ ساتھ اسلام کا تشخص بھی معاشر ے میں خراب کیا اور دنیا کو اسلام کے حوالے سے مزید کنفویژن کا شکار کرڈالا۔دوسرا طبقہ وہ تھا جو پرامن ذرائے سے پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کا قائل تھا جن میں تنظیم اسلامی اور جماعت اسلامی سر فہرست ہیں، تنظیم اسلامی کا تو خیر ایک نعرہ ہے کہ وہ خلافت کا قیام چاہتے ہیں مگر آج کے دور میں خلافت کیسے قائم ہوگی، خلیفہ کون ہوگا ، خلیفہ کا چنائو کیسے ہوگا اس جیسے بہت سے مسائل کا جواب دینے میں یہ تحریک ناکام رہی اسی لئے رائے عامہ ہموار کرنے میں خاصی کامیابی نہ سمیٹ پائی  ، دوسری جانب جماعت اسلامی کا ایک واضع نصب العین تو نظر آتا ہے کہ وہ پرامن ذرائے سے جمہور کو ہموار کر کہ اسلامی انقلاب قائم کرنا چاہتے ہیں مگر ایک نظریاتی کلیرٹی کے باوجود بھی جماعت اپنے قیام سے لے کر اب تک نظریاتی جنگ تو جیت چکی مگر سیاسی  میدان میں ان کو ناکامی کا سامنا رہا جس کی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جمہور تک اپنی دعوت پہنچانے میں جماعت کو خاصی کامیابی نہیں ملی، جماعت کی ذیادہ فولوونگ پڑھے لکھے مذہبی طبقہ میں ہی ہے، تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پبلک اپروچ سٹریٹجیز میں شائید جماعت اسلامی کمزور ہے اسی لئے وہ آج بھی اسی ووٹ بینک پر ہیں جس کے ساتھ وہ ۷۰ کی دہائی میں پہلی بار میدان سیاست میں کودے تھے۔
دینی جماعتوں کے بعد دوسری جا نب ا گر سیکولر اور ملحد حضرات کو دیکھا جائے تو قیام پاکستان سے ہی یہ طبقہ خود کو ترقی پسند،انسانی حقوق کا علمبردار اور حق کا داعی بتلاتا آیا ہے، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ یہ طبقہ سوائے مغرب کو آئیڈلائز کرنے اور عمر بھر مذہب کو ہی تمام تر مسائل کا ذمہ دار بتلانے کہ سوا خود ریاست کے لئے کچھ پروڈکٹو کام نہ کر پایا۔ دیکھا جائے تو مذہبی جماعتوں کے نصیب میں کبھی مرکزی حکومت نہ آئ جب کہ یہ ترقی پسند افراد ان جماعتوں کا حصہ رہے جو دہایوں سے اس ملک پر واضع اکثریت سے حکمرانی کرتی آئ ہیں۔
 پیپلز پارٹی کی ہی مثال لے لی جیئے، سیکولرز کی لمبی فہرست ہے جو اس جماعت کے ساتھ ہمیشہ سے رہی، یہاں ہم اعتزاز احسن صاحب کی مثال لے لیتے ہیں جو اس طبقہ کے ایک منجھے ہوئے کامریڈ ہیں , علم کا ایک سمندر ہیں مگر ان کا تمام تر نظریاتی علم جو خاندانی سیاست کی واضع
مخالفت کا قائل ہے وہ ایک طرف  گڑھی خدابخش کی گد ی نشینی ان کے لیے ہمیشہ سے حلال رہی۔ باپ کے بعد بیٹی،پھر بیٹا اور پھر شاید کل کو اس کی اولاد اور تب بھی ان جیسے صاحب علم یوں ہی قطار میں کھڑے نظر آئیں گے۔اس سے ذیادہ کیا مذاق ہوگا بیچاری عوام کہ ساتھ۔اس ساری صورت حال کا جائزہ لیں تو معلوم پڑتا ہے کہ ہمارا
مذہبی طبقہ آج بھی اپنے مسلکی اختلافات کے الم بلند کیے ہوئے ہے اور سیکولر حضرات المعروف ترقی پسند اپنی ناکامیوں کو کیموفلیج کرنے کے لیے ہمیشہ سے مولوی معصوم کو ہی گالی دیتے آئے ہیں کہ صاحب ہم تو اپنا خلائ جہاز لیے کائنات کی گھتیاں سلجھانے نکل ہی پڑے تھے کہ یہ کمبخت مولوی صاحب کی حلوےکی دیگیں ہمارے لانچنگ پیڈ پر براجمان ہمارا رستہ روکے ہوئے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *