خفیہ کیمروں سے کیا دیکھا، واقعات کو کتاب کی شکل دے دی

news

نیویارک- جب آپ کسی ہوٹل میں قیام کے لیے جاتے ہیں تو سب سے پہلی چیز جس کی خواہش آپ کے دل میں ہوتی ہے وہ خلوت یا پرائیویسی ہے، مگر ضروری نہیں کہ ہر ہوٹل میں آپ کو پرائیویسی میسر ہو۔ عین ممکن ہے کہ ہوٹل کا عملہ آپ کو کسی خفیہ رخنے سے ہمہ وقت دیکھ رہا ہو۔ ایسی ہی ایک خبر امریکی ریاست کولوریڈو(Colorado) سے آئی ہے۔ برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق جیرال فوس (Gerald foos)نامی شخص نے اپنی بیوی ڈونا(Donna) کے ساتھ مل کر 1960ءکی دہائی میں 21کمروں کا ایک ہوٹل خریدا۔ انہوں نے کئی کمروں کی چھتوں میں ہوا کے نکاس کی جعلی چمنیاں لگا دیں، دراصل ان چمنیوں کامقصد کمروں میں ٹھہرنے والے مہمانوں پر نظر رکھنا تھا۔رپورٹ کے مطابق دونوں میاں بیوی ہوٹل میں آنے والے نوجوان جوڑوں کو ان کمروں میں ٹھہراتے تھے جن میں چمنیاں لگائی گئی تھیں۔ اس کے بعد 29سال تک دونوں میاں بیوی اپنے اس ہوٹل میں ٹھہرنے والے مہمانوں کو ان چمنیوں میں سے دیکھتے رہے اور کمروں سے دیکھے گئے واقعات کو تحریر کی شکل میں محفوظ بھی کرتے رہے۔1995ءمیں انہوں نے یہ ہوٹل فروخت کر دیا۔ اس وقت تک وہ ہزاروں جوڑوں کو قابل اعتراض حالت میں دیکھ چکے تھے اور ان واقعات کو قلمبند کر چکے تھے۔بالآخر ہوٹل بند کرنے کے بعد انہوں نے سینکڑوں صفحات پر مبنی وہ واقعات صحافی اور مصنف گے ٹیلیس(Guy Talese) کے حوالے کر دیئے جنہوں نے ان واقعات کو کتاب کی شکل دے دی ہے:۔ The Voyeur's Journalکے نام سے یہ کتاب رواں سال کے آخر تک مارکیٹ میں دستیاب ہو گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *