پراکسی وار

ڈاکٹر عطاء الودود

Ata ullah wadood

کچھ عرصہ قبل را کے ایک ایجنٹ کو بلوچستان کے علاقہ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا ، گرفتاری کے دوران را کے ایجنٹ نے انتہائی چشم کشاء انکشافات کئے ہیں جن کے بعد سے الزام تراشیوں کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے ، کہیں کسی سیاسی خانوادے کی شوگر مل سے را کے مزید ایجنٹس کی گرفتاریوں کی خبریں باز گشت کر رہی ہیں جس کے بعد سے وہ سیاسی جماعتیں جن کے پاس عوام کے پاس پیش کرنے کے لئے کسی بھی قسم کا کوئی منشور یا پروگرام نہیں تھا اب را کے ایجنٹ کی گرفتاری کا چورن بیچنے پر کمر بستہ ہیں اخبارات کے کالمز خبر نامے اور ٹاک شوز کے لئے یہ معاملہ ایک ہاٹ کیک ہے اور اس معاملے پر ایسے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جا رہی ہے جیسے دشمن ملک کے ایجنٹ کو کسی خاص شخص نے مدعو کر کے ہی پاکستان کسی خاص مشن پر بلو ا یا تھا ۔
اس تمام بحث سے قطعہ نظر علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان اس وقت اپنی بقاء کی جنگ اس عفریت کے خلاف لڑ رہا ہے جس کے ہمدردوں کی ایک کثیر تعداد وطن عزیز میں اس وقت بھی موجود ہے اور اسے میڈیا اور حکمرانوں کی ناکامی ہی گردانا جا سکتا ہے کہ 60000سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع کے با وجود اور لاکھوں لوگو ں کے معذور ہو نے کے با وجود بھی اگر رائے عامہ مکمل طور پر آپریشن کے حق میں ہموار نہیں کیا جاسکا ۔
علاقائی صورتحال پر نظر رکھنے والے ایک ادنیٰ سے طالب علم کو بھی اس امر کا ادراک ہے کہ نائن الیون کے واقعہ کے بعد جب امریکہ بہادر نے افغانستان پر اپنے پنجے گاڑے تھے اس کے بعد سے پاکستان کا امن و امان متاثر ہونا تقدیر مبرم ٹھہر چکا تھا ۔ اس تناظر میں اگر کوئی لاعلم تھا تو وہ ہمارے حکمران تھے لیکن جب پانی سر سے اونچا ہونا شروع ہوا اور خودکش دھماکوں کا ایک سلسلہ پاکستان میں بھی چل نکلا تو حکمرانوں نے اپنے گرد توحفاظتی فصیلیں اور سیکیورٹی گارڈز کا ہجوم اکھٹا کر لیا لیکن عوام بیچارے دہشت گردوں کے نشانے پر آ گئے اور اس تمام صورتحال سے نپٹنے کا کوئی بھی لائحہ عمل واضح نہ کیا گیا ۔
یہ سلسلہ دسمبر 2014تک جوں کا توں چلتا رہا کہ ہر روز دھماکے کی خبر موصول ہوتی اس کے بعد حکمرانوں کے تعزیتی پیغامات اور دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑنے کے مضحکہ خیز بیانات میڈیا پر آتے اسی اثناء میں وہ واقعہ بھی رونما ہوا جو کہ عوام جنھیں کالانعام کہا جاتا ہے کو ان کی اوقات بتانے کے لئے کافی تھا جب ایک ملتان کے شہزادے نے CNNکو انٹرویو دیتے ہوئے باور کرایا جب ان سے طنز بھرا چبھتا ہوا سوال پوچھا گیا کہ تقریبا دو تہائی پاکستانی اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر انھیں بیرون ملک سکونت اختیار کرنے کا موقع ملے تو وہ اس پر تیار ہیں اس پر ہمارے ملتانی شہزادے نے مغلیہ سلطنت کے جاہ و جلال کو بھی مات دیتے ہوئے برجستہ جواب دیا کہ انہیں کون روک رہا ہے ؟ وہ پاکستان سے چلے کیوں نہیں جاتے ؟اس پر اینکر پرسن کی حالت بھی دنیا نے دیکھی کہ جو ہمارے شہزادے کو شرمندہ کرنے کے لئے یہ سوال پوچھ رہی تھی اور جاہ و جلال پر مبنی دندان شکن جواب سنتے ہی وہ شرم سے ایسی پانی پانی ہوئی کہ پیشہ وارانہ مہارت کے باوجود بھی اس سے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھا جا سکا اور اس کے چہرے پر حیرت اور غصے کے تأثرات عیاں تھے کہ ایسے بھی حکمران ہوتے ہیں !
الغرض 2014دسمبر کے بعد جب دہشت گردوں نے درد و الم کی ایک عبرت ناک داستان رقم کی اور 100سے زائد پھولوں کو انتہائی سفاکیت اور درندگی کے ورلڈ ریکارڈ بناتے ہو ئے مسل دیا تو اس وقت بعض خام خیال یہ توقع کر بیٹھے کہ شائد اب پوری قوم یکسوئی سے افواج کا ساتھ دیتے ہوئے ایک مشترکہ مؤقف اور لائحہ عمل ترتیب دے گی لیکن افسوس اس کے باوجود داخلی طور پر ملک کو مکمل طور پر نہ تو مستحکم کیا جا سکا ہے اور نہ ہی عوامی سوچ میں کو ئی یکسوئی پیدا کی جا سکی ہے ۔
عوام کے انداز و فکر کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ عام آدمی کا نظریہ ہے کہ ملک میں ہونے والے ہر برے کام کے پیچھے یہود ، ہنود اور نصارٰی کی سازشیں کارفرماء ہیں اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ کچھ دشمن بھی سازشیں کر رہے ہیں اور ان کی وطن عزیز کے قیام کے روز اول سے ہی یہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان کو داخلی استحکام نصیب نہ ہو اور معاذاللہ یہ ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے جس کی واضح مثال را کا پکڑا جانے والا ایجنٹ ہے اور دوران تفتیش اس کے چشم کشا انکشافات ہیں کہ کس طرح بلوچستان اور کراچی میں را نے اپنے مضبوط نیٹ ورکس نہ صرف قائم کئے ہیں بلکہ وہ نیٹ ورکس پاکستان میں پوری طرح ٖفعال بھی ہیں ۔ لیکن ان تمام باتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دیکھا جائے کہ یہ یہود و ہنود کے ایجنٹس جو کہ مختلف لوگوں کو اپنا آلہ کار بنا رہے ہیں وہ کو ن لوگ ہیں ؟ یقیناًوہ ہمارے ہی ہموطن شہری ہیں جو کہ دشمنوں کہ آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور ہر خودکش دھماکے یا کسی سانحے کے بعد ایسی تنظیمات جو بظاہر نام تو مذہب کا استعمال کرتی ہیں بڑے طمطراق اور انداز فاخرانہ سے ان حملوں کی ذمہ داریاں قبول کر کے دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا  ہیں ۔
مشہور کہاوت ہے کہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے اسی کے مصداق جو کام اندرون خانہ پیدا ہونے والے دہشت گرد کر رہے ہیں اور مذہب کا نام استعمال کر کے عوامی ہمدردیاں بھی سمیٹ رہے ہیں وہ اہل فکر اور حکمران طبقے کے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں ہے کیوں کہ اس کے جو خطرناک نتائج آہستہ آہستہ ہماری سوسائٹی میں واضح تفریق کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں وہ کسی بھی طرح وطن عزیز کے لئے مفید نہیں ہے ۔ 1965میں رونما ہونے والی پاک بھارت جنگ کا اکثر اپنے بزرگان سے ذکر سنا ہے کہ اس وقت پوری قوم وطن عزیز کے دفاع کے لئے متحد تھی اور جنگ کے سترہ ایام میں کوئی ایک معمولی واردات بھی رپورٹ نہ ہوئی بلکہ عوام کا جوش و جذبہ دیدنی تھا اور وہ اموال اور جانوں کے نذرانے پیش کر کے فوجی جوانوں کے شانہ بشانہ وطن عزیز کے دفاع کے لئے متحد تھے آج اس جذبے کی کمی بڑی شدت سے محسوس ہو رہی ہے کہ ہم تفرقہ بازی ،قومیت ، لسانیت اور اسی نوع کے کئی دیگر امراض میں مبتلاء ہیں اور افسوسناک المیہ تو یہ ہے کہ اگر کوئی ہمیں ان امراض کے متعلق بتائے تو ہم ان امراض کی طرف دیکھنے اور ان کا علاج کرنے کی بجائے اسے ہی مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں ۔
سی پیک معائدہ ہو نے کے بعد سے کئی ایسے عوامل بلوچستان میں کار فرماء ہیں اور واقفین حال کا کہنا ہے کہ کئی مما لک کی خفیہ ایجنسیاں بلوچستان میں اپنی پراکسی وار لڑ رہی ہیں جن کی نشاندہی ہمارے پر عزم جرنیل صاحب نے بھی ان مما لک کو کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ اپنی اس پراکسی کو پاکستانی حدود سے دور رکھیں را کے ایجنٹ کی گرفتاری بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *