اعمال نامہ 

توقیر ساجد تقی 
toqeer sajid naqi
جرمنی کے شہر میونخ کے اخبار زیتوشے زائتونگ کے دفتر میں ایک شخص نے کال کی اور اپنی شناخت ظاہر کئے بغیر لاکھوں دستاویز کی سافٹ کاپی فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ یہ دستاویزات موزیک فانسیکا اینڈ کو فرم کے مین سرور سے چرائی گئی تھیں۔ موزیک فانسیکا اینڈ کو کا خفیہ ڈیٹا اخبار تک پہنچا ۔ اخبار نے ان دستاویزات کی تحقیق کیلئے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیشن جرنلزم کے ساتھ رابطہ کیا، اور دنیا کے 76 ممالک کے صحافیوں نے تحقیقات شروع کر دیں۔ جنہوں نے اپنی شبانہ روز محنت سے تحقیق کے بعد ان دستاویزات کی صداقت پر مہر ثبت کردی۔ 1977 میں پانامہ کے دو وکیلوں جارجن موزیک (Jurgen Mossak) اور رومن فانسیکا نے موزیک فانسیکا اینڈ کو کے نام سے لا فرم بنائی۔ ابتدائی دنوں میں یہ فرم صرف جرائم پیشہ افراد کیلئے آف شور کمپنیاں بناتی تھی۔ اسی کی دہائی میں پانامہ نے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے ٹیکس فری اصلاحات متعارف کرائی تھیں۔ جس کے تحت کوئی بھی شخص پانامہ میں اپنی کمپنی بناکر کوئی بھی کاروبار کرسکتا تھا اور بینکوں میں سرمایہ بھی محفوظ کرسکتا تھا۔ حکومت اس سے ذرائع نہیں پوچھتی تھی۔ موزیک فانسیکا اینڈ کو نے جرائم پیشہ افراد کو ترغیب دی، اور دھڑا دھڑ ان کے اکاونٹس بنائے۔ کالے دھن کو سفید کرنے والی اس قانونی فرم نے اتنی ترقی کی کہ آج یہ دنیا کی چوتھی بڑی لا فرم ہے۔ دنیا میں اس وقت فرم کے پچاس کے قریب دفاتر اور 500 اعلی پائے کے مستقل وکلا ہیں۔ اب اس کے کلائنٹس میں صرف مافیاز اور منشیات فروش شامل نہیں ہیں، بلکہ یہ اب دنیا جہان کے امرا کی لا فرم ہے۔ یہ ان کیلئے آف شور کمپنیاں بھی بناتی ہے۔ ان کیلئے عارضی دفاتر کا بندوبست بھی کرتی ہے۔ جعلی اسٹاف بھی بھرتی کرتی ہے۔ الغرض شائد ہی کوئی ترقی پذیر ملک یا ریاست ایسی ہو، جہاں اس فرم نے اپنے پنجے نہ گاڑھے ہوں۔ایک غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کی پورٹ کے مطابق امریکی حکومت کی طرف سے بلیک لسٹ کی گئی کمپنیوں کی طرف سے مدد کی جاتی تھی ایک آف شور کمپنی نے شام کے صدر اسد کو ائیر کرافٹ کیلئے تیل بھی فراہم کرنے میں مدد بھی کی ۔پاکستان سے تعلق رکھنے والی 200ایسی با اثر  شخصیات کے نام سامنے آچکے ہیں جن میں وزیر اعظم کے بیٹے حسین کا اعمال نامہ بھی سامنے آچکا ہے ۔ حسین نواز علی الاعلان یہ کہ چکے ہیں کہ جب مجھے جائز کمائی کو ٹیکسوں سے بچانے کا ایک جائز طریقہ نظر آرہا ہے تو میں کیونکر اسے اختیار نہ کروں؟یہ کہنا دراصل جرم کا اعتراف کرنا ہے مگر اس کے باجود وزیر اعظم کا یہ اصرار کہ کسی کے پاس ثبوت ہو تو وہ ان کے قائم کردہ کمیشن کے پاس چلا جائے وزیراعظم کا تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کا اعلان یہ قانونی صفائی کا وہ انداز ہے جو وزیر اعظم کو کسی تحقیقاتی کمیشن یا کمیٹی  یا عدالت کے روبرو اختیار کرنا چاہئے قوم کے سامنے وضاحت کا تاثر سوائے خود کو بچانے کیلئے بچوں کو قربانی کابکرا بنانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے آئس لینڈ کی عوام نے پارلمینٹ کا گھیرائو کیا اور وزیر اعظم کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا ۔پاک لینڈ میں بھی مخالفین کے تیور خطرناک نظر آرہے تھے اس سے پہلے عوام سڑکوں پر آتی وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کیا خود کو خاندان سمیت احتساب کیلئے پیش کر دیا جبکہ دوسری طرف برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا سیاسی مستقبل بھی خطرے میں ہے حالانکہ  ان کے اوپر براہ راست ان پر کوئی الزام نہیں ہے اور نا ہی پانامہ پیپرز میں ان کا نام شامل ہے بلکہ ان کے والد کا نام آیا ہے کہ جن کا اقتدار سے کوئی لینا دینا بھی نہیں ہے یہاں معاملہ قدرے مختلف ہے وزیر اعظم نواز شریف کے جن بچوں کا نام سامنے آیا ہے وہ نہ صرف ان کے سایہ عاطفت میں پروان چڑھ رہے ہیں بلکہ ان کے سرکاری دوروں میں بھی شامل ہوتے ہیں حتیٰ کہ فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں اس لئے وزیر اعظم خود کو اس سنگین معاملہ کی سنگینی سے خو دکو مبرا ہر گز قرار نہیں دے سکتا - اخلاقی تقاضہ یہ ہے کہ وزیر اعظم سمیت تمام پانامہ لیکس میں بے نقاب ہوے والے افراد جو بھی سرکاری عہدوں پر فائز ہیں آئس لینڈ کے وزیر اعظم کی طرح  اپنے عہدوں سے الگ ہوکر قانونی راستے سے الزامات کا دفاع کریں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *