آج کی کالم کہانی ، ایک ناامید کہانی!

column kahani.noshi gillani

بہت دن سے قلم اور ذہن ایک دوسرے سے بغاوت پر مُصر تھا ۔ سوچ اور اظہار کے درمیان ربط نامعلوم کی حد میں داخل ہو گیا تھا۔ دل کی کیا بات کریں وہ تو سدا کا وحستوں کی زَد میں رہتا ہے ۔ جب انسانی وجود کی اکائی یوں بکھری بکھری سی ہو تو اُس کے پس منظر میں کوئی سانحہ کار فرما ہوتا ہے اور سانحہ بھی ایسا جو انسان کے عقیدے پر حملہ آور ہوا ہو ۔۔ حقیقت بھی یہی تھی کہ لاہور میں بچوں کے پارک گلشنِ اقبال میں ہونے والے خود کُش دھماکے کے بعد محسوس ہوا کہ یہ قلم کی مشقت بے معنی ہے ۔ یہ جنبشِ قلم پہ لفظوں کا رقص اب خونی رقص میں بدل چکا ہے۔ یہ ذرّہ بھر تخلیقی قوت آخر کتنے بچوں کے معصوم جنازے اُٹھاۓ گی ۔۔ یہ شکستہ تحریریں آخر کب تک بال بکھراۓ سینہ کوبی کریں گی ۔۔ یہ عزاداریاں کب تک حرف و بیاں کا مقدر رہیں گی ۔ عزادارِ حسین علیہ السلام کو تو پھر بھی تسکینِ ایماں نصیب ہوجاتی ہے ۔ لیکن یہ پارک میں کھیلتے ہوۓ ہنستے مسکراتے معصوم بچوں کے لہو لہان جسموں کے ٹکڑے کبھی ہاتھوں، کبھی آنکھوں، کبھی آنچلوں ، کبھی نظموں، کبھی شعروں سے چنتے ہوۓ بے قرار لوگ کس کے عزادار ہیں ؟ نہ یہ عہدِ حُسین ہے نہ آشوبِ یذید اور نہ ہی سرزمینِ کربلا ۔۔ یہ تو آدھے بسے آدھے اُجڑے ہوۓ وہ شہر ہیں جن کے بسنے والے بھوک کی چکّی پییسنے میں ایسے گھن چکر بنے ہیں ان بے چاروں کو تو چند سجدوں کی سہولت بھی نہیں ملتی۔۔ پھر بھی سزا ختم نہیں ہوتی ۔ یہ زندگی کے عذابوں سے نظر چرا کر اس پبلک پارک میں اپنے بچوں کو سستی تفریح کے لیٔے لے کر آۓ ہوۓ لوگ زندگی نہیں تو موت کی بدصورتی کا نشانہ بن جاتے ہیں ۔۔ شاید انہی کے لیٔے کہا گیا ہے ۔۔۔ ذِلّتوں کے مارے لوگ !
دِل چاہتا ہے کہ اُن گاتی لہلہاتی چڑیوں کو بھی پُرسہ دوں جو گلشن اقبال کے درختوں پر اس شاخ سے اُس شاخ اٹھکیلیاں کرتی پھرتی تھیں ۔۔اور وہ پارک کی روشوں پر ٹھمک ٹھمک چلتی بطخیں جن کے عقب میں اُن کے نرم نرم بچوں کی قطاریں چلتی تھیں اور معصوم بچے اُن کی طرف لپک لپک جاتے تھے ۔۔ اور وہ سُرخ ،گلابی، سفید، پیلے خوبصورت پُھول ۔۔ لیکن ان دہایٔیوں کا کیا فایٔدہ ! عالمی تاریخ گواہ ہے کہ ’باردود‘ ، اس کے ’صنعت کار‘ اور ان کے آلۂ کار سب اندھے ہیں۔
اس پارک سے اتنی وابستگی کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ میری فیملی بھی ایک مدت سے اس کے آس پاس رہتی ہے ۔۔ پہلے جب امریکہ سے اور اب آسٹریلیا سے پاکستان جاتی تو ہم سب گھنٹوں وہاں واک کرتے اور بچے یہاں وہاں بھاگے پھرتے، تب امی ابو بھی حیات تھے ۔۔ بے شمار یادیں ہیں ۔۔ سعید سے شادی ہوئی تو لاہور جاتے ہی انہیں بھی لے کرگئی،بہت سی تصویریں بنایٔیں ۔ پارک سے وابستہ یادوں کی باتیں کیں۔ بالکل اُسی طرح جب ہم پیرس گیٔے اور وہاں کی شانزے لیزے سٹریٹ پر مَری کی مال روڈ کو یاد کرتے رہے۔۔ پارک تو اب بھی یقیناَ وہیں رہے گا ۔۔ لیکن موت کے خوف کی علامت بن کر۔۔۔ !
مجھے اب بھی اُن چند لمحات کی ہیبت نہیں بھولتی جب مَیں نے ٹی وی پر یہ خبر سُنی اور خیال آیا کہ میری بہن کی بیٹی آئمہ، جو مجھے اپنی بیٹی جیسی عزیز ہے وہ تو روز اس پارک میں جانے کی ضد کرتی ہے اور اتوار کے دن تو وہاں بہت وقت گزارتی ہے ، وہ خیریت سے ہو، اُن کا گھر بھی کم و بیش دو سو میٹر کے فاصلے پر ہی ہے ۔۔ خبر سُننے سے فون ملانے تک اور لاہور سے فون اُٹھانے تک گویا ایک صدی لگ گیٔ۔۔ اللّہ کا شکر ہے کہ وہ دھماکہ سے دو گھنٹے پہلے ہی اپنے باپ کے ساتھ گھر لوٹ آئی تھی ۔
لیکن وہ مایٔیں جن کے بچے اب کبھی گھر نہیں لوٹیں گے ۔۔۔ وہ باپ جو اکیلے ہی گھر لوٹے ہوں گے۔۔ وہ گھر جن کی دہلیزوں پر خاندان کے کسی فرد نے قدم نہیں رکھا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اسی لیٔے قلم نہیں اُٹھا رہی تھی، جانتی تھی کہ آج کی کالم کہانی ایک نااُمید کہانی ہوگی ۔ لیکن ایڈیٹر صاحب کی شائستہ یاد دہانیاں اور احساسِ ذمہ داری نے مجبور کیا کہ چند سطریں کشید کر ہی لوں ۔۔ اگرچہ کئی سوال اُٹھتے ہیں کہ ہم تو اپنے باضمیر مشاہیر کی تقلید میں لوح و قلم لے کر معاشرے میں انقلاب لانے نکلے تھے ۔۔ عمر کی کئی دہایٔیاں گزر جانے پر بھی نہ تو انقلاب آیا نہ نظریات ہی زخم زخم ہونے سے بچ سکے ۔۔ کتنے ہی ماہ و سال گیٔے ۔۔ صفحے کے صفحے کالے کیٔے نہ اذنِ انقلاب مل سکا نہ خوۓ غلامی سیکھی۔ ایسی سیاہ دُھند میں
نہ ہو تو اور کیا ہو۔
اگرچہ دو تین روز سے ’پاناما لیکس‘ کا شور شرابہ ہے ۔۔ یہ دستاویز پوری تحقیق و تفتیش کے بعد منظر پرآئی ہیں اور ان کی سچائی میں کوئی شک نہیں ۔ اسے ڈاؤن لوڈ کیا ہے سو تفصیلی بات تو مکمل مطالعہ کے بعد الگ سے ہوگی ۔۔ یوں بھی ابھی تو پاکستان جیسے غریب مُلک کے حکمرانوں کے کروڑوں، اربوں اور کھربوں کے اثاثے شمار کرنے میں لگے ہیں ۔۔ کیا یہ اسی دھرتی سے تعلق رکھتے ہیں جس کے غربت و افلاس سے تنگ آئےہوۓ عوام اپنے بچوں سمیت خود کُشیاں کررہے ہیں ۔ ’پاناما لیکس‘ کو دیکھتے ہی محترم مُنّو بھائی کی ایک نظم یاد آگئی۔۔ کیسا کھرا سچ ہے،
احتساب دے چیف کمشنر صاحب بہادر
چوراں ، ڈاکوواں، قاتلاں کولوں
چوراں ،ڈاکوواں، قاتلاں بارے کی پُچھدے او
چوراں، ڈاکوواں، قاتلاں کولوں
منگیاں کدی ثبوت نیٔیں لبھدے
فایٔلاں وِچ گواچے ہوۓ بڑے بڑے کرتوت نیٔیں لبھدے
رَل کے مارے تے مِل کے کھادے ہوئے
لوکاں دیاں قبراں چوں قلبوط نیٔیں لبھدے
احتساب دے چیف کمشنر صاحب بہادر
ویسے تہانوں وی پتہ تے ہوناں اے
کہ وِیہہ کنالاں دی کوٹھی دے وِچ
پنج پجارو،چالیس کُتّے پَنجِیہہ نوکر، دَس کنیزاں کِتّھوں آیٔیاں
کِتھے لگیاں اے ٹکسالاں
دیس پراۓ بڑیاں چیزاں کِتھوں آیٔیاں
کِتھوں آیا چِٹاں پوڈر، کالی دولت کِتھوں آئی
کِتھوں آئے پرمٹ، لِیزاں کِتھوں آیٔیاں
احتساب دے چیف کمشنر صاحب بہادر
اَسیں وچارے بوہڑاں تھلے اُگّن والی گاہ دے تِیلے
دُھپ تے مِینہ نُوں ترس گیٔے آں
لکھ کروڑاں دا کی کہنا، دس تے وِیہ نوں ترس گیٔے آں
دَس تے ویح نوں ترس گیٔے آں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *