ْقصہ ایک چوری کا !

naeem baloch1
تین دن کے شدید زکام کی وجہ سے میں نے خبر ناک کی ریکارڈنگ میں نہ بیٹھنے مگر میکنگ دیکھنے کا فیصلہ کیا ۔ ریکارڈنگ کا دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا تھا ۔ علی میر آج انور مقصود کی ڈمی یعنی دانش وربنے تھے ۔ وہ حسب معمول دوسرے کامیڈین کو جگتوں کے چھکے چوکے لگانے کے لیے بال بنا بنا کر دے رہے تھے ۔ نئی فارمیشن کے مطابق عائشہ جہان زیب ان کا تختہ مشق تھیں ۔ ذیشان حسین بطور کیپٹن آف دی ٹیم جہاں مناسب سمجھتے ان سب کو جملے بھی تجویزکرتے اور ان کے لفظوں اور انداز کی قطع و برید بھی ۔پھرکسی نامعقول سی جگت پر میری ہنسی ایسی چھوٹی کہ کھانسی میں تبدیل ہوگئی اور کھانسنے کا عمل اتنا طویل ہوا کہ قریب کھڑے کیمرہ مین نے بے بسی سے مجھے گھورا ، مزید یہ کہ میرے بالکل ساتھ بیٹھے سہیل شیخ کا انداز بھی تجاہل عارفانہ محسوس ہوا تو میں سٹوڈیو سے باہرآ گیا۔اسی دوران نماز کے لیے قریبی مسجد جا پہنچا ۔ مجھے ہمیشہ اس مسجد سے جوتا چوری ہونے کا ڈر رہتا تھا لیکن نہ جانے کیوں آج میں نے کوئی پروا نہ کی اور جوتے ریک ہی میں رکھ دیے۔ لوگ اس وقت باہر جارہے تھے ،یوں میں نے چور کو پورا موقع مہیا کر دیا ۔وہ ضرور دیکھ رہا ہو گا کہ اس کا شکار نماز پڑھنے میں مصروف ہو گیا ہے ، چنانچہ میں نماز سے فارغ ہوا تو جوتاغائب تھا۔میرے لیے یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا ، لیکن پھر بھی ایک اچھے جوتے سے یوں اچانک محروم ہونا خاصابرا لگا۔ اب تکلیف دہ مرحلہ یہ جاننا تھا کہ چور صاحب میرے لیے کون سا جوتا چھوڑ کر گئے ہیں ۔ پندرہ بیس منٹ کے انتظار کے بعد یہ بات طے ہوگئی کہ انتہائی ’’شاہکار‘‘ قسم کا جوتا اب میرے پاؤں کی زینت بنے گا ۔اسے دیکھ کر میرے دل میں چور صاحب کے لیے بڑی ہمدردی پیدا ہوئی کہ اگر وہ اس جوتے کے بعد بھی نئے خریدنے کا متحمل نہیں تھا تو واقعی اس کو معاف کر دینا چاہیے۔
اس موقع پر مجھے اپنے ایک بہت عزیز دوست کا قصہ یادآیا ۔ انھوں نے بتایا کہ گرمیوں کے دن تھے اور ہر طرف آموں کی بہار۔ بچے کئی مرتبہ فرمایش کر چکے تھے اور میں ان دنوں بڑی تنگ دستی کا شکار تھا۔ میرے سارے ’’بہانے‘‘ بھی ختم ہو چکے تھے ، اسی دوران ٹی وی پرحکمران سیاستدانوں کے خوفناک کرپشن سکینڈلز کی چیختی چنگاڑتی خبریں آ نے لگیں ۔ اس کے جواب میں حکمران وزیر مشیر جو، جواب دے رہے تھے وہ بھی بڑے ’ کنونسنگ ‘‘ تھے اور صورت حال یہ لگ رہی تھی کہ اس حمام میں۔۔۔فوجی ہوں یا سیاست دان، اہل اقتدار ہوں یا باری کے انتظار میں بیٹھے ، جج ہوں یا بیوروکریٹ ، پولیس ہو یا صحافی ۔۔۔ سب ننگے ہیں ۔ تب اس دوست کے ذہن رسا میں ایک نادر قسم کی ترکیب آئی اور وہ گاڑی نکال کے فروٹ مارکیٹ جا پہنچے۔ بڑے وقار سے اعلیٰ آموں کی تین پیٹیوں کا بھاؤ طے کیا اور کہا کہ اسے اندر رکھو میں دوسرا پھل لاتا ہوں اور پیسے دیتا ہوں ۔ لیکن وہ چپکے سے گاڑی میں بیٹھے اور یہ جا وہ جا۔ گھر جاکر مزے سے آم کھائے اور کھلائے۔جب ردعمل کی نفسیات سے نکلے تو ضمیر جاگ اٹھا ۔ نمازی نہ تھے لیکن انسان پورے تھے، ایک پل چین نہ آرہا تھا، اٹھے اور مسجد جا پہنچے ۔ مولوی حیران کہ نہ میرے فرقے کا ہے اور نہ نمازی ! مگر انھیں آم بہت’’ تنگ‘‘ کر رہے تھے، لگی لپٹی رکھے بغیر سارا ماجرا کہہ سنایا۔ طلب صادق ہو تو اچھے مولوی مل جانے کی انہونی بھی ہونی ہو جاتی ہے ۔انھوں نے فتویٰ دیا کہ آپ قرض خوار بھی ہیں اور تنگ دست بھی۔ آپ زکوٰۃ لے سکتے ہیں اور ضرور لینی چاہیے تاکہ گناہ سے بچ سکیں ۔ پھر گھر کے اندر گئے ،واپس آئے تو ان کی ضرورت کے پیسے مٹھی میں تھے ۔ ان کو رخصت کیا اور وہ بھی ایسے کہ نماز پڑھنے کا بھی کوئی وعدہ نہ لیا!وہ بھی سیدھے پھل والے سے پاس جا پہنچے ، ادائیگی’’ بھول‘‘ جانے پر معذرت کی اور مزید سامان خرید کر واپس آگئے۔
لیکن میرا معاملہ ایسا تھا کہ مجھے تو وہ شاہکار جوتا پہننا تھا ۔اس کا کوئی امکان نہیں تھا کہ وہ حضرت ایک سوٹڈ بوٹڈشخص کی یہ ہیئت کذائی دیکھ کر جوتا لوٹا دیتے۔چنانچہ مجھے اپنے خجل خراب ہو نے کا غم کھائے جا رہا تھا۔ فیصلہ کیا کہ گاڑی قریب ہی ہے کسی دکان سے جوتا خرید لیتا ہوں تب واپس سٹودیو میں جاؤں گا لیکن جیسے ہی مسجد سے باہر نکلا نعمان خاں صاحب مل گئے ! یہ حضرت بھی علی میر کی طرح پکے نمازی ہیں اور خبرناک کے تمام فنانس کو دیکھتے ہیں ۔اس سے قبل کہ وہ میرے جوتوں کو دیکھتے ، میں نے خود ہی مسکین سی صورت بنا کر پاؤں کی طرف اشارہ کیا تو پہلے وہ بے اختیار مسکرائے پھر افسوس کا اظہار کیا۔ میں نے شرمندہ سا ہوکر بتایا کہ نیا جوتا خریدنے جا رہا ہوں ۔ یوں میری یہ ’’معصوم ‘‘ خواہش بھی پوری نہ ہو سکی کہ کم از کم خبر ناک ٹیم ہی کو اس’’ واردات‘‘ کا علم نہ ہو ۔ گاڑی میں سوار ہونے تک کئی افراد نے مجھے گھورا اور پھر مسکرائے۔۔۔۔ میں پیچ و تاب کھاتا رہا۔ سوچ رہا تھا کہ اگر کوئی مجھے پیشکش کرتا کہ اس طرح کے جوتے پہن کر باہر جاؤ تو میں کسی طور آمادہ نہ ہوتا لیکن حالات کا جبر بھی کیا چیز ہے! تبھی میرا دھیان شام ، لیبیا اور عراقی مہا جرین کی طرف گیا جو خاندانی لوگ تھے ، امیر کبیر اور آسودہ حال شہری تھے لیکن کیسے غریب الوطن ہو کر در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ تخیل ہی تخیل میں ،میں یہ بھی خواہش کر رہا تھا کہ کیا ہی اچھا ہو وہ جوتا چور کوئی نشہ باز ہو اور کسی کو اونے پونے میرا جوتا بیچ رہا ہو اور میں اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لوں اور خوب دھنائی کروں مگر پھر اپنی اس سطحی سوچ پر غصہ آیا کہ کوئی تخیلاتی خواہش ہی کرنی ہے تو یہ کیوں نہ کی زرداری، مشرف اور نواز شریف جیسے اُچے شملوں والے چور کسی ایسے داروگیر کا شکار ہوں کہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہو جائیں اور بازاروں میں اپنے قیمتی جوتے بیچتے پھریں اور لوگ ان سے وہ بھی چھین لیں کہ یہ تمہارے باپ کی کمائی تھی ؟ اسی ملک سے لوٹی ہو گی ، لاؤ ادھر اور دفعان ہو جاؤ! غرض اسی طرح کی سوچوں کے ساتھ میں نے گاڑی نکالی اور پھر مجھے چند ماہ قبل اپنی ایک اور حماقت یاد آگئی ۔ مجھے ملتان جانا تھا۔ ایک پاکستانی نژاد بر طانوی شہری طہٰ قریشی ایم بی ای ( ممبر پرٹش ایمپائر ) سے انٹرویو کرنا تھا۔ حسب معمول وقت کی قلت تھی ، لہٰذا بھاگم بھاگ گھر پہنچا ، جلدی سے تیار ہوا ، اتنی دیر میں گاڑی لینے آگئی۔ میں نے ایک جوتا پرانا اور ایک نیا پہنا اور روانہ ہو گیا ۔ جب ا نکشاف ہوا تو واپسی کا کوئی وقت نہیں بچا تھا۔ سفر رات کا تھا اور پہنچنا بھی بہت رات گئے تھا لہٰذا دو مختلف جوتے پہنے قریشی صاحب کے پاس جا پہنچے ، انھوں نے کہا کہ ہم آپ کی پروفیسری کو پہلے ہی مانتے ہیں لیکن یہ عملی نمونہ دکھانے کی بھلا کیا ضرورت تھی !اس خیال نے ہمیں تھوڑا سا دلاسا دیا کہ وہ حماقت اگر ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکی تھی تو اب بھی کچھ نہیں ہو گا ۔ چنانچہ موڈ کچھ بہتر کرکے کسی سروس باٹا کی تلاش شروع کی ۔ جلد اندازہ ہو گیا کہ یہاں ایسی کوئی شاپ نہیں ، چنانچہ گاڑی گھر کی طرف موڑ دی اور راستے میں ایک برانڈڈ دکان پر کھڑے ہو کر ذیشان صاحب کو اطلاع کردی کہ کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔
جوتا خریدا، اسے پہنا تو ایک خاص اطمینان حاصل ہوا ۔ ایک دفعہ پھر اپنی نفسیات کا جائزہ لیا تو یہ جانا کہ دل چور کی دشمنی سے خالی ہے ۔ اور دلیل ذہن میں یہ تھی کہ ایک بے چارے جوتی چور کا محاسبہ کیوں ، معاشرے میں غربت اور جہالت کا دور دورہ ہے ، تربیت کا خوف ناک فقدان ہے ، جرائم نہیں ہوں گے تو کیا ہو گا !یہاں تو ہر کوئی جس جس مقام اور عہدے پر براجمان ہے چور ہے !لیکن پھر ایک دوسرا خیال آیا کہ کتنا بڑا المیہ ہے اس معاشرے کا ، جرم اتنا عام ہو گیا کہ مدعی ، مجرم کے لیے عذر تراش رہا ہے !
اس سے قبل کہ کہ کوئی اور فلسفیانہ سوچ ذہن میں آتی ، موبائل کی گھنٹی بجی ، یہ بیگم کا فون تھا ! پھر کیا تھا، ساری فلاسفی ایک دم غائب ہو گئی ، موصوفہ دو دن سے ناراض جو تھیں !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *