پانامہ پیپرز۔۔۔ ابھی تو ایک ڈھکن کھلا ہے!

khalid mehmood rasool
طوفان اٹھانے میں مہارت ہو تو یار لوگ چائے کی پیالی میں بھی طوفان برپا کر لیتے ہیں۔ ایسے میں بھولے بھٹکے سے کہیں اصل طوفان آ نکلے تو یا ر لوگوں کے تو وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ پانامہ پیپرز کی صورت میں جو طوفان وارد ہوا ہے، اس کی گرج چمک یوں تو دنیا بھر میں سنائی اور دکھائی دی لیکن اپنے ہاں اس کی گھن گرج کچھ نیاری ہی تھی۔ گرج ایسی کہ دل دہل جائیں، چمک ایسی کہ دھڑکا لگا رہا کہ ابھی کہیں بجلی گری کہ گری۔ پارسا اور سچائی کے پیکر بیشتر اینکرز سنبھالے نہیں سنبھلتے۔ ایک ایک پائی کے حساب پر بضد، ایک ایک پونڈ کے قدموں کے نشان ڈھونڈنے پر کمر بستہ۔ لہجوں میں تلخی پہلے کیا کم تھی کہ اب الفاظ بھی زہر میں بجھے ہوئے ہیں۔ ایک تو موضوع کی گرمی، اس پر مستزا د ریٹنگ کی دوڑ، بحث و تمحیص میں الزامات اور سوالات کی بوچھاڑ میں کئی دیگر اہم سوال کھو گئے۔ وزیر اعظم کی فیملی پر دھنا دھن توجہ سے دیگر دو سو افراد کا ذکر ہی گول ہو گیا جنھوں نے اس بہتی گنگا میں اسی طرح ہاتھ دھوئے ۔
پانامہ پیپرز آشکار ہوئے تو مطالبہ ہوا کہ وزیر اعظم اپنی پوزیشن کلئیر کریں۔ انھوں نے قوم کے سامنے آ کر اپنی سی وضاحت کر دی۔ دامن جھاڑ کر دکھا یا جس میں بجز مخالفین کے انتقام اور ان کے خاندان کی مسلسل محنت کی عظمت کے سوا کچھ نہ تھا۔ اور یہ بھی کہ بچے بالغ ہیں، عاقل ہیں او ر ایک مدت سے بیرون ملک میں مقیم ہیں۔ کچھ کما کھا بھی رہے ہیں۔ ان کے کمانے اور نوالے گننے سے کیا حاصل کہ ان پر یہاں کا قانون لاگو نہیں ہوتا اور وہاں کے قوانین کو وہ خوب جانتے ہیں اور اس کا خیال بھی رکھتے ہیں۔ ان کے صاحب زادے نے تو یہ گلہ بھی کیا کہ یار لوگ قانون کو پڑھے اور جانے بغیر ہی ان پر یلغار کیے ہوئے ہیں۔ اب جب کہ وزیر اعظم نے ا پنی صفائی بھی پیش کر دی اور ایک عدد عدالتی کمیشن بھی بنا دیا، یار لوگ اور اپوزیشن پھر بھی مطمئن نہیں۔ کچھ کو یہ گلا کہ وزیر اعظم کو تقریر کرنا ہی نہیں چاہیے تھی، کچھ اس پر شاکی کہ ایسے عدالتی کمیشنوں سے کل کیا برآمد ہو ا جو اب توقع باندھی جائے۔ کچھ کو یہ شکایت کہ ثبوت تو طشت از بام ہو چکے، وزیر اعظم کی فیملی اپنی پوزیشن کلئیر کرے لیکن یہ کیا کہ عدالتی کمیشن کے ذریعے ثبوتوں کا بوجھ صفائی مانگنے والوں کے ذمے لگا دیا۔
پانامہ پیپرز یا لیکس ہیں کیا؟ عالمی مالیاتی دنیا میں تمام ممالک کے دولت اور ٹیکس کے اپنے اپنے قوانین ہیں۔ تمام تر قوانین کے باوجود دنیا بھر میں ایک درجن کے لگ بھگ ایسے چھوٹے چھوٹے جزائر یا ممالک ہیں جہاں کے دولت اور ٹیکس قوانین اس قدر نرم ہیں کہ انھیں ٹیکس ہیون یعنی ٹیکس کی جنت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پانامہ ان میں سے ایک ہے۔ ان ممالک میں دنیا بھر کے امیرترین نامی اور بے نامی لوگ کچھ اس انداز میں اپنی دولت پارک کرتے ہیں کہ محفوظ بھی رہتی ہے اور ٹیکس کے جنجھٹ سے بھی مامون رہتی ہے۔ نام سے بے نامی کی سلیمانی کرامت کے لیے خصوصی کمپنیاں بنائی جاتی ہیں۔ ان کمپنیوں کو آف شور کمپنیاں بھی کہتے ہیں۔ انہی کمپنیوں کی قبیل میں شیل کمپنیاں بھی ہیں۔ اس انتظام کی خوبی یہ ہے کہ اصل مالک کئی کاغذی مالکوں کے پردے میں چھپا ہوتا ہے۔ حسن انتظام کی خوبی اس کا خفیہ پن اور ہر طرح کی حکومتی یا قانون کی پوچھ گچھ سے مکمل آزادی۔ سیاں بھئی کوتوال تو ڈر کاہے کا!!! بے نامی کی حفاظتی چھتری کے ساتھ ساتھ اس انتظام میں ذریعہء دو لت کی پڑتال اور ہر طرح کے ٹیکس سے تقریبا آزاد ی ہوتی ہے۔ اسی حسن انتظام کی وجہ سے گذشتہ کئی دہایوں سے دنیا بھر کے امیر ترین افراد اور کئی بڑی ملٹی بیشنل کمپنیوں کو اس انتظام سے خصوصی رغبت رہی ہے۔ پانامہ لیکس کے ذریعے پانامہ میں قائم دنیا کی چوتھی سب سے بڑی آف شور لاء فرم موزیک فونز یکا کاأگذشتہ چالیس سالہ ریکارڈ طشت از بام ہوا ہے۔
کل ملا کر ایک کروڑ سے زائد فائیلزسامنے آئی ہیں۔ ڈیٹا کے حجم کے حساب سے دیکھیں تو یہ اب تک دنیا کی سب سے بڑی لیکس ہیں۔ وکی لیکس اور امریکہ کے ایڈورڈ سنو ڈن سے بھی کہیں زیادہ ڈیٹا سامنے آیا ہے۔ ڈیٹا کا سرسری جائزہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ اس میں سربرا ہان مملکت بھی ہیں، سیاست دان، بینک، جرائم پیشہ افراد سمیت اشرافیہ کے انفرادی لوگوں کا ایک سمندر ہے۔ اگر اسی طرح پہلی تین سب سے بڑی فرموں کا ڈیٹا بھی اگر سامنے آ جائے تو یقیناًاس انڈر ورلڈ سے چھپائے نہ چھپے گی، بات بنائے نہ بنے گی۔
آف شور کمپنیاں قانون کے مطابق ہیں؟ کہنے اور بتانے والے یہی بتاتے ہیں کہ قانون میں اس کی گنجائش ہے اور ان کا قیام قانونی ہے۔ البتہ ان کے کاروبار اور ان کمپنیوں کے ذریعے دولت کی ترسیل، ٹرانسفر ، اثاثوں کی خریدو فروخت اور اسکی آڑ میں اصل قیمتوں کو چھپانے یا بڑھانے اور ان پر ٹیکس دینے کے معاملات پر مکمل رازداری اور پر اسراریت کا موٹا پردہ پڑا ہوا ہے۔ اس کاروبار کے قانونی لبادے کا یہ عالم ہے کہ صرف اس ایک فرم نے گذشتہ چالیس سالوں میں دو لاکھ سے زائد کمپنیاں قائم کیں جن میں سے ساڑھے پندرہ ہزار کمپنیاں دنیا کے کئی بڑے بنکوں کی ملکیت تھیں۔ ماہرین کے مطابق اس دھندے کے خدوخال ضرور قانو نی ہیں لیکن زیادہ تر صورتوں میں ان کا استعمال قانون کو چکمہ دینے کے لیے استعمال ہوتا رہاہے۔ البتہ جہاں نیت درست تھی وہاں ان کمپنیوں کا استعمال غلط نہ تھا۔ صحیح اور غلط کی اس دھند میں انسانی لالچ نے مہارت سے ایک ایسا شاطرانہ انتظام کیا کہ سوال قانونی موشگافیوں میں کھو جا ئیں اور اربوں کھربوں ڈالر کے فائدے بقول شخصے پتلی گلی سے بے نامی کی چادر اوڑھ کر اپنے اصل مالکوں کے ہاں پہنچ کر خاموشی سے ہم بستر ہو جائیں۔
ایسا نہیں کہ دنیا کو اس مالیاتی انڈر ورلڈ کا پتہ نہ تھا۔ دنیا کے امراء اور اداروں نے اپنے اپنے وقتوں میں اس انتظام سے فائدہ اٹھایا۔کیونکہ اپنی داڑھی میں تنکا تھا، اس لیے دوسروں پر ہاتھ نہ ڈالا۔ البتہ گذشتہ چند سالوں سے ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم او ای سی ڈی سمیت بہت سے ممالک ان ٹیکس ہیون جگہوں کے بارے میں آہستہ آہستہ سخت رویہ اختیا ر کر رہے ہیں۔ پانامہ پیپرز نے دنیا کو وہی کچھ دکھایا جس کا دنیا کو پہلے سے پتہ تھا لیکن نام پتے کے ساتھ اس قدر جامع معلومات پہلی بار بطور ثبوت سامنے آئی ہیں۔ پردہ سرکا تو انکشاف ہوا کہ ان میں کئی ایسے بادہ خوار بھی شامل تھے جنھیں دنیا ولی سمجھتی تھی۔آئس لینڈ کے وزیر اعظم پہلاشکار ہوئے اور مستعفی ہو گئے۔ ڈیوڈ کیمرون نے پارلیمان میں اپنے والد کی صفائی دی۔ بھارت میں امیتابھ بچن سمیت اور بہت سے نیک نام اور رول ماڈل صفائیاں دے رہے ہیں۔ بیشتر ممالک میں تحقیقات کا ڈول بھی ڈال دیا گیا ہے۔ اب تک سامنے آنے والی تفصیلات میں تقریباؓ دو سو پاکستانیوں نے اس فرم کے ذریعے آف شور کمنپیاں بنائیں۔ ان میں تقریبا سبھی نام معتبر ہیں لیکن تمام توجہ صرف وزیر اعظم کے خاندان کے لیے مخصوص ہو کر رہ گئی ہے۔ ہو سکتا ہے، تمام کمپنیاں لازماکسی غلط کاری میں ملوث نہ ہوں لیکن ایک قومی سطح کی تحقیقات ضروری ہے کہ سرمایہ ملک سے گیا؟ گیا تو کیسے؟ کب اور کتنا گیا؟ اور یہ تحقیقات سب کے لیے یکساں ہو۔
ہمارے ہاں ٹیکس دینے اور سفید دھن کا رواج قدرے کم رہا ہے۔ بلیک اکونومی کی صورت میں امراء اور ہر طرح کے اشرافیہ طبقے نے اپنی دولت بڑھانے اور ٹیکس سے بچانے کا بھر پور فائدہ اٹھایا ہے۔ بلیک اکونومی کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تمام کوششیں یا تو ابتداء سے ہی مریل تھیں یا انھیں اشرافیہ سے اس قدر مزاحمت ملی کی یہ کوششیں اپنی ندامت کے ہاتھوں المناک انجام کو پہنچیں۔ دوبئی میں پاکستانی تیسرے سب سے بڑے سرمایہ کار ہیں۔ بیرونی ترسیلات زر کا بیشتر حصہ یہیں سے باہر جا کر ڈالر کا چوغہ اوڑھ کر باعزت واپس آجاتا ہے۔ ہمارے ہاں کرپشن، جرائم اور قسم ہا قسم کی دولت کی ریل پیل کے قصے زباں زد عام رہے ہیں ۔ البتہ پانامہ پیپرز نے کئی دہایوں کے جمع شدہ شکوک میں سے کچھ کو ثبوتوں کی آنکھیں اور زبان دی ہے۔ اب دیکھنے اور سننے والوں پر ہے کہ صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں ان ثبوتوں کو ضائع کرتے ہیں یا ناجائز دولت کی لا لچ کے بگاڑ اور ہوس کے اندھے پن کا کچھ علاج بھی کرتے ہیں ۔ صرف سمندر پار چند آف شور کمپنیوں کے گلے میں گھنٹی باندھتے ہیں یا اپنے آنگن میں موجود کرپشن کی نا جائز دولت اور بلیک اکونومی کی خار دار وادی میں بھی دشت نوردی کا تردد کریں گے کہ جس نے اس ملک کے عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *