جو بویا ہے وہ ہی کاٹنا ہو گا

Afshan Huma

ماں باپ ہوں یا اساتذہ ہر نسل اپنے سے آگے آنے والی نسل کو برا بھلا کہنا اپنا فرض سمجھتی ہے۔ آیئےذرا دیکھیں یہ جو نسل اس وقت جوان ہو چلی ہے اس کو ہم نے سکھایا کیا ہے؟سب سے پہلے تو ہم اپنے بچوں کی پرورش گھر پر ہی کرتے ہیں نا۔ چند روز قبل میں نے ایک خاتون کو ٹیکسی میں اپنے بچے کے ساتھ جاتے دیکھا۔ بچہ مالٹا کھا رہا تھا اور والدہ چھلکے کھڑکی سے باہر پھینک رہی تھی۔ یہ وہی ماں ہے جو بچے کو بات بات پر نصیحتیں کرتی ہو گی۔ لیکن اس کے سامنے یہی ماں کیا مثال قائم کر رہی تھی یہ اس نے نہیں سوچا۔ ایک باپ  کو میں نے اپنے بچے سے کہتے سنا کہ آئندہ مار کھا کر گھر نہ آنا، یہ وہی باپ ہے جو ملک میں پیدا ہونے والے امن و امان کے مسائل پر ہر کھانے کی میز پر واویلا کرتا ہو گا۔

یہی والدین اپنے بچوں کے سامنے لڑتے ہیں ان کے سامنے ان کے معتبر رشتوں کے بارے میں الٹی سیدھی گفتگو کرتے ہیں۔ جن رشتہ داروں سے ماں باپ کی نہیں بنتی وہ دنیا کے فضول ترین لوگ ہیں اوران سے ملنا یا ان کی طرف مائل ہونا ماں باپ کی نا فرمانی ہو گی یعنی گناہ کے زمرے میں آئے گی۔ ایسے کئی گھرانے ہمارے آس پاس ہی پائے جاتے ہیں جہاں مائیں ساری عمر بچوں کو یہ جتلاتی ہیں کہ ان کا باپ ایک بے وفا یا شرابی ہے اور اسی باپ کے سائے میں نہ صرف بچوں کو پالتی ہیں بالکہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ باپ سے بد تمیزی کرنا کسی طرح جائز نہیں۔ پس مرد کچھ بھی کرے اس کو عزت مل جائے گی، یہ سبق وہ خود ہی اپنے بچوں کو دے ڈالتی ہیں۔

ہم جس دن سکول میں بچوں کو داخل کرواتے ہیں اسی دن ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ اب یہ بچہ خود سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہنے والا۔ اس نے تو ایمان لے آنا ہے اساتذہ کی کہی ہوئی بات پر، یا کتابوں میں لکھی ہوئی بات پر۔ سکول میں دس سے بارہ سال تک انہیں اندھی ے تقلید کا سبق روز ملتا ہے۔ وہ آنکھیں کان اور ناک بند کر کے رٹا لگاتے ہیں۔ جو کوئی انہیں خود سے کچھ سوچنے سمجھنے اور لکھنے کا بولے وہ اچھا استاد نہیں ہوتا، کیونکہ سکول کی انتظامیہ اور والدین دونوں کی نظر میں اسے پڑھانا نہیں آتا اس لئے وہ بچوں سے ہی سارا کام کروانا چاہتا ہیں۔

جب یہی بچے کمرہ جماعت میں ہوتے ہیں تو ان کے رویے اور ہوتے ہیں اور سکول کے میدان میں یا گیٹ سے باہر آتے ہی ان کی حرکات و سکنات اچانک بدل جاتی ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے اسلام آباد سے نکلنے والی گاڑیوں کے ڈرائیورحضرات فیض آباد سے اترتے ہی گاڑی کی لین بلاوجہ بدلنا شروع کر دیتے ہیں۔ بچوں کے خیال میں تنظیم صرف صبح کی اسمبلی میں لائن میں کھڑے ہونے کو کہتے ہیں، بینک، بس یا ٹکٹ گھر کے باہر لائن بنانا کوئی خاص ضروری نہیں۔ سگریٹ پینا صرف اساتذہ اور والدین کے سامنے منع ہے، سکول کی اور گھر کی چار دیواری سے باہر اس میں کوئی مذائقہ نہیں۔

ہمارے ہاں ایک فقرہ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ ہم تعلیم تو دے رہے ہیں تربیت نہیں کر رہے، میری ناقص رائے میں حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہم صرف تربیت کرتے رہتے ہیں جس سے بچہ خاص صورت حال میں خاص طرح کا رد عمل کرنا سیکھ جاتا ہے، ہم سزا اور جزا کے زریعے بچوں کو ڈراتے اور خوش کرتے ہیں ۔ ہم ان کو جانوروں کی طرح سدھانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ یہ اشرف المخلوقات ہیں۔ ان کے پاس دل و دماغ ہیں جن پر ہم خود قفل لگاتے ہیں اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ آجکل کے بچے ایسی کیوں ہیں۔ ہم نے اس نسل کو صرف سکرپٹ یاد کرنا سکھا یا ہے۔ انہیں رول ماڈل کے چکر میں ڈال کر کسی نہ کسی کی تقلید کرنے کی پختہ عادت ڈال دی ہے۔ یہ کسی کے بھی پیچھے چل پڑتے ہیں، پھر چاہے وہ انہیں لیاقت باغ لے جائے یا ڈی چوک، یہ سمجھے بوجھے بغیر ایک دھن کے پیچھے چلے جاتے ہیں۔ یہ سب ہمارے گھروں اور درسگاہوں کی تربیت کا نتیجہ ہے۔۔۔ جبکہ اگر انہیں واقعی تعلیم دی جاتی تو یہ بچے مختلف حالات میں سوچ سمجھ کر خود فیصلہ کرنا سیکھتے، تنقیدی سوچ رکھتے اور رائے دہی کے قابل ہوتے۔ ہر آنے والی نسل اپنی گزشتہ نسل کے اعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ ہم نے جو بویا ہے وہی کاٹنا ہوگا-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *