انانیّت

ashraf Gill
(اس تحریرکو پڑھنے اور سمجھنے کیلئے پاکستانی عینک کو اُتار کر امریکی عینک لگا نا ضروری ہے)
رات بھر مَیں خوب چین کی نیند سویا ہُوں۔کیونکِہ اُسے بھی میرے ساتھ صرف سونے کا شوق ہی نہیں بلکہ وہ مجبوراس کیلئے ۔ اگر وُہ میرے ساتھ نہ سو پائے‘ تو میرا سونا بھی بیکار ہے۔جاگتے ہُوئے میرا دماغ بیسیوں معمولی اور غیر معمولی خیالات میں مُبتلا رہتا ہے۔ اور کتنی ہی انواع کی سوچوں میں گُم۔یعنی جِن کے بارے میرا ذہن محو ہوتا ہے‘ وُہ یا تو گہری نیند سو رہے ہوتے ہیں‘ یا پھِر وُہ بھی کِسی اور کے خیالوں کا تانا بانا بُن رہے ہوتے ہیں۔اور یہ مُجھے فُضُول ہی بے کار اُلجھنوں میں اُلجھائے رکھتی ہے۔ آج رات مَیں کم از کم اِتنا تو سویا ہُوں کِہ مُجھے صُبح سویرے جماءِیاں نہیں آءِیں‘ اور طبیعت سُست بھی نہیں ہے۔حاجاتِ ضُرُوریہ سے فارِغ ہو کر دانتوں کی صفائی کی‘ ہاتھ مُنہ دھویا اور صوفے پر بیٹھ کر ٹی۔ وی۔ پر اپنا پسندیدہ پروگرام دیکھنا شُرُوع کر دِیا ہے۔آج چھُٹی کا دِن ہے اور بچّے ابھی تک سوئے ہُوئے ہیں۔ٹی۔ وی۔ کی آواز سُن کر بیگم بھی جاگ اُٹھی ہیں۔ ا ور باتھ رُوم کا اِستعمال کرنے کے بعد میرے ساتھ والے صوفے پر آ کر بیٹھ گئی ہیں اور میرے والا ہی ٹی۔وی۔ پروگرام دیکھنا شُرُوع کر دِیا ہے۔ چاہے اُنہیں پسند ہے یا نہیں!صُبح سویرے کبھی کبھی ہم دونوں کی دُعا سلام ہو جاتی ہے‘ مگر آج توصِِرف نظروں سے ہی سلام علیک ہوئی ہے۔شاید بیگم نے چُپ کا روزہ رکھّا ہُوا ہے۔مگر نہیں اِس چُپ میں بھی ایک راز ہے‘ جو تھوڑی دیر تک اِس راز سے پردہ اُٹھ جائے گا۔اب تو ہم دونوں گونگوں کی طرح ٹی۔ وی۔ دیکھتے جا رہے ہیں۔اور بہروں کی طرح سُن رہے ہیں۔بول اِس لئے نہیں رہے‘ کِہ کہیں مُنہ سے اُلٹی سیدھی بات نِکل گئی تو کوئی بحث مُباحِثہ نہ شُرُوع ہو جائے اور بڑھتے بڑھتے یہ صُورتِ حال جنگ کی شکل اِختیار نہ کر جائے۔اور سارا دِن کِرکرا اور بد مزہ نہ ہو جائے۔اِسی لِئے ہم دونوں نے چُپ رہنے میں ہی بہتری سمجھی ہُوئی ہے ‘ اور مُنہ پر تالا لگا رکھا ہے۔ ہم دونوں اِس چُپ کے روزے کو توڑ کر کوئی کفارہ ادا نہیں کرنا چاہتے۔
صُبح سویرے بیدار ہونے پر چاہے دُعا سلام نہ بھی ہو‘ پر پیٹ کی تواضُع تو لازمی کرنا ہی پڑتی ہے۔مگر ہم دونوں ایک دُوسرے کو کبھی کبھا ر دیکھ لیتے ہیں اور پیٹ پر پتھر سے باندھ رکھے ہوئے ایک دُوسرے کو دیکھ کر جھُوٹا مُسکرا بھی لیتے ہیں‘ مگر اپنی بھُوک کا حال کہنے سے قاصِر اِسلِئے ہیں کِہ بقول: ’جو بھی بولے۔۔۔وُہی۔۔۔‘ کے مِصداق اُسے ہی ناشتہ تیار کرنا پڑ جائے گا۔اِسلِئے ہم ایک دُوسرے کو اپنی جھُوٹی مسُکاتی نظروں سے دیکھ کر پھِر ٹی۔وی۔ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ اِسی دوران اگر کوئی بچّہ اُٹھ کر پُوچھے‘ کِہ آپ کیا پروگرام دیکھ رہے ہیں۔ تو ہمارا جواب اُن کے لِئے سوائے گھبراہٹ اور کُچھ نہیں‘ کیونکِہ ہمارا دھیان ٹی۔وی کی طرف کم اور ناشتے کی طرف زیادہ ہے‘ جِس کے کوئی آثار نہیں ہیں۔
بیگم کو پکّا یقین ہے کِہ اگر مَیں پُوچھُوں گا کِہ آج ناشتے کا کیا پروگرام ہے‘ تو ’جواب اُوپر والی مِثال والا ہی ہوگا۔ اُلٹا مُجھے ہی سوال کِیا جائے گا ‘ کِہ مَیں ہی ناشتہ بنا دُوں۔کیونکِہ میرا تو سَر درد سے پھٹا جا رہا ہے۔بیگم کو دراصل کِسی صُورت منظُور نہیں‘ کِہ وُہ چائے بنائے اور مَیں بیکار میں بیٹھا ٹی۔ وی۔ دیکھتا جاؤں۔یہ اُسکی ’انا ‘کو ٹھیس لگنے کے برابر ہے۔ وُہ مُجھے کہنے سے ےُوں بھی گُریز کرتی ہے۔ کِہ اگر اُس نے مُجھے ناشتے کے لِئے کہا تو کہیں یہ سُننا نہ پڑ جائے‘ کِہ تُم عورتوں کو اپنی ذُمے داری کا ذرا بھی پاس نہیں‘ کِہ صُبح سویرے یہ عورتوں کا ہی کام ہے کہ مردوں کے ناشتے کا اِہتمام کِیا جائے۔ بہر حال کوئی ایسی ویسی بات کہی نہیں‘ تو جنگ کی سِیاہ گھٹائیں صبح کے ایک خوشگُوار موسم میں نُمُودار ہونا شُرُوع ہو جائیں گی۔ اور پھرشِکوے شِکاءِیتوں کی مُوسلا دھار برسات شُرُوع ہو جائے گی۔لِہٰذا ہر قدم ناپ تول کررکھنا اورہر بات سنبھل سنبھل کر کرنا نہائیت ضُرُوری ہوتا ہے۔ورنہ اگر بیگم کے خِلاف کوئی بات بھُولے سے بھی ہو جائے‘ تو پھِر سُنےئے‘ ان سُنی ! یعنی وُہ وُہ باتیں جو ہمارے ماضی میں کبھی بھی وُقُوع پذیر
نہیں ہُوئی تھِیں۔اور بیگم کی زبانی حرف حرف صحیح لگ رہی ہیں۔اور اپنے کاموں کی فہرِست ہاتھ میں لِئے بغیر گردان شُرُوع: یعنی: کِہ وُہ سارا دِن کِس قدر مصرُوف رہتی ہیں‘ کھانا پکانا‘ برتن صاف کرنا‘ کپڑے دھونا‘ گھر کی صفائی کرنا‘ پودوں اور درختوں کو پانی سے سیراب کرنا‘ اُن پر سے فالتُو شاخوں کو کاٹنا‘ اور بھی کئی چھوٹے موٹے کام سرانجام دینے وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ہیں۔مُجھے تو پتہ ہی نہیں چلتا ہے کِہ کب دِن طُلوُع ہُوا اور کب غُرُوب‘ کب شام ہوتی ہے‘ اور کب رات گُذر جاتی ہے۔ آپ مردوں کو تو صِرف صُبح نَو بجے سے شام پانچ بجے کی ہی خبر ہوتی ہے‘ دفتر گئے‘ آئے‘ پکی پکائی مِل گئی‘ کھائی‘ ٹی۔وی۔ دیکھا اور سو گئے۔اُن کو اِس بات سے کوئی سروکار نہیں‘ کِہ اُس ’نَو سے پانچ‘ بجے میں مردوں کو اپنی’ انانیت‘ کو کِتنی مرتبہ زخمی کرنا پڑتا ہے۔ اور کِس کِس طریقے سے اپنی نوکری کو بحال رکھنے کے لِئے کیا کیا جتن کرنا پڑ تے ہیں؟
اب کُچھ کہنے کی بجائے سرد جنگ جاری ہے۔کبھی کبھار ایک دُوسرے کو دیکھ لیتے ہیں‘ مگر مُنہ سے کُچھ نہیں کہتے۔دونوں کے پیٹوں میں چُوہوں کا ناچ جاری ہے ۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کِہ ہم ایک دُوسرے کے لِئے رضاکارانہ طور پر ناشتہ تیار کر لیتے ہیں۔ ایسا کرنے میں بھی ایک قباحت ہے کِہ ہماری طبیعتوں میں بھی اِختلاف ہے‘ وُہ ایسے کِہ مَیں اگر چائے کو زیادہ آگ پر رکھ کر دُودھ کا رنگ نہیں بدلتا‘ تو بیگم کو بات کرنے کا موقع ہاتھ لگ جاتا ہے‘ کِہ آپ چائے ٹھِیک نہیں بناتے۔ اِس کے علاوہ وہ ٹو سٹ اور انڈا پسند کرتی ہیں‘ مگر مَیں کِسی خاص چِیز کا عادی نہیں ہُوں۔ کُچھ بھی مِل جائے‘ الحمد و لِّلہ۔ کِسی کِسی وقت ےُوں بھی ہوتا ہے کِہ مُجھے بیگم از خود ناشتہ تیار کرکے حیران بھی کر دیتی ہیں۔جیسے چائے کا پانی الگ سے اور دُودھ الگ گرم کرکے ٹرے میں ناشتے کے سامان کے ساتھ پیش کرتی ہیں‘ اور طبِیعت کو خوش کر دیتی ہیں‘اور ساری زِندگی کے گِلہے شِکوے دُور کر دیتی ہیں‘ مگر جب مُوڈ نہیں تو کُچھ بھی نہیں۔
ویسے اگر ناشتہ تیار کرنے کے بارے سوچا جائے‘ تو بالکُل آسان سا کام ہے۔ اور وقت بھی اِتنا خرچ نہیں ہوتا۔ گیس کا آٹومیٹک چُولھا گھر میں موجُو دہے۔بس بٹن ہی دبانا ہے‘ خود بخود آگ جل اُٹھے گی۔ چائے بنانے کے برتن میں پانی ڈالِئے۔ اگر دو آدمیوں کے لِئے چائے بنانی ہے تو دو کپ پانی ڈالِئے اور آگ پر رکھ دیجے۔تین پُڑیا چائے یا دو اڑھائی چمچ کھُلی چائے ڈال دیجے۔پانی کو اُبلنے دیجئے۔ جب پانی تقریباً ایک سوا کپ رہ جائے تو اُتنا ہی دُودھ اُسی اُبلتے ہُوئے پانی میں ڈال دیجے۔بس اِتنا یاد رہے‘ جب دُودھ ڈالیں تو پھِر اِدھر اُدھر نہیں ٹہلنا‘ (بمصداق: آگ اور بچے کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہئیے) کیونکہ اگر آپ کِسی اور کام میں لگ گئے‘ تو چائے کِسی وقت بھی اُبل سکتی ہے‘ اور اُبلنے سے چائے باہر گِر جائیگی۔ اور ساتھ ہی آگ ببُجھ بھی جائیگی‘ اور چُولھا بھی گندا ہو جائیگا۔اور صفائی کا کام بھی بڑھ جائیگا۔دو یا تین اُبال آ جائیں تو پھِر آگ کو مدھم کر دیجے اور مزید پکنے دیجے۔ اِسی ہی دوران ساتھ والے چُولھے پر ایک فرائی پَین میں حسبِ ضُرُورت انڈے فرائی کر لیں۔ اور آٹو میٹک ٹوسٹر میں ٹوسٹ بھی گرم کر لیں‘ تو لیجے صاحِب! چائے کے ساتھ ہی انڈے بھی تیّار۔ یہ صِرف پندرہ بیس منٹ کا کام ہے اور ناشتہ حاضر ہے۔اور اِس کام کے لِئے ہم ایک دوسرے کا اِنتظار کر رہے ہیں ۔ ہمیں تو ایک دُوسرے کے خُلُوص کا اِمتحان لینے میں شاید مزا آتا ہے‘ چاہے اِس اِمتحان کا کوئی نتیجہ کِسی کے فیل یا پاس ہونے کا بھی نہیں ہوتا ہے۔
بچّے بھی چھُٹّی کے دِن کی رات کو دیر تک سوتے ہیں۔ اِسلِئے اُن کے اُٹھنے کے اِمکانات بھی کم ہی ہیں۔ جس کا بھی بیگم کو ہی فاِئیدہ ہے ۔کیونکِہ اگر کوئی بچّہ جلدی اُٹھ جائے تو بیگم نے اُس کے لِئے تو کُچھ نہ کُچھ ضُرُور کرنا ہوتا ہے۔یعنی اُس کو ضرور پُوچھنا ہوتا ہے کِہ کِیا کھانا پینا ہے۔ اورایسا ہونے پر میرا بھی کام چل جاتا ہے۔ مگر آج اِس کے آثار کم ہی ہیں۔ کِسی بھی بچّے کے بیدار ہونے کا کوئی مُوڈ
نہیں ہے۔کیونکہ ہر طرف خاموشی ہے‘ سوائے ٹی۔وی۔ کی آواز کے۔جُوں جُوں دیر ہوتی جاتی ہے‘ ویسے ہی بھُوک کی رفتار بھی تیز ہوتی جاتی ہے۔اور ہم دونوں ہیں‘ کِہ اپنے آپ کو کِسی بھی حالت میں زیر نہیں کرنا چاہتے۔
مَیں نے کفارے کا ذِکر کِیا تھا۔ وُہ تو دراصل اُسی ہی دِن شُروع ہو گیا تھا‘ جب مَیں اپنے سپنوں کی رانی کو بیاہ کر خوشی خوشی گھر لے کے لایا تھا۔ جیسے میری جنّت مکانی ماں کہا کرتی تھی‘ کِہ ہم سب لوگ نوٹوں کی بارش کرکے لڑائی گھر میں لے کر آتے ہیں۔ میری ماں کی اِس بات پر مُحلّے کی نوجواں کنواری لڑکیاں میری ماں ( جو بے جی کے نام سے پُکاری جاتی تھیں) کو جواباً کہتی تھیں کِہ ’ بے جی! آپ اپنی شادی کروا کر دوسروں کو بیاہ شادی کے مساءِل سُنا کر حوصلہ شِکنی کرتی ہیں‘ اور شادی کے چکّر میں پڑنے سے روکتی ہیں۔۔تو پھِر اِس بات کے بعد سبھی ہی ہنسی مذاق میں گُم ہو جاتے۔
مَیں یہ بھی سمجھتا ہُوں‘ کِہ ریٹاءِرمنٹ کا وقت بھی از خود اِک مسءِلہ اور نیا تجُربہ ہے۔ بہرحال ہاتھ پاؤں کو چلتا پھِرتا رکھنا نِہایت ضُرُوری اور فاءِیدہ مندہے۔ اِس لِئے کُچھ نہ کُچھ کرتے رہنے سے ہی زِندگی بھی ساتھ دیتی ہے۔ یہ بات کرنے سے بیگم پر نفسیاتی اثر بھی پڑتا ہے ‘ ہار نہ ماننے کے مُترادِف ‘ وقت کی ضُرُورت ‘ اور حقیقت پر مبنی بھی ہے۔ایک اور بات بھی تجرُبے میں آئی ہے کِہ جب آپ دفتری کام کاج سے فارغ ہو جاتے ہیں‘ اور بھی کوئی کام نہیں کرتے‘ اور سِوائے روٹیاں توڑنے کے اور کچھ نہیں کرنا ہوتا۔ تو پھِر آپ پر ’بیکار بابے‘(بابا ویہلا) کی مِثل فِٹ آ جاتی ہے۔ اور گھر کا ہر اُلٹا سِیدھا‘ چھوٹا موٹا کام آپ کے ہی سُپُرد ہوتا ہے۔ اور بیوی کا نوکر بن کر بھی یہی طعنہ سُنو۔ کِہ مَیں سارا دِن کوئی کام ہی نہیں کرتا سوائے دِن بھر ٹی۔وی۔ دیکھنے کے‘ جب کِہ ایسا حقیقت میں ہوتا نہیں ہے۔ اور مُجھے ہی گھریلو کام سرانجام دینے میں کولہو کے بیل کی طرح مصروف رہنا پڑتا ہے۔ جو کہ در حقیقت سارادن چلتا تو رہتا ہے۔ اور لگتا ہے‘ کام کچھ کرتا نہیں۔ یعنی مُحترمہ سارا دِن کِسی نہ کِسی کام میں لگائے ہی رکھتی ہیں۔
آخِر یہ بات ہی طے شُدہ لگی‘ کِہ ناشتہ مُجھے ہی بنانا پڑیگا۔یہ ہم میں سے کِسی کی بھی تجوِیز نہیں‘ نہ ہی کوئی مُعاہِدہ ہے۔ بلکِہ ےُوں کہنا مُناسِب ہوگا۔ کِہ میری بھُوک جِیت گئی ہے‘ اور مُحترمہ کے چہرے پر بھُوک کا کہیں دُور دُور تک نام و نِشان نظر نہیں آتا۔اور نہ ہی ناشتہ تیّار کرنے کے آثار ہیں۔کیونکہ وہ بھی اپنی ضد کو سر انجام دینے میں مجھ سے زیادہ مہارت رکھتی ہیں۔
آجکل جب کِہ مجھ پر ریٹاءِرمنٹ کا وقت نازل ہو چُکا ہے ۔توانائیاں بھی جواب دینے کی جلدی میں ہیں۔ صِرف ناشتے کا کام ہی پکّا میرے نام نہیں لگا ہے‘ بلکِہ برتنوں کو دھونے کا کام بھی اب مُجھے ہی کرنا پڑتا ہے۔ بیگم صاحِبہ نے یہ سب دیکھتے ہُوئے کِہ مُجھ میں گھریلُو کام کرنے کی از حد صلاحِیت ہے۔ سالن بنانے کے لِئے پیاز کا تڑکا لگانا بھی سِکھا دِیا ہے‘ اور ساتھ میں دلیل یہ دی ہے کِہ کِسی وقت اگر وُہ گھر میں نہ ہوں تو مُجھے کھانا پکانے میں آسانی رہے۔مَیلے کپڑے مشِین میں دھونے اور پھِر دھُلے ہُوئے کپڑے ڈرائیر میں سُکھانے کا کام بھی مُجھے کرنے میں اب کوئی عار نہیں رہی ہے۔ جبکِہ اِن سب چِیزوں کا نوکری کرنے کے زمانے عِلم تک بھی نہیں ہوتا تھا۔ اور ہر چِیز بِن مانگے‘ بِن چاہے ہی اپنے وقت پر مُہیا ہو جایا کرتی تھی۔ان کاموں کے علاوہ بھی بیگم کوئی نہ کوئی چھوٹا موٹا کام نِکال ہی لیتی ہے‘ یعنی درختوں کی فالتُو شاخیں کاٹنا‘ پودوں کو پانی دینا‘ گھر کی جھاڑ پُونچھ‘ یہ سب معمُول کے کاموں میں شامِل ہو چُکے ہیں۔بیگم کی ’انا‘ سے مُجھے یہ فاءِیدہ تو ضُرُور ہُوا ہے۔ کِہ میری ہڈیاں کمزور ہونے اور جِسم بیکار بیٹھ کر زنگ آلُود ہونے سے کسی حد تک بچ گیا ہے۔مگر وُہ یہ نہیں جانتِیں‘ کِہ ایسا بھی تبھی مُمکِن ہے۔ جب تمام جِسم کے جوڑ اپنی صحیح حالت پر کام کر رہے ہوں۔ مگر اُن کو یہ جاننے کی چنداں ضُرُورت نہیں ہے۔کیونکِہ اُن کو ایک مُفت کا منفعت بخش نوکر نُما خاوند مُیّسر ہو گیا ہے۔
اِس ساری بحث و تمحیص کا نتیجہ یہ نِکلتا ہے‘ کِہ اپنے گھر میں ’انا‘ نام کی چیز کا کوئی کام نہیں ہونا چاہیے۔ اگر اپنے اُصُولوں میں لچک پیدا نہیں کروگے‘ توصِرف روٹی کھانے کے ہی لالے نہیں پڑ جائینگے۔بلکِہ دیگر ضُرُوریاتِ زِندگی کو بھی ترسو گے جِن پر تُمہارا حق ہے۔بچوں کو کُچھ سمجھانے کے لئے لمبا لیکچر دوگے‘ تو اُن کو اپنے سے دُور ہوتا پاؤگے۔ رِشتے داروں کے ساتھ اپنے اُصُول برتو گے ‘ تو مغرُور کہلاؤ گے۔دوستوں کو اُن کی بے جا اخلاقیات کا درس دو گے‘ تو دوستی سے جاؤگے۔ اور تنہائی کاٹوگے۔ لِہٰذا اِعتدال پسندی سے کام لینے کی کوشِش کرو اگر کر سکو تو۔ اور وُہ بھی تو مُمکِن نہیں ہے‘ کیونکِہ تُم نے اپنی زِندگی کِسی کے بل بوتے پر جِینے کا سبق ہی نہیں سِیکھا ہے۔اِس لِئے اب یہ تُم پر مُنحصِر ہے کِہ اپنی آخری عُمر کیسے کاٹنی ہے۔ کانٹوں پر‘ یا پھُولوں پر‘ اور یہ سب کیسے مُمکِن ہو۔۔۔۔اِس سوال کا جواب میرے پاس تو نہیں ہے۔ اگر آپ کے پاس کُچھ بھی ہو ‘ تو مُجھے ضُرُور بتائیے۔۔۔مُنتظِر ہُوں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *