گرے ٹریفکنگ سے قومی خزانے کو سالانہ ایک ارب ڈالرزتک کا نقصان

grayپچھلے دو سالوں کے دوران انٹرنیشنل ان کمنگ کالوں کے حجم میں ریکارڈ کمی آئی ہے، اور یہ دو ارب منٹس فی مہینہ سے کم ہو کر پچاس کروڑ منٹس فی مہینے رہ گئی ہے۔ اس کی وجہ گرے ٹریفکنگ کے بڑے پیمانے پر فروغ دینے کے لیے غیرقانونی ٹیلی فون ایکسچینجز کا استعمال ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ایک اہلکار کے مطابق گرے ٹریفکنگ کی بڑی وجہ انٹرنیشنل کلیئرنگ ہاؤس (آئی سی ایچ) ہےجسے پیپلزپارٹی کی حکومت نے اکتوبر 2012ء میں قائم کیا تھا۔ تاہم موجودہ حکومت نے بھی اس رجحان کو تبدیل کرنے کے لیے کوئی خاص اقدام نہیں اُٹھایا۔
پی ٹی اے کے اہلکار نے بتایا کہ سابق سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی فاروق اعوان نے آئی سی ایچ کا خیال پیش کیا تھا، اور بعد میں بطور پی ٹی اے کے چیئرمین اس انتہائی متنازعہ فیصلے پر عملدرآمد کیا تھا۔
آئی سی ایچ کے تحت تمام ٹیلی فونک ٹریفک پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے اختیار میں آتی ہے۔ تمام 14 طویل فاصلے اور بین الاقوامی (ایل ڈی آئی) کے ہولڈنگ آپریٹرز نے ایک کنسورشیم تشکیل دیا، جسے ایک معاہدے کے تحت پی ٹی سی ایل نے ان کمنگ ٹیلی فون ٹریفک کے بدلے میں اس آمدنی میں حصہ دار ہوں گے۔
وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان تسلیم کرتی ہیں کہ یہ ایک ناقص فیصلہ تھا، جس کے تحت ایل ڈی آئی آپریٹرز کے ساتھ معاہدے کے تحت آئی سی ایچ کی تشکیل دی گئی، لیکن وہ کہتی ہیں کہ پی ٹی اے میں بعض نے دلیل دی تھی کہ حکومت کو موصول ہونے والی رقم میں ایک سال کے اندر اضافہ ہوا تھا، اسی وجہ سے اس انتظامات کو جاری رکھنا چاہیٔے۔انہوں نے کہا کہ ’’میں نے وزارتِ خزانہ کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ آئی سی ایچ کے حقیقی مالی اثرات کا تعین کرنے کے لیے کہا ہے۔ آئی سی ایچ کے مستقبل کا فیصلہ نتائج موصول ہونے کے بعد کیا جائے گا۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *