عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال کا پیسہ آف شور کمپنیوں میں کیوں ڈبویا؟ چشم کشا رپورٹ

imran imran

اسلام آباد - جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ایک سادہ مزاج آدمی ہیں۔ نظریاتی اور تنظیمی طور پر ایک منظم ترین جماعت کے امیر ہونے کے باوجود ان کے اندر کوئی کروفر نہیں۔ شاید اسی لئے جماعت کے نوجوانوں میں وہ کافی مقبول ہیں، لیکن استغنا کا بانکپن رکھنے کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ وہ سایسی فیصلے کرنے یا بیانات دینے کے معاملے میں کوئی زیادہ مشاورت یا سوچ بچار کے قابل نہیں، جس کے نتیجے میں ان کے کارکنوں کو بھی شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے اور پارٹی کو بھی۔ آپ بھی شرمسار ہوں، ہم کو بھی شرمسار کر۔ اسی طرح تحریک انصاف سے ان کے اتحاد کا معاملہ ہے۔ لگتا ہے وہ عمران خان اور تحریک انصاف کے عشق میں غیر ضروری طور پر مبتلا ہو گئے ہیں۔ چنانچہ اس باب میں بعض اوقات جماعت سلامی کے کارکنوں کو کچھ ایسی چیزیں بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں، جو جماعت اسلامی کے نظریے اور کلچر سے مطابقت نہیں رکھتیں، بلکہ سچ پوچھیں تو ان چیزوں کو بدلنے کے لئے ہی جماعت اسلامی کا وجود قائم ہوا تھا۔ سراج الحق کا تازہ بیان ہے کہ پاناما لیکس پر وزیراعظم استعفیٰ دیں۔ یہ مطالبہ دراصل سب سے پہلے تحریک انصاف نے اٹھایا اور بعد میں پیپلز پارٹی دبے پائوں شامل باجہ ہو گئی۔ اب پیچھے اس امام کے جماعت اسلامی بھی کھڑی ہو گئی۔ سراج الحق کا بیان اگر عدالتی کمیشن کی تشکیل کے اعلان سے پہلے آیا ہوتا تو شاید سیاسی حلقوں میں اس کی کوئی افادیت بھی ہوتی، لیکن وزیراعظم نے ہوشیاری سے بلا اپنے سر سے ٹال دی اور سپریم کورٹ کے کسی سابق جج یا چیف جسٹس کو اس کمیشن کا سربراہ بنانے کا اعلان کر دیا، جو پاناما لیکس میں وزیراعظم کے اہل خانہ اور دیگر پاکستانی افراد کے مالی معاملات کی تحقیق کرے گا۔ کمیشن کے اختیارات ظاہر ہے سزا و جزا دینے کے بھی ہوں گے۔ ورنہ صرف تحقیق کرنے سے تو کوئی فائدہ نہیں۔ ویسے سراج الحق کو وزیراعظم کے ساتھ ساتھ عمران خان سے بھی مطالبہ کرنا چاہئیے تھا کہ وہ پارٹی سربراہی سے استعفیٰ دیں، کیونکہ انہوں نے بھی شوکت خانم اسپتال کے چندے کی بھاری رقوم آف شور کمپنیوں میں لگا کے ڈبو دیں۔ یہ فیصلے کی غلطی تھی یا نیت کی خرابی، یہ اہم نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ شوکت خانم کو ملنے والی یہ رقوم عوام کی امانت تھیں اور انہیں اسپتال چلانے کے لئے ہی لیا گیا تھا۔ عمران خان کو اگر ان کا کوئی اور مصرف لانا تھا تو چندہ دینے والوں سے اجازت لینی چاہئیے تھی، جو ظاہر ہے انہوں نے نہیں لی اور یہ رقم بھی کروڑوں میں تھی، لیکن چند روپوں میں بھی ہوتی تو اس سنگین بد دیانتی پر عمران کو اسپتال منصوبے اور سیاسی جماعت کی سربراہی سے ازخود استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا، جو انہوں نے نہیں دیا۔ ان سے تو یہ تک نہیں ہوا کہ اس سنگین اور بھیانک مالی بدمعاملی پر قوم سے اور چندہ دینے والوں سے علی الاعلان معافی مانگ لیتے۔ سراج الحق کے لیے دراصل سب سے زیادہ حساس معاملہ صوبہ خیبر پختون میں تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنا ہے، اسے وہ اپنا بے بی سمجھتے ہیں اور اسے زندہ رکھنے کے لئے بہت سے معاملات پر سمجھوتہ بھی کر جاتے ہیں۔ مثلاً صوبہ خیبر پختون میں ان کے صوبائی وزراء کھلے عام شکایت کرتے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت انہیں اختیارات نہیں دیتی۔ عضو معطل بنا کر رکھتی ہے اور ان کی اہمیت مسلسل گھٹانے کے لئے کوشاں رہتی ہے، لیکن سراج الحق ان شکووں کو اہمیت نہیں دیتے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کراچی میں جماعت اور تحریک انصاف کا سیاسی اتحاد تھا۔ انتخابی مہم کے دوران تحریک انصاف کے اسٹیج پر سراج الحق، حافظ نعیم الرحمٰن اور جماعت اسلامی کے دیگر صالح افراد موجود تھے اور اسٹیج کے سامنے رقص و موسیقی کا ایک طوفان بے ہنگم جاری تھا۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو تحریک انصاف نے جس طرح سڑکوں پر نچایا، اسے ساری دنیا نے دھرنے کے دوران بھی دیکھا اور بعد میں بھی سب اس کے مظاہرے دیکھتے رہے۔ خود وزیراعلیٰ خیبر پختون دھرنے کے دوران رقاصی مہارت کے غیر معمولی زاویوں پر تھرکنے کا کھلا مظاہرہ کرتے رہے اور ان کے ہمراہ پی ٹی آئی کے ایک رہنما ہدایت کاری کے فرائض انجام دیتے رہے۔ لیکن سراج الحق پر ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ وہ مسلسل عمران خان کے عشق میں مبتلا رہے۔ 2014 میں سراج الحق نے عمران خان کے دعوں سے متاثر ہو کر جماعت اسلامی کراچی کے رہنمائوں کو ہدایت کی کہ اگلا سال الیکشن کا ہے ، کارکن بھرپور تیاری کریں۔ 2015 آیا اور گزر گیا، اب 2016 میں ان کا فرمانا تھا کہ اگلا سال الیکشن کا ہے۔ کارکن تیاری کر لیں۔ سوال یہ ہے کہ کارکن کتنی بار تیاری کریںَ کسی نے یہ پوچھنے کی ہمت بھی نہیں کی کہ امیر عالی مقام ! آپ نے تو 2014 میں بھی یہی فرمایا تھا۔ اس دعوے کا کیا ہوا؟ بے شک وزیراعظم نوازشریف اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور کمزوریوں میں کوئی کمی نہیں لاتے۔ بلاشبہ انہوں نے امریکہ سے غیر ضروری حد تک آس لگا رکھی ہے۔ بے شک وہ مغرب کو خوش کرنے کے لئے ممتاز قادری کو بھی پھانسی چڑھا سکتے ہیں، لیکن یہی سوالات تو عمران خان سے بھی کئے جا سکتے ہیں۔ ممتاز قادری کی پھانسی پر عمران خان اوت ان کی پوری جماعت ہونٹ سی کر بیٹھی رہی۔ وزیرآباد کے انتخابی معرکے میں پی ٹی آئی کے امیدوار محمد احمد چٹھہ کو سختی سے یدایت کی گئی تھی کہ تم نے انتخابی مہم میں ممتاز قادری کا ایشو نہیں اٹھانا، کیونکہ امریکہ اور برطانیہ ناراض ہو جائیں گے۔ حالانکہ اس ایک ایشو پر پیٹی آئی کا امیدوار محمد احمد چٹھہ جیت سکتا تھا۔ جماعت اسلامی اور سراج الحق سڑکوں پر چیختے رہے، لیکن تحریک انصاف دامن جھاڑ کر الگ ہوگئی۔ عمران خان دھرنے کے دوران بارہا حکومت گرانے کی ڈٰڈ لائن دیتے رہے۔ امپائر کی انگلی اٹھواتے رہے ، لیکن سب ٹائیں ٹائیں فش ہو گیا۔ تب کسی پارٹی رہنما نے عمران کو گوشمالی نہیں کی کہ آپ کی غیر ضروری مہم جوئی سے پارٹی کا امیج اور ووٹ بینک تباہ ہو گیا۔ آپ استعفیٰ دیں؟ کیا عمران نے امریکہ اور برطانیہ سے غیر ضروری آس نہیں لگا رکھی؟ ان کی رہائی میں برطانوی حکومت نے کیا کردار ادا کیا تھا۔ کیا اس پر مزید لب کھولنے کی ضرورت ہے؟ دھرنے کے دوران تحریک انصاف نے جس کلچر کو فروغ دیا۔ اسلامی تو کجا، کیا وہ پاکستانی کلچر کے کسی رخ کی بھی نمائندگی کرتا تھا؟ سراج الحق کو یہ ساری چیزیں نظر کیوں نہیں آتیں؟ اور آتی ہیں تو وہ کیا مجبوری ہے جس نے انہیں تحریک انصاف سے بلا نکاح باندھ رکھا ہے اور ساری جماعت سدھی ہوئی گائے کی طرح ناک میں رسی ڈلوائے پیچھے پیچھے چل رہی ہے؟ وزیراعظم اور ان کے خاندان نے جو کیا ، وہ تو وہ بھگتیں گے، لیکن سراج الحق جماعت اسلامی کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ کیا اس پر کوئی سوچتا ہے ۔ کیا جماعت اسلامی میں سیاسی ذکاوت رکھنے والوں کی کمی ہو گئی ہے؟ تھنک ٹینک ختم ہو گئے ہیں؟ مشاورت حرام قرار دے دی گئی ہے؟ حالات سے تو لگتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ اب تعالیٰ رحم کرے۔ وہ جماعت ، جو ساری دنیا میں تبدیلی لانے کے دعوے پر کھڑی ہوئی تھی۔ عمران خان کے اچلتے کودتے، ناچتے گاتے، بے ہنگم بے نتھے بیلوں کے پیچھے پیچھے چل رہی ہے۔ اس کے ایک ہاتھ میں مولانا مودودی کا عصا ہے اور دوسرے میں تحریک انصاف کی قصیدہ خوانی کا بگل۔ فاعتبر و ایا ا ولی الابصار:۔

Source: Daily Ummat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *