جھنگ کی زرخیز زمین اوربے رحم دریائے جہلم

 عبدالرّحمن حیدری

abdul rehman haidri
دریا جہلم کے پانی سے ہونے والے کٹاؤکے باعث میراخاندان اپنی آبائی زمینوں سے محروم ہو چکا ہے اور مزدوری کرنے کیلئے مل ،فیکٹری میں مزدوری یا اور ذریعہ معاش اپنانے پر مجبور ہے ،یہ کہانی ہے منڈے سید کے رہائشی شاہ حسین کی جن کی عمر پچاس سال ہے۔
وہ بتا تے ہیں کہ ان کا خاندان تقریبأچارمربع اراضی کا مالک تھا مگرپچیس سال قبل شروع ہونے والے زمینی کٹاؤ کی وجہ سے آہستہ آہستہ ان کی تقریبأ ساری زمین دریا کی نذر ہو گئیں اور ان کے پاس چند کنالیں زمین بچی ہے ۔ان کے مطابق دریائی پانی ہونے والے کٹاؤ کا یہ سلسلہ1992ۂۂ ؁ء میں دریا جہلم میں آنے والے سیلاب کے باعث شروع ہوا جس میں اب شدت آچکی ہے اور صرف پچھلے پانچ سال کے دوران پانچ ہزار ایکڑ ذرعی اراضی دریا کا حصہ بن چکی ہے ۔تحصیل اٹھارہ ہزاری کے زمیندار اس کٹاؤ کی بنیادی وجہ چشمہ جہلم لنک کینال کو قرار دیتے ہیں جو کہ سندھ طاس معاہدے کے بعد پنجاب کی زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے بنائی گئی جوکہ آٹھ رابطہ نہروں میں سے ایک ہے فی الوقت اس نہر میں سیلاب کے دنوں میں دریائے سندھ کا اضافی پانی چھوڑا جاتا ہے اور یہ نہر جوہر آباد کے مقام پر جہلم میں آ کر گرتی ہے کافی اونچائی سے گرنے کا سبب پانی کے سامنے کے مشرقی کنارے کو کاٹتا ہوا گزرتا ہے اور جب یہی پانی واپس مڑتا ہے تو مغربی کنارے کی زمینیں اس کٹاؤ کی ذد میں آ جاتیں ہیں یوں یہ سلسلہ ہیڈ تریموں تک چلتا ہے ،جہاں دریائے جہلم دریائے چناب کا حصہ بن جاتا ہے دریائے جہلم کے مغربی کنارے پر آباد مواضع جھوک بھڑانی،کڑھیانوالہ،جھاکی،چھوہن،کوٹملدیو،منڈے سید،کوٹلہ نیک احمد،جبکہ مشرقی کنارے پر واقع مواضع ساہجھر،چیلہ،اور گھگھیانہ اس کٹاؤ سے زیادہ متأثر ہوتے ہیں ۔
موضع کوٹملدیو کے زمیندار صفدر خان کے مطابق جن کی عمرچوتالیس سال جبکہ ان کے خاندان کا رقبہ تقریبأدو سو ایکڑکٹاؤ سے پہلے تھا
ان کے بقول گزشتہ دو سال کے دوران دوتہائی زمینیں دریا برد ہو چکی ہے،جبکہ خود ان کا تقریبأایک سو بیاسی ایکڑ رقبہ دریا کا حصہ بن چکا ہے انہوں نے بتایا گزشتہ چند سا لوں کے دوران موضع کی کچھ زمین دریا کے درمیان بیٹ کی شکل میں نکلی ہے لیکن کوئی زمینی راستہ میسر نہ ہونے کی وجہ سے کاشت کاری میں مشکلات پیش آرہیں ہیں زمیندار اپنے تجربے کی بنیاد پر بند تعمیر کرتے ہیں مگر تکنیتی غلطیوں کی وجہ سے تقریبأہر سال آنے والا سیلابی ریلہ بہا کر لے جاتا ہے۔ان کا خیال ہے کہ اگر حکومت انہیں تکنیتی مدد کیلئے ماہرین فراہم کر دے تو اس کے خاطر خواہ نتائج نکل سکتے ہیں اور بہت سی ذرعی اراضی کو دوبارہ قابل کاشت بنایا جا سکتا ہے
موضع کوٹلہ نیک احمد کے رہائشی کازمیندار محمد ظفر ان کا تعلق عمرانہ خاندان سے ہے اور ان کاقریبأچودہ ایکڑ رقبہ دریا جہلم کی نذر ہو چکا ہے کے مطابق لوگ اپنی مدد آپ کے تحت وہ کام کر رہے ہیں جو کہ حکومت کو کرنے چاہیئیں ،انہوں نے بتایا کہ مقامی لوگوں نے دریا کے اندر چھوٹے بند باندھنے کیلئے زمینداروں سے ہزاروں روپے فنڈ اکٹھا کیا گیا تاکہ دریا کو کوئی رخ متعین ہو جائے اور زمینی کٹاؤ میں کمی آئے ،تاہم انکے مطابق اس کام میں حکومت کو ان کی رہنمائی کرنی چاہیئے تاکہ سینکڑوں ایکڑ اراضی کو استعمال میں لایا جا سکے ۔
موضع منڈے سید کے چاہ باغ سے تعلق رکھنے والے محمدنواز خان جو کہ دریائے جہلم میں کٹاؤ میں شدت کے باعث کاشت کا رقبہ اور گھر مکمل طور پر دریا برد ہو چکے ہیں جس کے باعث اب وہ وہاں سے نکل مکانی کر چکے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ حکومت کیلئے دریا ئی کٹاؤ پر قابو پانا زیادہ مشکل نہیں اور نہ ہی اس کے لئے زیادہ سرمائے کی ضرورت ہے تھڑی سی توجہ اور کوشش سے دریا کے راستے میں بند باندھا جا سکتا ہے جس سے دریا برد ہنے والی زمین پر دوبارہ فصلیں اگانا ممکن ہو جائے گا ،ان کے مطابق حکومتی سطح پر متأثرہ زمینوں کے بچاؤ کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے تاہم اگر حکومت چاہے تو ایک خاص فاصلہ کے بعد دریا کے کناروں کو پختہ کیا جا سکتا ہے تا کہ مزیدپھیل نہ سکے اور اراضی بھی محفوظ رہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *