شہباز کرے پرواز۔۔۔ ایم ایم عالم

MHTمستنصر حسین تارڑ

 

چنانچہ ہم اس محسن طیارے سی ون تھرٹی میں داخل ہوئے، میانوالی جانے کے لئے ۔۔۔ کیا دیکھتے ہیں کہ کرسیوں کی بجائے کچھ جھلنگے سے ہیں جو ڈھیلی نواڑ کے ہیں، ان میں بیٹھئے تو محسوس ہوتاہے جیسے ایک ڈھیلے ہو چکے نواڑی پلنگ میں دھنس گئے ہیں۔۔۔ اور ہاں میں نے شکر کیا کہ مجیب الرحمن شامی چلے آئے تھے ورنہ میں تنہائی میں بے موت مارا جاتا، شامی صاحب جانے کون سے شامی ہیں، ایک شامی تو دن بھر شام کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اِک گونا بے خودی کے سپرد ہو جائیں، اور مجھے شک ہے کہ یہ وہ والے شامی شاید نہیں ہیں، دوسرے شامی، ملک شام کے ہوتے ہیں، لیکن ان کا ڈیل ڈول اور شخصیت دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ شام کے ہیں، اکھاڑے میں اُتر کر مخالفین کو پچھاڑنے والے پہلوان ہیں۔۔۔ بہرطور وہ جو بھی شامی ہیں، نہایت نفیس اور گرجدار شامی ہیں۔۔۔ ان کی رفاقت نہایت پُرلطف رہی۔۔۔ سی ون تھرٹی کے انجن سٹارٹ ہو چکے تھے اور اتنا شور تھا کہ میرا اکلوتاکارآمد کان بھی بہرا ہو گیا اور میں مکمل طو رپر ’’بولا‘‘ ہو گیا یعنی بہشتی ہو گیا۔۔۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے شوروغل کے بعد میں نے برابر میں بیٹھے ایک نوجوان افسر سے پوچھا ’’کیا ہم میانوالی لینڈ کر چکے ہیں‘‘؟ وہ کہنے لگا ’’سر ابھی تو ہم نے لاہور سے ہی ٹیک آف نہیں کیا‘‘۔
بہرطور ہم اُڑے، قیامت کے شور میں اُڑے اور میانوالی لینڈ کر گئے۔۔۔ اور وہاں بہت رونقیں تھیں۔ ایم ایم عالم کی شاندار یادگار دھوپ میں روشن ہوتی تھی۔ اس مرد مجاہد کی جہازی تصویریں آویزاں تھیں اور ظاہر ہے ہر جانب ایئرفورس کی نیلی وردیاں چھب دکھلاتی تھیں اور ان میں خواتین افسر بھی شامل تھیں جو کچھ زیادہ ہی چھب دکھلاتی ہیں۔ ازاں بعد ہمیں ایک سیاہ رنگ کے وسیع خیمے میں بٹھا دیا گیا۔۔۔اگلی نشستوں پر نہ بٹھایا گیا کہ وہ صوفے تھے اور صرف معززین کے لئے وقف تھے، مجھے اور شامی صاحب کو پچھلی نشستوں پر بے آرام کرسیوں پر بٹھایا گیا مبادا ہم متکبر ہو جائیں کہ ہمیں ایئرچیف نے خصوصی طور پر مدعو کیا ہے۔ شامی صاحب کے برابر میں کمشنر سرگودھا ڈویژن آ بیٹھے اور ان کے ساتھ دیر تک رازونیاز کرتے رہے۔ شامی صاحب کمال حوصلے سے سنتے رہے اور سر دھنتے رہے۔۔۔ بالآخر وزیراعظم پاکستان نوازشریف کی آمد ہوئی۔۔۔ سب سے پہلے ایم ایم عالم کی حیات پر مبنی ایک ڈاکومنٹری دکھائی گئی جو میرے عزیز دوست گل حسن کے بیٹے حسن حیات خان نے پروڈیوس کی تھی اور کیا ہی خوب کی تھی۔۔۔ اس ڈاکومنٹری میں میرے تاثرات بھی شامل کئے گئے تھے۔۔۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں ایک خوبصورت بات کی۔۔۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم عالم صرف ایک نہیں، صرف ایئرفورس میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں کوئی نہ کوئی ایم ایم عالم ہے جس کی حوصلہ افزائی ہم پر واجب ہے، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے کہ وہ ہمارا ہیرو ہے۔ وزیراعظم رخصت ہوئے تو بھوک کے مارے میں بھی رخصت ہونے لگا۔۔۔ صبح پانچ بجے ناشتے کا ایک ٹوسٹ آخر کہاں تک ساتھ دیتا۔ میانوالی آمد پر ہماری آؤ بھگت تو بہت ہوئی، آؤ، زیادہ ہوئی اور بھگت، یعنی چائے بسکٹ وغیرہ ذرا کم ہوئی۔ اس دوران ایک فرشتے کی صورت میں ایئرفورس کے درجات پر بلندافسر طارق محمود نمودار ہو گئے، ہماری بلائیں لینے لگے، میں نے کہا کہ پلیز ہماری بلائیں مت لیں ہمیں کھانے کے لئے کچھ دیں۔۔۔ ورنہ خوش رہو اہل ایئرفورس ہم تو سفر کرتے ہیں۔۔۔ طارق فوراً ہمیں اس خیمے میں لے گئے جہاں خوراک کا بندوبست تھا اور وہاں وزیراعظم کے سامنے فلائی پاسٹ کرنے والے جیٹ ہوائی جہازوں کے چار پائلٹ صرف مجھے ملنے کے لئے آ گئے۔۔۔ ’’سر ہم آپ کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔۔۔ ہم آپ کے فین ہیں‘‘ میں نے کہا کہ آپ فوری طور پر یہ کر سکتے ہیں کہ مجھے کافی پلائیں اور یہ جو چکن تکّا سلگتے ہیں وہ میری خدمت میں پیش کریں۔۔۔ انہوں نے نہایت فرمانبرداری کا مظاہرہ کیا اور سب کچھ پیش بلکہ پیش پیش کر دیا طارق محمود کی آمد اور اس کی دیکھ بھال اور کافی کے ایک کپ نے مجھے زندہ کر دیا اور میں پھر سے چہکنے لگا۔۔۔ میانوالی لینڈ کرنے کے بعد ایک نوجوان احسن نے مجھے سلیوٹ کر کے پوچھا تھا کہ۔۔۔ سر مجھے امید ہے کہ آپ نے سی ون تھرٹی میں پرواز کو انجائے کیا ہو گا تو میں نے بیزار ہو کر کہا تھا ’’یہ ایک ہولناک تجربہ تھا‘‘ چنانچہ طارق محمود نے ہمارے لئے لاہور واپسی کے لئے ایک متبادل بندوبست کر رکھا تھا۔۔۔ ہم ایک پرائیویٹ سیسنا طیارے میں لوٹ رہے تھے۔۔۔ اور ہاں میں نے ایم ایم عالم کی موت پر جو کالم تحریر کئے ان میں یہ درخواست بھی تھی کہ لاہور کی ایم ایم عالم روڈ کے آغاز میں اس کی یادگار تعمیر کی جائے جس پر اس کے شاندار کارناموں کی تفصیل درج ہو کہ لوگ ایم ایم عالم روڈ کو محض ایک فوڈ سٹریٹ سمجھتے ہیں۔۔۔ مجھے طمانیت ہو گی کہ شاید میری درخواست پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہاں ایم ایم عالم کے شایان شان ایک یادگار بہت جلد تعمیر کی جائے گی۔
ایم ایم عالم کی یادگار میانوالی ایئربیس میں، جو اب ایم ایم عالم ایئربیس ہے ایک خوبصورت یادگار ہے جس کے سامنے کھڑے ہو کر میں نے تقریباً آدھی ایئرفورس کے ہمراہ تصویریں اتروائیں اور اس دوران دو خواتین نے بھی میرے ساتھ تصویر اتروانے کی فرمائش کی اور تصویر کے بعد ان میں سے ایک نے کہا ’’ہم دونوں ایم ایم عالم کی بہنیں ہیں‘‘۔۔۔ میں آبدیدہ سا ہو گیا۔ ان میں مجھے ایم ایم عالم کی جھلکیاں نظر آ رہی تھیں۔۔۔ بہنوں کو بھائیوں پر مان ہوتا ہے۔۔۔ اور اگر بھائی ایم ایم عالم ایسا ہو تو مان، مہا مان ہو جاتا ہے۔۔۔ میں نے ان سے کہا ’’بہن۔۔۔ پہلی تصویر درست نہیں اتری۔۔۔ تب میں آپ کو جانتا نہ تھا، اب میں آپ کے ساتھ ایم ایم عالم کی بہنوں کے ساتھ تصویر اتروانا چاہتا ہوں‘‘۔
کیسا شاندار شخص تھا۔۔۔ ایم ایم عالم۔۔۔ عالم میں انتخاب تھا۔ عہد حاضر کا خالد بن ولید تھا جس نے کسی میدان جنگ میں شکست نہ کھائی، جس کی موت پر حضرت عمر فاروقؓ نے کہا کہ ہاں تم لوگ اس شخص کی موت پر آنسو بہا سکتے ہوکہ اس جیسا کسی اور ماں نے جنم نہ دیا۔۔۔ ایم ایم عالم ایسا بھی تو اب کس ماں نے جنم دینا ہے۔
ہم میانوالی سے ٹیک آف کر کے ایک سیسنا طیارے میں سوار لاہور کی جانب اڑے جاتے تھے اور ایم ایم عالم کی یادیں ایک شہباز کی مانند ہمارے ساتھ پرواز کرتی چلی آتی تھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *