جنگ بندی میں توسیع پرطالبان قیادت میں اختلاف

khalidتحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے فیصلے پر اختلاف رائے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے تاہم طالبان مرکزی شوریٰ کا اجلاس جلد متوقع ہے جس میں جنگ بندی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے دوران حکومت نے ان کا کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کیا ہے اور ایک سو بیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ جنگ بندی کے بغیر بھی امن مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں۔
طالبان مذاکرات کاروں نے حراست میں لے گئے آٹھ سو غیر عسکری قیدیوں جن میں عورتیں اور بچے شامل ہیں رہا کرنے اور افغان سرحد سے ملحق نیم مختار قبائلی علاقوں سے فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کے امیر عمر خالد خراسانی نے پاکستان میں دوبارہ حملے شررع کرنے کی دھمکی دی ہے۔انہوں نے خبر رساں ادراے رائٹرز کو بتایا کہ حکومت امن مذاکرات میں مخلص نہیں ہے اس لیئے حملے کیئے جائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *