اسرائیل کیسے وجود میں آیا ؟

naeem baloch1آئیے پانامہ لیکس ،چھوٹو گینگ اور ادھر ادھر کے مسائل سے دامن بچا کر آج ذرا تاریخ کے اہم واقعے کے بارے میں جانتے ہیں۔ اس سے ہم یہ بھی جان لیں گے کہ چھوٹے چھوٹے مسائل کیسے بڑے مسائل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور لمحوں کی غلطی صدیوں کی سزا کیوں بن جاتی ہے ۔
معلوم ہو نا چاہیے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کا انکار کرنے اور انھیں شہید کرنے کی کوشش کے جرم میں یہود اللہ کے عذاب کا شکار ہو گئے۔ جب سلطنت روم بھی حضرت عیسٰی علیہ السلام پر ایمان لے آئی تو یہودیوں پر عرصہ حیات تنگ ہونے لگا ۔ سیاسی طور پر وہ پہلے ہی پس ماندہ تھے لیکن رومیوں کے عیسائی ہو جانے کے بعد ان کو دنیا میں کہیں امان نہ ملی۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد ان کہ پہلی سلطنت 1945 ء میں قائم ہوئی۔ یہ بھی اس وقت ممکن ہوا جب انھوں نے عیسائیوں ہی کے ساتھ صلح کی اور ان کی سیاسی اور تمدنی بالا دستی قبول کی ۔ یہ کیسے ممکن ہوا ، آئیے آپ کو بتاتے ہیں ۔
انیسویں صدی میں سلطنت برطانیہ سب سے بڑی طاقت تھی۔مگر اس صدی کے وسط میں جرمنی بھی ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے ابھرا۔ یہود یورپ میں ایک حقیر اقلیت کی شکل میں بس رہے تھے۔ سیاست پر مذہب کی اجارہ داری ختم ہو چکی تھی ۔ مذہبی عصبیت کی جگہ وطنی عصبیت نے لے لی تھی ، انسان اپنا تعارف مذہب کے بجائے قومیت سے کرانے لگا تھا۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ یہود کو ہوا۔ انھوں نے آزادی کے اس دور کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر محسوس طریقے سے اپنے آپ کو علمی اور مالی طور پر منظم کرنا شروع کر دیا۔ ادھر یورپی قوموں میں برطانیہ اور جرمنی ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے تھے۔ ان کے درمیان خام مال،تیار مال کی فروخت اور دوسرے وسائل کے لئے مقابلہ لازمی تھا۔اس نئی دنیا میں ماضی کے دشمن ایک دوسرے کے ساتھ نئے تعلقات بنا رہے تھے۔ چنانچہ ایک طرف برطانیہ،فرانس اور روس کا اتحاد بن گیااور دوسری طرف جرمنی،اٹلی اور آسٹریا ہنگری کا اتحاد بن گیا۔اس منظر نامے میں ترکی کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔ وہ اگر چہ رقبے کے لحاظ سے اس وقت ایک وسیع ریاست تھی مگر سائنسی اور ٹکنالوجی کے اعتبار سے ابھی بھی یورپ کی قوموں سے بہت پیچھے تھا ۔ اس لئے کہ وہ اقتصادی اور معاشرتی ترقی کے اعتبار سے پس ماندہ تھا اور اسی لئے یورپ کامرد بیمارکہلاتا تھا۔ یورپ اور اس کا مقابلہ ایسے ہی تھا جیسے گھوڑا گاڑی اور ریل گاڑی کا مقابلہ ہو۔اس پس منظر میں جب پہلی جنگ عظیم 1914ء میں چھڑ گئی تو ترکی نے بلاضرورت اس میں جرمنی کا ساتھ دیا اور روسی بندرگاہوں پر حملہ کر کے اپنی طرف سے جنگ کی ابتدا بھی کر دی۔چنانچہ برطانیہ اور اس کی اتحادی افواج نے ترکی مقبوضات،جن میں فلسطین بھی شامل تھا،کو اپنا ٹارگٹ بنا لیا۔
اب دیکھئے کہ اُس وقت عالم عرب کی صورت حال کیا تھی۔1517ء میں عثمانی ترکوں نے مملوک خاندان سے اقتدار چھینا اورفلسطین پر قبضہ کر لیا تھا۔اسی دور میں مصر سمیت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی ترکوں کے قبضے میں چلے گئے۔عربوں میں قبائلی معاشرت تھی اور ترکوں کا ر ویہ ان کے ساتھ حاکمانہ تھا۔چنانچہ جگہ جگہ بغاوتیں پھوٹتی رہیں۔قوم پرستی کا جذبہ بڑھتا رہا۔اور ترک انتہائی بے رحمی کے ساتھ مختلف بغاوتوں کو کچلتے رہے۔چنانچہ پورے عالم عرب میں بلحاظ مجموعی ترکوں کے خلاف نفرت کی ایسی فضا پیدا ہوگئی کہ وہ ترکوں کے خلاف ہر طاقت کا خیر مقدم کر نے کے لئے تیار تھے۔
چنانچہ جب پہلی جنگ عظیم چھڑی تو برطانیہ نے ترکی کو شکست دینے کے لئے ایک پلان بنایا۔اس پلان کے تحت برطانیہ نے ایک طرف دنیا بھر کے یہودیوں کی حمایت حاصل کر نے کی کوشش کی، جواب بہت مالدار ہو چکے تھے اور جن کے پیسے اورعلم وہنر کی برطانیہ کو سخت ضرورت تھی۔دوسری طرف برطانیہ نے ان عرب طاقتوں کی حمایت کا اعلان کیا جو ترکوں سے برسرپیکار تھے۔ بدلتے ہوئے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے یہودیوں نے اپنے آپ کو منظم کرنا شروع کر دیا تھا اور اس کے لیے اس تنظیم ’’صیہون ‘‘8 سب سے آگے تھی۔ جس زمانے میں کیمسٹری کا یہودی پروفیسر ڈاکٹر وائنر مین صیہونی تحریک کا سربراہ تھا، اس نے برطانوی حکومت کو چند ایسی ایجادات بنا کر دیں جن سے جنگ میں برطانیہ کا پلہ بھاری ہوگیا۔اس کے عوض اس نے برطانوی حکومت سے یہ انعام مانگا کہ وہ یہ وعدہ کرے کہ جنگ عظیم میں کامیابی کی صورت میں فلسطین میں یہودیوں کا ایک قومی وطن قائم کیا جائے گا۔چنانچہ نومبر1917میں وزیر خارجہ لارڈ بالفور نے ایک خفیہ خط کے ذریعے سے یہ وعدہ کر لیا۔اس خط کو عرف عام میں اعلانِ بالفور کہا جاتا ہے۔ صیہونی تحریک اور برطانیہ میں اس خفیہ معاہدے کی وجہ سے یہودیوں کی تمام ہمدردیاں برطانیہ ، فرانس اور اس کے دیگر اتحادیوں کے ساتھ ہو چکی تھیں ۔ یہودیوں کے رویے سے جرمنی کو اس کا بخوبی اندازہ ہو چکا تھا کہ ان کے گھر میں ان کے دشمن پیدا ہو چکے ہیں۔ادھر جب ہٹلر کی نازی پارٹی کا زور ہوا تو یہودی بھی سمجھ گئے کہ اب جرمنی میں ان کا قیام خطرے سے خالی نہیں ہو گا۔ چنانچہ ہٹلر کے اقتدار میں آتے ہی (3جون 1933) کو 26جرمن نیو کلیئر سائنس دانوں میں 14ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ یہ تمام کے تمام یہودی تھے۔ ان میں آئن سٹائن سمیت متعدد وہ سائنس دان تھے جنہوں نے امریکہ میں ایٹمی ٹیکنالوجی کی نہ صرف بنیاد رکھی بلکہ ایٹم بم بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان میں میکس بورن، جیمز فرانک، ماریا جیو پرٹ میر، بورن وغیرہ شامل تھے۔ یوں امریکہ کو عالمی طاقت بنانے میں یہودیوں کا بنیادی کردار شامل ہے۔ کچھ سائنس دان برطانیہ اور فرانس چلے گئے جہاں انہوں نے ان دونوں ملکوں کو ایٹمی طاقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یوں اس اتحاد کی بنیاد پڑی جسے آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ ادھر جرمنی کا حال یہ ہوا کہ وہ ایٹمی ٹکنالوجی کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی ۔یوں یہود کی دشمنی جرمنی کو بہت مہنگی پڑی ۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ سائنس دان ہٹلر کے خوف سے جرمنی چھوڑ گئے تو پیچھے رہ جانے والے غیر یہودی سائنس دانوں میں میکس پلانک (Max Planck) نے کسی مناسب موقع پر اس عظیم قومی نقصان پرہٹلر کی توجہ مبذول کرائی لیکن ہٹلر نے میکس کی بات سن کر اسے بری طرح ڈانٹ دیا اور کہا کہ اگر یہ گھٹیا یہودی یہاں رہتے تو مار دیے جاتے۔
برطانیہ کے بالفورمعاہدے کا راز 1917ء میں روسی حکومت نے اُس وقت افشا کیا جب جنگ عظیم اول کے درمیان میں ہی روس میں کمیونسٹو ں نے زار کا تختہ الٹ کر اپنی حکومت قائم کر لی۔اس سے بالکل ناواقف اور اپنے مستقبل سے بالکل نآاشنا عرب ترکوں کی نفرت میں انگریزوں کے گن گا رہے تھے۔ چنانچہ دسمبر 1917ء میں جب برطانوی افواج یروشلم پہنچیں توتمام شہریوں نے شہر سے باہر آکر ان کا والہانہ استقبال کیا، حالانکہ اس وقت تک برطانیہ کے یہودیوں سے کئے گئے تمام وعدے سامنے آچکے تھے۔اس کے بعد اگلے تیس برس میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودی آباد کاری کے لئے ہر جائز و ناجائز ہتھکنڈوں سے کام لیا۔ ظاہر ہے یہ اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار ہو رہی تھی۔ علاقے کے عربوں عاقبت نا اندیشی کا اندازہ اس سے لگائیے کہ شام اور لبنان میں بیٹھے ہوئے تمام غیر حاضر زمینداروں نے منہ مانگی قیمت پر اپنی زمینیں یہودیوں کو فروخت کردیں۔ایک بڑی تعداد میں فلسطینیوں نے بھی اپنی زمین یہودیوں کو زیادہ قیمت کے لالچ میں فروخت کردی ۔
جب یہودیوں کی آبادی کافی بڑھ گئی تب وہاں کے مسلمانوں کو ہوش آیا اور1936ء سے لے کر 1939ء تک فلسطینیوں نے برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔مگر اب چڑیاں کھیت چک چگی تھیں ۔ برطانوی اور یہودی اکٹھے ہو چکے تھے، چنانچہ بغاوت کچل دی گئی۔یہ یہ بغاوت کامیاب بھی ہوسکتی تھی لیکن فلسطینی آپس میں تقسیم تھے، جب کہ یہودی پہلے دن سے ہی ایک متحد تنظیم جیوش ایجنسی کے تحت منظم تھے۔اس کے ساتھ ہی یہودیوں نے ایک تربیت یافتہ فوج بھی تیار کر لی۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس مملکت کے قیام کے لئے یہودیوں نے جتنی قربانی دی، اس کی تاریخ میں مثالیں بہت کم ہیں۔مختلف حکومتوں کے خوف سے بھاگنے والے تو خیر آ ہی رہے تھے،لیکن بہت بڑ ے مالدار اور نامی گرامی یہودی بھی اپنی آرام دہ زندگی چھوڑ کر فلسطین کے صحراوؤں میں آکر اپنے مستقبل کی مملکت کی تعمیر میں جُت گئے۔
فلسطین میں یہودیوں کی آبادی آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی۔ ساری دنیا سے یہودی اپنے مستقبل کے قومی وطن کی خواہش میں یہاں آتے گئے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران میں جرمنی سے بھاگ کر آنے والوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا، کیونکہ ایک اندازے کے مطابق ہٹلر نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کو قتل کر دیا تھا اور باقی جان بچا کر فلسطین بھاگ آئے۔1948ء میں یعنی اسرائیل کے قیام کے وقت وہاں سات
لاکھ اٹھاون ہزار یہودی بس گئے تھے۔جب برطانیہ نے دیکھا کہ اب وہاں ایک یہودی وطن بن سکتا ہے تو اس نے اس پورے علاقے کو
اقوام متحدہ کے حوالے کردیا۔اس وقت صورت حال یہ بنی کہ امریکہ اور روس سمیت تمام طاقت ور ممالک اسرائیل کے حامی تھے۔چنانچہ نومبر1947ء میں اقوام متحدہ نے ایک قرار داد کے ذریعے سے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا۔اسرائیل کو کل رقبے کا چھپن فیصد دیا گیا اور فلسطینیوں کو 44%فیصد دیا گیا۔ یہ آبادی کے لحاظ سے ایک ناجائز تقسیم تھی اس لیے فلسطینیوں اور ارد گرد کے عرب ممالک نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔ میرے نزدیک اُس وقت فلسطینیوں اور دیگر عرب ممالک کا یہ انکار حکمت عملی کے لحاظ سے غلط تھا۔ انھیں بھی اسی طرح اس تقسیم کو مان لینا چاہیے تھا جس طرح قائد اعظم نے بر صغیر کی تقسیم میں ناانصافیوں کے باوجود مان لیا تھا۔( ہمارے وہ دوست جو برصغیر کی تقسیم کے فیصلے کو غلط سمجھتے ہیں کبھی اس حوالے سے بھی غور فرمائیں )دراصل اُس وقت کی تمام بڑی طاقتیں اسرائیلی ریاست کے قیام کے حق میں تھیں۔یہودی،مسلمانوں کی نسبت بہت زیادہ طاقت ور اور پرجوش تھے۔اس کے مقابلے میں مسلمان ممالک کمزور اور آپس میں ایک دوسرے سے دشمنی رکھنے والے تھے۔انھیں اپنا وطن قائم کر کے آگے کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے تھی۔ چنانچہ یہ کتنی تلخ حقیقت ہے اس وقت جو کچھ فلسطینیوں کو مل رہا تھا وہ اس سے کہیں زیادہ تھا جس پر آج فلسطینی راضی ہو نے پر مجبور ہیں ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قوموں میں سمجھوتے انصاف کی بنیاد پر نہیں زمینی حقائق کی بنیاد پر ہوتے ہیں ۔
یوں چودہ مئی 1948ء کو آخری برطانوی رجمنٹ کے رخصت ہوتے ہی اسرائیل نے اپنی آزادی کا اعلان کر لیا۔ہمسایہ عرب ممالک یعنی شام،اردن،مصر اور عراق نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہو ئے اعلان جنگ کر دیا۔ اگر یہ تمام اکٹھے ہو کر یہ جنگ لڑتے تو بھی کچھ بات تھی لیکن یہ سب ملک آپس میں ایک دوسرے کے بھی دشمن تھے اور ان کے بہت سے کمانڈر ایک دوسرے کی حرکات کے بارے میں اسرائیلیوں کو آگاہ بھی کر رہے تھے۔ چنانچہ نتیجہ بدترین شکست کی صورت میں نکلا اور اسرائیل نے مزید علاقے پر قبضہ کر لیا۔اس جنگ کے بعد اسرائیل نے تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کیں جبکہ فلسطینی خطے کے اسلامی ملکوں نے جو بھی حکمت عملی اختیار کی وہ نتیجے کے اعتبار سے اسرائیل کو مضبوط اور فلسطینیوں کو کمزور کرنے ہی کا باعث ہوئیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *