پدر شاہی معاشرے اور عورت کی عظمت

کبیر علی

man
تاریخ کے مختلف ادوار میں دنیا میں پدرسری اور مادرسری معاشرے موجود رہے ہیں۔ تاہم اس وقت قریبا تمام دنیا میں پدرسری نظام رائج ہے جہاں خاندان اور حکومت دونوں کا سربراہ مرد ہوتا ہے۔ ایسے معاشروں میں چونکہ مرد ہر شعبہ ء زندگی پہ غالب ہوتا ہے اس لئے حقوقِ نسواں کی پامالی عام نظر آتی ہے۔حیران کن طور پہ پدرسری معاشروں میں زبانی طور پہ عورت کی عزت کا بہت ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے، ماں کی شان بیان کی جاتی ہے لیکن عملی طور پہ بالکل الٹ ہوتا ہے۔ ماں اپنے بچوں کے سامنے اپنے شوہر سے پٹتی ہے، بچے بھی ماں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال پاکستان میں قریبا ایک ہزار خواتین عزت کے نام پہ قتل ہوتی ہیں۔ اسی طرح ونی کی رسم، قرآن سے شادی، عورت کو جائیداد سے محروم رکھنا،کاروکاری وغیرہ جیسی قبیح رسوم بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جہاں عورت کی عزت و عظمت کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ پاکستانی تناظر میں غیر مسلم خواتین کا زبردستی مسلم مردوں سے نکاح کروایا جانا بھی اسی کی ایک شکل ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال قریبا ایک ہزار غیر مسلم خواتین اس ظلم کا شکار ہوتی ہیں۔ عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنے والے بھی کم نہیں۔
مگر یہ دو رنگی حیران کن ہے کہ عورت سے روا رکھے گئے ان تمام مظالم کے باوجود ہم لوگ عورت کی عظمت کا ڈھنڈورا پیٹنے سے باز نہیں آتےاس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ ہمارا پدرسری معاشرہ ، عورت کے ساتھ اپنے ظالمانہ سلوک کی وجہ سے ایک اجتماعی احساسِ گناہ کا شکار ہے۔ اسی احساس کے زیرِ اثر اپنے عملی مظالم کا توازن قائم کرنے کے لئے وہ عورت کی عظمت کا ڈھنڈورا پیٹنے لگتا ہے۔
اس سلسلے میں ایک دلچسپ تحقیق بھی کی جا سکتی ہے ۔دنیا کے کچھ گوشوں میں اب بھی مادرسری نظام قائم ہے یعنی خاندان و حکومت کی سربراہی اور انتظام مکمل طور پہ عورت کے ہاتھ میں ہے۔ وہاں تحقیق کی جائے ممکن ہے وہاں یہ صورتحال بالکل الٹ ہو ۔ یعنی خواتین، مردوں پہ ظلم کرتی ہوں اور ساتھ ہی ساتھ مرد کی عظمت کا ڈھنڈورا بھی پیٹتی ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *