سیاسی بیانیے کا استعمال

photo Imran Karimعمران کریم
قریبا ایک صدی پیشتر جب برصغیر کے مسلمان مغربی علوم وافکاراور مادی ترقی سے مرعوب ہونا شروع ہوئے تو ہماری اس وقت کی intelligentsia کی مغربی ترقی کے اسباب جاننے میں دلچسپی پیدا ہونی شروع ہوئی اور وہ اس نتیجہ پر پہنچی کہ مغرب کی بے مثال ترقی کی وجہ ان کا اپنی آئیڈیالوجی کو نظام کی شکل میں مربوط کر لینے میں مضمر ہے اور ان کا سیاسی غلبہ ، علمی اور صنعتی کامیابیاں اسی نظام کی مرہون منت ہیں۔ چنانجہ اسلام کو بطور نظام معاشرہ متعارف کروانے میں سرسید احمد خان اوربعد میں غلام احمد پرویزوغیرہ نے جدید تعبیرات اختیار کیں جو عوام میں قبولیت سے عموما محروم رہیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہییہ ایک بیانیے کا حصہ ہے۔ دین کی اس تعبیرکا ایک سیاسی اور سماجی پس منظر ہے، یوں کہہ لیجیئے کہ یہ تعبیرحسن نظریہ ضرورت کی کوکھ سے برآمد شدہ ہے ۔ ہمارے دین کامل میں اصلا مخاطب فرد ہے اور مقصد انذار،کہ ایک دن ہم سب کو مالک کائنات کی بارگاہ میں اپنے اپنے اعمال ہاتھ میں لئے حاضر ہونا ہے ۔ گروہ، قبائل اور معاشرے وجود پذیرہونے کہ بعد گرچہ احکامات دین کے پابند ہیں لیکن روز جزا و سزا احتساب کی نوعیت بہرحال شخصی ہی ہے۔رائج دینی ڈھانچے میں اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے کا پیوند لگانے کا اصل سہرا مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے سر ہے 60/70 کی دہائی سیجماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے اسے باقاعدہ عوام الناس تک پہنچانا شروع کیا گیا اور طلبا کی تنظیم جمیعت اس کا پرچار کرنے میں پیش پیش رہی ۔ اس وقت مذہبی اکابرین کے نزدیک کیمونزم کی بڑھتی ہوئی یلغاراحیائے دین ، دعوت کے کام اور ڈکٹیٹر حکومتوں کے لئے ایک بڑا خطرہ بن سکتی تھی- موددی صاحب کی فکری بنیاد " دنیا میں انبیاء کے مِشن کا مُنتہائے مقصود یہی رہا ھے کہ حکومتِ اِلٰہیہ قائم کر کے اُس پورے نظامِ زندگی کو نافذ کردیں جو خدا کی طرف سے ان پر وحی کی صورت میں نازل ہوا تھا" کو ان حالات میں کیمونزم کے جوابی بیانیہ کے طور نہ صرف دین دارحلقوں میں پزیرائی حاصل ہوئی بلکہ بعض مملکتیں بھی اس نظریے کی حمایت میں کمر بستہ ہوگئیں- اس نئے بیانئے نے پاکستان، سعودی عرب، سوڈان، الجزائراور مراکش میں غلبہ دین کی جدوجہد کی داغ بیل ڈالی جو رفتہ رفتہ مسلح لشکروں کی شکل اختیار کر گئیں۔پاکستان میں پیپلز پارٹی جس کا نظریاتی خمیردرحقیقت کارل مارکس کے افکار سے مستعار لیا گیا تھا اوروہ مغربی پاکستان سے انتخابات میں روٹی کپڑا اور مکان کا نعرا لگا کر کامیاب ہوئی تھی، وہ بھی اس اس نئی مذہبی تعبیرسے خوف زدہ ہوئے بغیر نہ رہ سکی- بھٹو عوام کی نبض ماپنے میں ایک حاذق طبیب تھے اور انہوں نے اپنے مارکسی نظریات کوبلا ججھک اسلامی مساوات کے نام سے مشرف بہ اسلام کرلیا اور سیاسی محاظ پر مذہبی جماعتوں کو بیک فٹ پر لا کھڑا کیا۔ بھٹو کی یہ کامیابی عارضی ثابت ہوئی اور ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اس تعبیر دین کو 1977 میں ہائی جیک کر لیا - جہاد افغانستان میں امریکہ نے اس بیانئے کو اپنی دولت اور جدید ٹیکنالوجی سے سینچا اور ثمرات د ونوں ہاتھ سے وصول کیے یہ الگ بات ہے کہ مغرب اور موحودہ اسلامی ممالک کو اب یہ تعبیر ہرگز قابل قبول نہیں اورہم اپنے ہاتھوں سے لگائی ہوئی گرہیں دانتوں سے کھولنے میں ہمہ تن مصروف ہیں آج کل متبادل مذہبی بیانیے پر ہمارے ارباب عل و عقد سر حوڑے بیٹھے ہیں اللہ انہیں وقتی مصلحتوں سے دور رکھے اور دین کی صحیح تعبیر اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *