قبائلی علاقوں کی پولیس میں پہلی تین اقلیتی برادری خواتین کی بھرتی

Christian Woman

لنڈی کوتل -پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کی پولیس نے 3 خواتین اہلکاروں کو بھرتی کیا ہے، بھرتی ہونے والی خواتین کا تعلق مسیحی برادری سے ہے۔ حکام کے مطابق یہ بھرتیاں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے تھیں، لیکن صرف مسیحی خواتین نے ملازمت کیلیے درخواستیں جمع کروائیں، جبکہ کسی بھی مسلمان خاتون نے درخواست نہیں دی۔ حکام کو ملازمت کے اشتہار کے بعد 15 مسیحی خواتین کی درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ خیبرایجنسی کے ایک پولیس اہلکار خالد خان نے بتایا کہ ان خواتین اہلکاروں کی ذمہ داری طورخم سرحد سے گزرنے والی خواتین کی تلاشی لینا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ مختلف چھاپہ مار کارروائیوں میں بھی پولیس کی مدد کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی ادارے اگرچہ ملک کے دیگر حصوں میں خواتین اہلکاروں کی بھرتیاں کررہی ہیں لیکن قبائلی اضلاع میں خواتین درخواست دہندگان کی کمی کا سامنا ہے۔ ایک اور اہلکار کا کہنا تھا کہ 'ہم اس اقدام کو بارش کی پہلی بوند تصور کررہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ قبائلی پولیس میں بھرتی کے لیے مزید خواتین بھی درخواستیں جمع کروائیں گئیں'۔ خیال رہے کہ اس وقت قبائلی علاقوں کی پولیس میں لگ بھگ 4500 سے زائد اہلکار اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں جنہیں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں کی مدد بھی حاصل ہے۔ قبائلی پولیس کی بنیادی ذمہ داری مقامی سطح پر ہونے والے جرائم اور منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کرنا ہے، جبکہ فوج اور نیم فوجی اہلکار پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ پولیس میں بھرتی ہونے والی تینوں خواتین کو طور خم پر تعینات کرنے سے قبل 3 ماہ کی تربیت دی جائے گی۔

ان میں سے21 سالہ رفعت عابد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 'میں دوسری خواتین کی طرح گھر پر رہنا نہیں چاہتی جبکہ میں اپنے ملک اور خاندان کی مدد کرنا چاہتی ہوں'۔ پولیس میں بھرتی ہونے والی ایک دوسری خاتون 20 سالہ مہک غفار کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر ماہانہ7 ہزار روپے کماتے ہیں جو ان کی 12 افراد پر مشتمل خاندان کے لیے کافی نہیں ہے۔ خاتون نے کہا کہ 'آج میری زندگی کا بہت خوشگوار دن ہے کیونکہ ہمارا خاندان بہت غربت کا شکار ہے'۔ مہک کا مزید کہنا تھا کہ 'اب کم سے کم میرے بچے خاکروب تو نہیں بنیں گے، ہم 3 خواتین اپنے خاندان کے لیے بارش کی بوندیں ہیں'۔ پولیس میں شمولیت اختیار کرنے والی تیسری خاتون 22 سالہ نائلہ جبار کا کہنا تھا کہ 'میں ایک آدمی بن گئی ہوں اور جب سے میں نے اپنا گھر چھوڑا ہے تب سے میں خوش ہوں کہ میں اپنے خاندان کی مدد کروں گی' :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *