Site icon DUNYA PAKISTAN

مضبوط کرسی کی کہانی

Share

کورونا ایس او پیز کے ساتھ بجٹ سیشن شروع ہوا تو گمان غالب تھا کہ آکسیجن کے اوصاف کی مانند یہ بے رنگ، بے بو اور بے ذائقہ رہے گا۔ سماجی فاصلے کے تحت طے پایا تھاکہ 342 کے ایوان میں ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 86 ارکان ہوں گے (46 حکومتی اور 40 اپوزیشن بنچوں پر)۔ کٹوتی کی تحریکیں پیش کرنے کی رسم تو ادا ہو گی لیکن ان پر ووٹنگ نہیں ہو گی۔ کورم کی نشاندہی نہ کرنا بھی معاہدے میں شامل تھا۔ یوں بجٹ کی منظوری کا مرحلہ پُرسکون ماحول میں آسانی کے ساتھ طے ہو جائے گا لیکن یہ پاکستان ہے، جہاں سیاسی ماحول کو بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔
یونہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں
12مارچ 2014 کے روز وزیر اعظم نواز شریف کسی پروٹوکول کے بغیر بنی گالہ پہنچے تھے۔ ایک ہی گاڑی میں‘ جسے چودھری نثار علی خاں ڈرائیو کر رہے تھے، اِن کے ساتھ اگلی نشست پر وزیر اعظم اور پچھلی نشست پر جناب عرفان صدیقی اور فواد حسن فواد۔ میزبان، پشتون روایات کے مطابق بڑے دروازے پر مہمان کے خیر مقدم کیلئے موجود تھے۔ انہوں نے اپنی پوری ”کابینہ‘‘ بھی بلا رکھی تھی۔ کسی طے شدہ ایجنڈے کے بغیر یہ ملاقات کوئی گھنٹہ بھر جاری رہی۔ بے تکلفی کا یہ عالم کہ ہم کلامی صیغہ واحد میں تھی۔ ایک مرحلے پر میاں صاحب نے عمران خان کی پشاوری چپل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، تمہیں یہ تحفہ طالبان نے بھجوایا ہو گا؟ یہاں سے بات پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کی طرف مڑ گئی۔ کچھ پوسٹنگز اور ٹرانسفرز کی بات بھی ہوئی، وزیر اعظم نے سیکرٹری فواد حسن فواد کو اسے نوٹ کرنے کیلئے کہا۔ عمران خان ”4 حلقوں‘‘ اور 35 پنکچرز کی بات کرتے رہتے تھے لیکن یہاں ”خیالِ خاطرِ احباب‘‘ کے تحت انہوں نے اس حوالے سے ایک لفظ بھی نہ کہا۔ بنی گالہ پہاڑی کو جانے والی سڑک کی حالت اتنی اچھی نہ تھی۔ واپسی پر وزیر اعظم نے فواد حسن فواد سے کہا کہ وہ سی ڈی اے کو ادھر متوجہ کریں (چند ہی دنوں بعد اس سڑک کی حالت بدل گئی)۔ یوں لگتا تھا، کرکٹ کے دنوں کی دوستی لوٹ آئی ہے۔ اب ان میں سے ایک وزیر اعظم تھا اور دوسرا قومی اسمبلی میں دوسری بڑی اپوزیشن پارٹی کا سر براہ اور یہ توقع بے جا نہ تھی کہ یہ ملاقات ان میں بہتر پولیٹیکل ورکنگ ریلیشن شپ کا آغاز ہو گی لیکن چند ہفتوں بعد ماحول یکسر تبدیل ہو گیا۔ اب دھرنا مہم جوئی تھی۔
ہم حالیہ بجٹ سیشن کی بات کر رہے تھے جس میں صورتِ حال خلافِ توقع ایک نیا موڑ مڑ گئی۔ بی این پی کے سردار اختر مینگل نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔ خود برسر اقتدار پارٹی کے اندر بھی بغاوت سر اٹھانے لگی جس کا اظہار ایوان کے اندر ہی نہیں، میڈیا میں بھی کسی لاگ لپیٹ کے بغیر ہو رہا تھا۔ اپوزیشن کو ایسا موقع خدا دے، اس کے تیور بھی بدل گئے۔ یوں لگتا تھا، بجٹ کی منظوری حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ تب وزیر اعظم نے خود بروئے کار آنے کا فیصلہ کیا۔ (نواز شریف والے) پرائم منسٹر ہاؤس میں پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے لیے ڈنر انہیں کاوشوں کا حصہ تھا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا: ہم کہیں نہیں جا رہے‘ ہمارے سوا کوئی اور چوائس، کوئی اور آپشن نہیں۔ تو کیا وزیر اعظم خود کو ”ناگزیر‘‘ Inevitable, Indespensible قرار دے رہے تھے؟ وزیر اعظم کے اس مصرع طرح پر طبع آزمائی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
ہمیں نواب زادہ صاحب یاد آئے۔ وہ یہ کہانی سر چارلس ڈیگال کے حوالے سے سنایا کرتے‘ جدید فرانس کا مردِ آہن دوسری جنگِ عظیم کے دوران جس نے ہٹلر کی نازی یلغار کے مقابل ”فری فرنچ فورسز‘‘ کی قیادت کی۔ جنگ کے بعد فرانس کے عبوری صدر بن گئے، 1958 سے 1969 تک پانچویں جمہوریہ فرانس کے منتخب صدر رہے۔ 1970 میں 79 سال کی عمر میں وفات پائی۔ دنیا انہیں جدید فرانس کا معمار اور فرانسیسی قوم اپنا نجات دہندہ قرار دیتی ہے۔ دنیا میں اپنے ملک کی تعمیروترقی اور قومی آزادی و خودمختاری کی علامت بن گئے تھے۔ پاکستان میں بھی خوشامدیوں کاگروہ فیلڈ مارشل ایوب خاں کو دیگر خطابات کے علاوہ ”ڈیگال آف ایشیا‘‘ قرا ر دینے لگا۔ خوشامدیوں کی طرف سے حکمران کو ملک و قوم کے لیے ”ناگزیر‘‘ قرار دینے پر نواب زادہ صاحب چڑ جاتے اور ڈیگال کی کہانی سناتے: فرانسیسی معززین کا ایک وفد، جس میں زندگی کے مختلف شعبوں کے نمائندہ افراد شامل تھے، ڈیگال کی خدمت میں حاضر ہوا۔ یہ خوشامدی نہیں تھے بلکہ ایمانداری کے ساتھ سمجھتے تھے کہ ڈیگال فرانس کی ناگزیر ضرورت ہیں، جن کا کوئی متبادل نہیں، ان کے سوا فرانس کے لیے کوئی آپشن، کوئی چوائس نہیں۔ ڈیگال صبروسکون کے ساتھ ان کی معروضات سنتے رہے۔ صدارتی محل میں صدر کے دفترکی ایک کھڑکی قبرستان کی جانب کھلتی تھی۔ ڈیگال اٹھے، کھڑکی کھولی، مہمانوں کو بھی اپنے ساتھ کھڑا کیا اور انگلی سے قبروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ سب اپنے اپنے دور کے ”ناگزیر‘‘ تھے۔
بجٹ کی منظوری کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اپنے خطاب میں، عشائیے والے الفاظ کی وضاحت کر دی۔ میں نے کبھی خود کو ”ناگزیر‘‘ نہیں کہا۔ کبھی نہیں کہا کہ یہ کرسی بہت مضبوط ہے۔ ”کرسی بہت مضبوط ہے‘‘ سے ذوالفقار علی بھٹو یاد آئے۔
مارچ1977 کے انتخابات میں بد ترین دھاندلیوں کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کے خلاف جبروتشدد کے تمام حربے اور ہتھکنڈے ناکام رہے تھے۔ لاہور میں مسلم مسجد لوہاری گیٹ کا 3 مارچ کا سانحہ، نمازِ عصر کے بعد ہونے والے آپریشن کے نتیجے میں مسجد میں مغرب، عشاء اور اگلی صبح فجر کی نماز نہیں ہو سکی تھی۔ 9 اپریل کو پنجاب اسمبلی کی تقریبِ حلف وفاداری کے موقع پر نیلا گنبد سے چیئرنگ کراس تک مال روڈ پر جابجا جنگ کے مناظر، شام تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 20 تک پہنچ گئی تھی۔ 15اپریل ایک اور خونیں دن تھا، جب لاہور جل رہا تھا۔ لکشمی چوک میں رتن سینما اور کچھ آگے پیپلز پارٹی کے دفتروالی پیلی بلڈنگ بھی خاکستر ہوگئی تھی۔ بھٹو لاہور میں تھے۔ وہ اسی شب اچھرہ میں مولانا مودودیؒ کے ہاں پہنچے اور اصلاحِ احوال کیلئے کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ مولانا کا جواب تھا: اس کی ایک ہی صورت ہے کہ آپ نئے انتخابات کا اعلان کر دیں۔
ملک گیر ایجی ٹیشن شہروں سے دیہات اور قصبات تک پہنچ گیا تھا۔ 21 اپریل کو ملک بھر میں پہیہ جام تھا۔ ہوائی جہاز اور ریل گاڑی سے لے کر سائیکل تک، کہیں کوئی پہیہ حرکت میں نہ آیا۔ تب بھٹو صاحب کے مضبوط اعصاب بھی جواب دینے لگے۔ کراچی، لاہور اور حیدر آباد میں منی مارشل لاء اور کچھ اور شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ خلاف ورزی میں، لاہور میں نوجوانوں نے گریبان کھول دیے، تین آخرت کے سفر پر روانہ ہو گئے۔ باقی ساتھیوں کے نعروں میں مزید شدت آگئی۔ اسی شب لاہور میں تین بریگیڈیئرز نے استعفے دے دیئے۔
28 اپریل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں بھٹو صاحب رندھی ہوئی آواز میں کہہ رہے تھے: وہ میرا خون چاہتے ہیں، وہ مجھے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں کیونکہ میں ہی پاکستان میں یکجہتی کی علامت اور استحکام کا ستون ہوں۔ ایوان کے اندر میزوں کی تھپتھپاہٹ اور مہمانوں کی گیلریوں میں تالیوں کا شور تھا۔ بھٹو صاحب کے الفاظ، اندازِ بیان اور لب و لہجے میں خطابت کے تمامتر جوہر سمٹ آئے تھے۔ وہ رکے، طویل سانس لی اور کہا: ”میں ایک بے بس اور عاجز انسان ہوں لیکن یہ کرسی بہت طاقتور ہے۔ مجھے اس پر سے آسانی کے ساتھ نہیں ہٹایا جا سکتا…‘‘ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کے الفاظ اسی لافانی حقیقت کا اظہار اور اعتراف تھے، کہ کرسی کسی کی مضبوط نہیں ہوتی، جو آتا ہے، اسے جانا بھی ہوتا ہے۔

Exit mobile version