مکمل سچ

abbas nasirعباس ناصر

ناز و ادا سے ٹویٹ کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو ذمہ دار پنجاب حکومت ہو گی۔ وہ مہلک لشکرِ جھنگوی کی جانب سے اپنے لئے جاری ہونے والی ایک دھمکی کے بعد عوام کو مطلع کر رہے تھے۔
بچے کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت سے متعلق کوئی دورائے نہیں ہو سکتیں۔ ہرچند کہ آپریشنل وجوہات کی وجہ سے دہشتگرد شاید (لشکر جھنگوی کی بجائے)کوئی مختلف نام استعمال کریں، مگر ملک میں موجوددہشتگرد گروہوں کا اتحاد بچے کو اپنے اہداف کی فہرست میں سب سے اوپر رکھتا ہو گا جیسا کہ وہ اس کی والدہ کو بھی قتل کر چکے ہیں۔ بلاول دہشتگردوں کے متعلق وہی زبان بولتے ہیں جو ان کی والدہ بولا کرتی تھیں۔
دہشتگردوں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں سے بے نیاز، بے نظیر بھٹو اپنے آخری دن تک ان کے خلاف غضبناک اور ثابت قدم رہیں۔ جلاوطنی سے واپس آتے ہی اکتوبر2007ء میں قتل کی ایک جان لیوا کوشش سے بال بال بچنے کے باوجود یہ عوامی مؤقف قابل تعریف تھا۔
لیکن چند ہفتوں بعد، اسی برس دسمبر میں دہشتگرد انہیں قتل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔بنیادی طور پر یہ ان کا قتل اوراس کے ردعمل میں پیدا ہونے والا خوف اور غصہ ہی تھا کہ جس نے آئندہ برس کے آغاز میں ہونے والے انتخابات میں ان کی پارٹی کو جتا دیا تھا۔
اس وقت بلاول بھٹو زرداری ایک دکھی فرزند اور بیرون ملک زیر تعلیم طالب علم تھے۔ لہٰذا شاید ان کے اس علم میں کوئی خلاء ہو کہ اس کے بعد کیا ہوا تھا جب پی پی پی نے مرکز اور تین صوبوں میں ایک اتحادی حکومت قائم کر لی تھی۔ان کے سیاسی قائدین اور رہنماؤں نے شاید ساری کہانی ان سے چھپا کر رکھی ہے۔
لشکر جھنگوی کی تازہ ترین دھمکی موصول ہونے کے بعدپنجاب حکومت کے متعلق ان کے طنزیہ بیان کا مقصد اس بات کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرانا تھا جو اب ملک کا ایک مقبول عام راز بن چکی ہے: اور وہ یہ کہ پنجاب حکومت صوبے کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنی جماعت کے کچھ رہنماؤں، بیوروکریٹس اور کچھ سینئر پولیس افسران کے ذریعے مسلح گروہوں سے معاہدے کر چکی ہے۔لہٰذا پی پی پی کے رہنما پی ایم ایل این کے گزشتہ دور پنجاب حکومت اور موجودہ دور کے متعلق اس کے دہشتگردوں سے اس معاہدے پر اسے ہدف تنقید بنانے میں حق بجانب ہے۔پی ایم ایل این نے مبینہ طور پر وسیع پیمانے پر یہ معاہدے اپنے ووٹ بینک کے علاقے کو دہشتگردوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لئے کئے ہیں۔
پی ایم ایل این کے سرکردہ ناقدین یقین رکھتے ہیں کہ یہ لین دین دہشتگردوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے اور انہیں دوسرے علاقوں میں کارروائیاں کرنے کا محفوظ راستہ دینے اور اپنے ووٹ بینک کے علاقے کو ان سے محفوظ رکھنے سے متعلق ہے۔
جبکہ صرف صوبے میں مؤثر کنٹرول کی حد تک بھی ، اس معاہدے کے درست یا غلط ہونے پر بحث ہو سکتی تھی، لیکن اگر کوئی چیز مزید بدتر ہو گئی ہوتوپھراس صوبے میں شہریوں کی زندگی، جسم اور مال کا ذمہ دار صرف وہی معاہدہ ہوگا۔ اب پی ایم ایل این مرکزی حکومت کی سربراہی بھی کر رہی ہے لہٰذا اس کی ذمہ داری میں آنے والا علاقہ وسیع ہو چکا ہے۔جہاں تک دہشتگردوں سے مک مکا کرنے کی بات ہے،چند علامات نے اس خیال کو جھٹلایا ہے اور یہ بتایا ہے کہ ن لیگ اس حقیقت سے باخبر ہے کہ اس کی ذمہ داری وسیع ہو چکی ہے۔
یہ پنجاب کی تصویر ہے اور بلاول اس سے باخبر لگتے ہیں۔ تاہم،کیا وہ اس آگاہی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھائیں گے کہ اس کے علاوہ دیگر علاقوں جیسا کہ بالخصوص بلوچستان اور کراچی میں اور بالعموم سندھ میں اس وقت کیا ہوا جب ان کی اپنی جماعت برسر اقتدار تھی؟
وہ یقیناً یہ آگاہی رکھتے ہوں گے۔ کیا وہ جانتے ہیں کہ لشکر جھنگوی کے خلاف خود ان کی اپنی جماعت کا کردار کس قدر مایوس کن تھا؟ اگر وہ جانتے ہوتے تو شاید وہ آج پی ایم ایل این کو ہدف تنقید نہ بنا رہے ہوتے۔ یہی وہ وقت ہے کہ جب بلاول بھٹو کو اپنے حوالہ جاتی مواد کا اچھا استعمال کرنا چاہئے۔
تمام سیاسی جماعتیں تحقیق اور حوالے کی سہولیات رکھتی ہیں۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ بلاول اپنے محققین میں سے کسی ایک سے کہیں کہ انہیں وہ فائلیں تاریخ وار لا کر دیں جن کے مطابق پی پی پی کی بلوچستان حکومت نے ہزارہ شیعہ کمیونٹی کے خلاف لشکر جھنگوی کو قتل عام کے لئے کھلا میدان فراہم کیا۔
درجنوں واقعات میں نہ صرف سینکڑوں ہزارہ شیعہ زبح کر دئیے گئے، بلکہ یہ بھی عام تاثر ہے کہ پی پی پی کے وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کا آبائی قصبہ مستونگ، لشکر جھنگوی کے قلعے کا کام کرتا تھااور یہاں بیٹھ کر وہ آزادی سے اپنی کارروائیوں کو کنٹرول کرتے تھے۔
سندھ کی ہزاراہ کمیونٹی کراچی بھی ایک انتہائی افسوسناک تصویر پیش کرتی ہے۔ہاں، کراچی میں گند صرف پی پی پی کا پھیلای ہوا نہیں ہے۔ ایم کیو ایم اور ملٹری انٹیلی جنس سروسز کا حصہ زیادہ ہے یا کم از کم پی پی پی کے برابر ضرور ہے۔ لیکن پی پی پی کو ان دونوں عوامل کواپنی بے عملی یا ناکامی کے بہانے یا توجیہ کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہئے۔
پی پی پی کے نوعمر رہنما کے لئے سب سے زیادہ ضروری امریہ ہے کہ وہ اپنے سابقہ اور موجودہ ادوار میں لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کی جانب سے قتل کردہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شیعہ کارکنوں کے اعدادوشمار منگوا کر دیکھیں۔اپنے وزراء اور افسران سے ان اقدامات کے متعلق پوچھیں جو انہوں نے اب تک شہر میں کام کرنے والے فرقہ ورانہ دہشتگردوں پر کریک ڈاؤن کرنے کے لئے اٹھائے ہیں۔
ایک ایسے ملک میں کہ جہاں مذہبی جنگجوئی کے متعلق (ن لیگ کے)رویوں اور حکمتِ عملیوں پر خوف کا عنصر غالب ہو ،(پاکستان تحریکِ انصاف پر) نظریاتی لگاؤاور غیر مصدقہ وغلط عقائد یا نظریات چھائے ہوئے ہوں، (پی پی پی کی جانب سے)مسائل کو حل کرنے سے متعلق اپنی قطعی نااہلی کے باوجود اپنے حق بجانب ہونے کی لاعلمی اور دوسروں کے بے ایمان ہونے پر غصے کا مظاہرہ کیا جارہا ہواور (فوج کی جانب سے) تباہ کن سٹریٹجک گہرائی کے ذریعے دشمن کی سرزمین پر کم قیمت جنگ مسلط کرنے کے نظریات اپنائے جارہے ہوں، وہاں کسی بھی شخص کو روزانہ کی ہلاکتوں اور انارکی، جو کہ اب تقریباً تمام پاکستانیوں کی زندگیوں کا حصہ بن چکے ہیں، پر آخر کیوں حیران ہونا چاہئے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *