چھوٹو گینگ کی تباہی کے آخری لمحات

Rana Ejaz.final

پاک فوج چھوٹو گینگ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو کو زندہ گرفتار کرنا چاہتی ہے ، تاکہ اس کے پس پردہ حقائق اور وابستگیوں کو منظر عام پر لایا جاسکے۔ جنوبی پنجاب میں جاری اس آپریشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد ملکی، خصوصاً پنجاب میں سیاسی و انتظامی حوالے سے بھی گہرے اثرات پڑیں گے ، کیونکہ چھوٹو کے صولت مرزا اور عزیز بلوچ کی طرح سیاسی و بااثر شخصیات سے تعلقات کی قوی امید ظاہر کی جارہی ہے۔ پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ، اگلے مورچوں پر فوج اور رینجرز کے اہلکار تعینات ہیں جبکہ ڈرون طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے چھوٹو گینگ پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ پنجاب پولیس کے یرغمال اہلکار وں بازیابی تاحال ممکن نہ ہوسکی ہے تاہم یرغمالی اہلکار خیریت سے ہیں اور ان کی بحفاظت بازیابی کے لئے کوششیں تیز کردی گئی ہیں ۔ جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور کی تحصیل روجھان میں دریا کے درمیان جزیرہ نماء کچے کے علاقے میں عرصہ دراز سے سنگین جرائم میں ملوث بدنام زمانہ غلام رسول عرف چھوٹو،علی گل بازگیر‘ چوٹانی‘ مندرانی مریدا نکانی‘ طارق عقیل بوسن اور دیگر گروہوں نے اپنی کمین گاہیں بنارکھی تھیں ۔ڈکیتی ، اغواء برائے تاوان اور ملکی سلامتی کونقصان پہنچانے جیسے سنگین جرائم میں ملوث ان جرائم پیشہ عناصر نے نہ صرف صادق آباد‘ رحیم یار خان‘ راجن پور، تونسہ‘ ڈیرہ غازیخان‘ مظفر گڑھ ‘ملتان بلکہ پاکستان بھر کے شہریوں کی زندگی اجیرن بنارکھی تھی۔ ملک میں جاری آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے پیش نظر ملک کی سول و عسکری قیادت نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا کہ مربوط منصوبہ بندی اور آپریشنز کے ذریعے پنجاب سے بھی ان دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کا مکمل صفایا کیا جائے گا۔ جس پر راجن پور کی تحصیل روجھان میں بڑے پیمانے پر ’’ضربِ آہن‘‘ کے نام سے آپریشن شروع کیا گیا ۔ راجن پور میں پولیس آپریشن کی ناکامی اور پولیس اہلکاروں کے یرغمال بنائے جانے کے بعد پاک فوج نے چھوٹو گینگ کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا۔ قبل ازیں علاقے میں 4 کلومیٹر کے علاقے میں موجود مکینوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت کر دی گئی تھی۔ بدنام زمانہ چھوٹو گینگ میں بلوچستان کے فراری، ٹارگٹ کلر اور کالعدم تنظیموں کے کارکن شامل ہیں، جبکہ ان کے خلاف آپریشن کی نگرانی پاک فوج کے اعلیٰ افسر کور کمانڈر ملتان خود کر رہے ہیں۔ فوج نے چھ اضلاع کی پولیس کو واپس بھیج دیا ہے، صرف ضلع راجن پور کی پولیس کو ساتھ رکھا گیا ہے۔ سول حکومت اور عسکری قیادت کا فیصلہ ہے کہ ہتھیار ڈالنے کے علاوہ چھوٹو گینگ کا کوئی اور مطالبہ تسلیم نہیں کیا جائیگا۔ چھوٹو گینگ کے خلاف فوج کی آمد سے مقامی لوگ خوش ہیں۔ پاک فوج کی آمد پر سونمیانی میں علاقہ مکینوں نے فوج کے حق میں نعرے لگائے اور خوشی کا اظہار کیا۔ دو ہزار سے زائد پاک فوج کے جوان اور پانچ سو کے قریب چولستان رینجرز کے جوانوں نے فیصلہ کن کارروائی کیلئے مورچہ بندی کر لی گئی ہے۔ پاک فوج کے گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سپیشل کمانڈوز کو بھی کچہ کے علاقہ میں منتقل کر دیا گیا جبکہ رینجرز کے جوانوں نے جزیزہ نما کچہ جمال کے اطراف میں گشت کرنا شروع کردیا ہے، پاک آرمی کی کشتیاں بھی علاقے میں پہنچ گئیں ہیں۔ آپریشن تیز کرکے ڈاکوؤں کے بھاگنے کے تمام راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔کچا کراچی اورکچاکمال میں گھرگھر تلاشی لی جا رہی ہے۔ پاک فوج کی جانب سے آپریشن ضرب آہن کے آغاز کے ساتھ ہی جنوبی پنجاب کی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور قوی امید کی جارہی ہے کہ برس ہا برس سے دہشت گردوں کے زیر تسلط یہ علاقہ بہت جلد یہ علاقہ امن کا گہوارہ بن جائے گا۔
راجن پور کے اس وسیع و عریض علاقے کو دہشتگردوں نے یرغمال بنا رکھا تھا،جبکہ پنجاب پولیس اس علاقے سے دہشتگردوں اور ڈاکوؤں کا قلع قمع کرنے میں ناکام ہو چکی تھی، ملک دشمن عناصر کو وہاں کے انتہائی بااثر گنے چنے افرادکی سرپرستی کی افواہیں زبان زدعام ہیں۔ مجرم خواہ چھوٹا ہو یا بڑا‘ اس وقت تک طاقتور نظر آتا ہے جب تک ریاستی مشینری کمزوری اور مصلحتوں کا شکار ہو۔ ماضی میں ہر آپریشن اس خوف سے معطل ہوا یہ کہ گینگ مزید نقصان کر سکتا ہے۔ علاقے کے عوام جانتے ہیں کہ ڈاکو اپنی وارداتوں کے بعد ڈکیتی کے سامان‘ تاوان اور بھتے کی رقم سے بااثر سرداروں کے علاوہ پولیس و انتظامیہ کے کرپٹ عناصر کی تواضع کرتے ہیں اور ان کے مخالفین سے بھی نمٹتے ہیں۔ ان ہی وجوہات کی بناہ پران ڈاکوؤں کی متوازی حکومت عرصہ دراز سے قائم تھی مگر آج تک کسی حکومت اور پولیس و انتظامیہ نے اس کے قلع قمع کے لیے فوج او رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔حتیٰ کہ ہوٹل‘ پٹرول پمپ‘ بڑے کاروباری اداروں کے مالکان اپنے بچوں کو دوسرے شہروں میں منتقل کرنے پر مجبور ہوئے مگر روک تھام کی سنجیدہ کوشش اب ہو رہی ہے۔ فوج اور رینجرز کی موجودگی سے لوگوں کا حوصلہ بڑھا ہے، تاہم زندہ گرفتاری کی صورت میں اس کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کا قلع قمع ضروری ہے تاکہ آئندہ کوئی سرداراور پولیس افسر، ان جیسے جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی نہ کرسکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *