بوکو حرام: خود کش بچوں کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ

ap

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم بوکوحرام کی جانب سے خودکش بچوں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے اور تقریباً ہر پانچ خودکش حملوں میں سے ایک بچوں سے کروایا جاتا ہے۔کیمرون، نائجیریا اور چاڈ میں بوکوحرام کے تین چوتھائی حملوں میں لڑکیاں ملوث رہی ہیں جنھیں اکثر نشہ آور ادویات دی جاتی تھیں۔یہ 2014 میں کیے جانے والے چار حملوں کی نسبت اگلے سال ہونے والا 11 گنا اضافہ ہے۔حکمتِ عملی میں یہ تبدیلی نائجیریا میں بوکو حرام کے ہاتھوں علاقہ چھن جانے کی نشاندہی کرتی ہے۔بغاوت کے سات سالوں کے دوران شمال مشرقی نائجیریا کے ساتھ ساتھ چاڈ جھیل کے گرد پڑوسی علاقے واضح طور پر متاثر ہوتے دکھائی دیے، جس کے نتیجے میں تقریباً 17 ہزار افراد مارے گئے ہیں۔یونیسیف کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ 30 ہزار بچوں کو چار ممالک کیمرون، چاڈ، نائجیریا اور نائجر میں گھروں کو چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے نے یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں جاری کی ہے جب نائجیریا میں بوکوحرام کی جانب سے چبوک قصبے کے ایک سکول میں سے دو سو سے زائد لڑکیوں کو اغوا کرنے کے واقعے کو دو سال مکمل ہو رہے ہیں۔اغوا کے اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر ایک مہم ’ہماری لڑکیاں واپس لائیں‘ کا آغاز ہوا تھا۔ تاہم اب تک ان میں سے کسی بھی لڑکی کو بازیاب نہیں کروایا جا سکا۔ادارے کی رپورٹ کے مطابق لڑکوں کو انھی کے خاندانوں پر حملے کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ ان کے خاندان والے بھی بوکوحرام کے ساتھ وفادار رہیں۔ جبکہ لڑکیوں کو جنسی زیادتیوں اور جنگجوؤں کے ساتھ شادی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وہ لڑکیاں جنھیں خودکش حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے انھیں اکثر منشیات دینے کے بعد ان کے جسم کے ساتھ دھماکہ خیز مواد جوڑ دیا جاتا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ خودکش بچوں کی تعداد کیمرون میں سب سے زیادہ ہے۔ ایسے حملوں میں آٹھ سال تک کے بچے ملوث رہے ہیں:۔

Source: BBC

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *