دہشت گردی کا مغالطہ

yasir pirzada

        یہ /۱۴ اپریل ۱۸۶۵ کی ایک خوشگوار صبح تھی ،ابراہم لنکن کا موڈ صبح سے ہی بہت خوشگوار تھا ، وجہ یہ  تھی کہ  امریکی خانہ جنگی تقریبا اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی اور پانچ روز قبل امریکہ سے علیحدگی کا اعلان کرنے والی ’’متحدہ ریاستیں ‘ ‘  وفاق کے جنرل گرانٹ کے  آگے ہتھیار ڈال چکی تھیں۔ یہ خانہ جنگی نومبر ۱۸۶۰ میں ابراہم لنکن کے صدر منتخب ہونے کے بعد شروع ہوئی تھی ، لنکن نے اپنی انتخابی مہم میں غلامی کو ختم کرنے کا عزم کیا تھا اور لنکن کا یہ  فیصلہ   جنوب کی ان سات ریاستوں کو قابل قبول نہیں تھا جن کی معیشت کا دارو مدار زراعت پر تھا اور جہاں سیاہ فام افریقی غلاموں سے جانوروں  سے بھی بد تر طریقے سے کام لیا جاتا تھا۔ اس غلامی کے خلاف لنکن کے فیصلے کے نتیجے میں ان ریاستوں نے فروری ۱۸۶۱ میں  آپس میں ایک کنفیڈریشن قائم کرکے امریکہ سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ، اس وقت تک لنکن نے اپنا منصب صدارت نہیں سنبھالا تھا ، مارچ میں  لنکن کے صدارت سنبھالنے کے بعد چار مزید ریاستیں اس کنفیڈریشن سے جا ملیں اور یوں امریکہ کا ٹوٹنا صاف دکھائی دینے لگا۔ ایسے میں ابراہم لنکن نے ایک تاریخی فیصلہ کیا ، اس نے ان ریاستوں کی علیحدگی اور کنفیڈریشن کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ان سے جنگ کرنے کا اعلان کیا اور  یوں /۱۲اپریل ۱۸۶۱ کو امریکی خانہ جنگی کا آغاز ہوا، اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد مارے گئے ، زیاد ہ تر اموات  متحدہ  ریاستوں کے علاقے میں ہوئیں ، اس دورا ن کسی دوسرے ملک نے ان ریاستوں کی آزاد حیثیت کو تسلیم نہیں کیا اور بالآخر چار برس کی کٹھن لڑائی کے بعد یہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچی  اور متحدہ ریاستوں کے جنرل رابرٹ لی نے ہتھیار ڈال دئیے۔ یہ اس کے ٹھیک پانچ روز بعد کا واقعہ ہے ، لنکن نے کابینہ کا اجلاس بلایا جس میں فاتح جنرل گرانٹ بھی موجود تھا، کابینہ کے ممبران نے لنکن کو اس سے پہلے اس قدر مسرور نہیں دیکھا تھا ، اس کے چہرے کی مسرت دیدنی تھی  ۔اسی شام اس نے واشنگٹن کے فورڈ تھیٹر میں ڈرامہ دیکھنے کا پروگرام بنایا ،  سترہ سو افراد کی گنجائش والے اس تھیٹر میں ہاؤس فل تھا ، لنکن کی آمد پرتماشائیوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے ہوئے اس کا استقبال کیا ، کھیل شروع ہوا ، ساڑھے دس بجے کے قریب ایک شخص صدر کی مختص کردہ نشست کے قریب پہنچا ، پستول نکالی اور لنکن کے سر میں گولی مار کر اسے  ہلاک کر دیا ۔  قاتل کا نام جان وائیکس بوتھ تھا ، بعد ازاں جب قتل کی سازش بے نقاب ہوئی تو پتہ چلا کہ قاتل کا تعلق اس گروہ سے تھا جو متحدہ  ریاستوں میں غلامی کو بحال کرنا چاہتا تھا ، اس قاتل اور گروہ کا خیال تھا کہ تاریخ بتائے گی کہ وہ ملک کے ہیرو تھے ۔ آج /۱۳ اپریل ۲۰۱۶ ہے ، ایک سو اکیاون برس گذر چکے ، تاریخ کا فیصلہ دیوار پر لکھا ہے ، ابراہم لنکن امریکہ کا ہیرو ہے جبکہ جان وائیکن قاتل ۔

        آج دہشت گردی کی اس جنگ میں جب ہم کہتے ہیں کہ اس جنگ کو جیتنے کے لئے اس بیانئے کو شکست دینا ضروری ہے جو شدت پسندی کی بنیاد بنتا ہے تو ہمارے کچھ محترم بزرگ اس پر سرزنش کرتے ہوئے اعتراض کرتے ہیں کہ برخوردار یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا تم سمجھ رہے ہو، ہر عہد کے اپنے اپنے دہشت گرد اور ہیرو ہوتے ہیں ، ایک زمانے میں نیلسن منڈیلا دنیا کی نظر میں دہشت گرد تھا آج ہیرو ہے ، یاسر عرفات کو مغرب والے دہشت گرد کہتے ہیں جبکہ ہم اسے حریت پسند سمجھتے ہیں ، ماؤ زے تنگ نے کہا تھا کہ انقلاب بندوق کی نالی سے نکلتا ہے  اور  پھرہٹلر تو اس فکر کا پیروکار نہیں تھا جو آج دہشت گردی کا باعث بن رہی ہے ؟ سو جب آپ فکر کی بات کرتے ہیں تو غلطی کھاتے ہیں  پھر بات  قرار داد مقاصد تک لے جاتے ہیں کہ اسے آئین سے حذف کیا جائے جو قابل قبول نہیں ۔یہ ان اعتراضات کا مختصر کا خلاصہ ہے جو اکثر خاکسار کو سننے میں ملتے ہیں ۔دراصل ان دلائل میں ایک بنیادی سقم ہے اور وہ یہ کہ اس بات کو فرض کر لیا گیا ہے کہ ہتھیار اٹھانے والوں نے ایک ہی اصول کی بنیاد پر ہتھیار اٹھائے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی اپنی علیحدہ تاریخ ہے ، جن اصولوں کی بنیاد پر انہوں نے ہتھیار اٹھائے وہ بھی مختلف ہیں اور تاریخ کا فیصلہ بھی ہر کیس میں ایک سا نہیں ہے ۔ ہٹلر کو ہی لے لیں ، وہ ستّر برس قبل بھی قاتل تھا   اورآج بھی قاتل ہے کیونکہ اس نے نسل کی بنیاد پر لاکھوں انسانوں کا ناحق قتل کیا ۔ نیلسن منڈیلا کو دیکھیں ، وہ آج اس لئے دنیا کا ہیرو ہے کیونکہ جس اصول پر اس نے ستائیس برس جیل میں گذارے اور نسل پرستی کے خلاف جدو جہد کی وہ اصول درست تھا ، اس کی جدو جہد کا اصول یہ نہیں تھا کہ جو کوئی اس کے عقیدے سے مطابقت نہیں رکھتا وہ واجب القتل ہے ۔ ہو چی من کی  جدو جہد کا  اصول بھی  قابل قدر  تھا ، اس نے ملک کو فرانس کے تسلط سے آزاد کروایا اور بعد ازاں اپنے وطن پر حملہ کرنے والی امریکی فوج اور اس کے اتحادیوں سے جنگ لڑی ، ہو چی من اس وقت بھی ہیرو تھا آج بھی ہیرو ہے ، کیونکہ اس کی لڑائی کا اصول ماضی میں بھی درست تھا آج بھی درست ہے ۔

        ایسی بیسیوں مثالیں اور بھی  د ی جا سکتی ہیں مگر دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا تمام نام نہاد انقلابیوں کی مسلح جد وجہد درست تھی یا تاریخ انہیں فقط قاتلوں کے نام سے یاد کرے گی ۔ تاریخ کے ہر کردار کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکا جا سکتا ، ابراہم لنکن  ، ہو چی من ، نیلسن منڈیلا آج اگر  ہیرو ہیں تو اس وجہ ان کے وہ اصول ہیں جن کی بنیاد پر انہوں نے لڑائی کی ، ان  کا موازنہ داعش اور آج  کل کے دہشت گردوں سے  کرنے کا مطلب یہ ہےکہ آپ اس اصول کو تسلیم کر لیں کہ بزور بندوق کسی کو عقیدہ بدلنے پر مجبور کرنا درست ہے ۔ کشمیر میں بھارتی فوج قابض ہے جس کے خلاف جدو جہد قانونی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے درست ہے مگر وہاں کسی حریت پسند تنظیم کا یہ اصول نہیں کی ان لوگوں کو قتل کرے جو ان کے عقیدے سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ اسی طرح اسرائیلی قبضے کے خلاف فلسطینی جدوجہد بھی جائز ہے مگر کیا فلسطینی تنظیمیں اس اصول پر لڑ رہی ہیں کہ وہ آزاد فلسطین میں یہ طے کریں گی کہ عورتوں کا لباس کیا ہوگا اور مسجدوں میں کس فقہ کے مطابق نماز پڑھائی جائے گی ؟شمالی آئر لینڈ کی  جماعت سن فین کا عسکر ی ونگ آئرش ری پبلکن آرمی تھا جس نے آئر لینڈ کو یو کے سے آزادی دلانے کے لئے مسلح جدو جہد کی ، آج سن فین کے ارکان اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں ، مگر کیا ان کی مسلح جدو جہد اس نقطے پر مرکوز تھی کہ آئر لینڈ کی آزادی کے بعد عورتیں کتنا لمبا سکرٹ پہنیں گی اور مرد چرچ میں عبادت کیسے کریں گے ؟

        آج ہمیں جس دہشت گردی کا سامنا ہے تاریخ میں اس کا موازنہ  صرف خوارجیوں سے کیا جا سکتا ہے  جن کے خلاف حضرت علی ؓنے جنگ لڑی اور  اللہ کی مدد سے سرخرو ٹھہرے ۔ جس اصول کے تحت حضرت علی ؓنے نہروان کی جنگ لڑی تھی اسی اصول کے تحت ہمیں بھی دہشت گردوں کے خلاف لڑنا ہے  اور تاریخ کا فیصلہ ہے کہ ہم  سرخرو ہوں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *