’’ضابطۂ حیات کھیر‘‘ ٹیڑھی ہے جناب !

حافظ یوسف سراج

yousuf saraj.

جیساکہ ہم سنتے رہتے ہیں، معمولی مماثلت کی بنا پربھی بعض دفعہ ہمارے ہاں ایک نام کو دو سرے مسمٰی پر شب خون مارنے دیاجاتاہے۔ مثلاً حافظ ہمارے ہاں ایسے حوصلہ مند شخص کوکہتے ہیں، جو دیکھے(اور سمجھے) بغیر پوری کتابِ الٰہی پڑھ سکے۔ ادھر حافظ کے مقابلے میں ایک نابینا شخص چونکہ ایک کتاب کیا،پوری زندگی بغیر دیکھے پڑھ بلکہ پیس ڈالتاہے،سو دونوں کے اسی’’نہ دیکھنے کے اشتراکِ عمل‘‘ کودیکھتے ہوئے نابینا کوبھی ہمارامعاشرہ حافظ ہی پکار تاہے۔گویاہمارے ہاں بغیر سمجھے پڑھنے والا ہی حافظ نہیں کہلاتا،بغیر دیکھے کرگزرنے والا بھی حافظ ہی ہوتا ہے۔ ویسے توخیر ان دونوں کااللہ ہی حافظ ہوتاہے مگر یہ دونوں بھی بہرحال حافظ ہی ہوتے ہیں۔ اس سے یہ بھی نہیں سمجھ لیناچاہئے کہ اب ہمارا معاشرہ ایساہی کلر بلائنڈہے کہ وہ ایک حافظ اور ایک نابینامیں کچھ فرق اور فاصلہ ہی نہیں کر سکتا ہے۔یایہ کہ وہ اس اتصال شدید میں کوئی رخنہ خفیف چھوڑنے کاقائل ہی نہیں۔جی نہیں،بلکہ ہر دو حافظوں میں اس نے ایک باریک سافرق بہرحال رکھ چھوڑاہے۔فرق بھلارکھا بھی کیوں نہ جاتا، جبکہ فرق اور فاصلہ رکھنا تو یوں بھی ضروری ہے کہ بسوں پر بھی لکھا جاتا ہے۔ فاصلہ رکھیں،پریشر بریک۔ یہاں تودونوں میں فرق اورفاصلہ رکھناا سلئے بھی ضروری تھاکہ کہیں اس حافظی مشابہت کو موقع پاکر ایک طرح کا حافظ دوسری طرح کے حافظ کی مملوکات پر ہاتھ ہی نہ پھیرنے (یاصاف کرنے) لگے، چنانچہ ایسے ہی دقیق معاملات کے پیشِ نظر کتابی حافظ کو ’’حافظ صاحب‘‘ اور آنکھ کے حافظ کو ’’حافظ جی ‘‘کہہ کے کچھ نہ کچھ فرق کر لیا جاتاہے۔ بعض داناؤں کا قول ہے کہ اگر کہنے والے کی دوڑمیں،کہے جانے والے کی دوڑ سے ذرا سی بھی زیادہ مستعدی ہو تو اسے اپنے رسک پر" صاحب "کے لفظ کو "جی "سے بدلنے کاخطرہ مول لے لیناسے ہر گز چاہئے۔تاہم واضح رہے ،یہ امربہ یک وقت سنجیدگی، ہوشمندی اور پامردی کا متقاضی ہے۔ ورنہ یوں بھی ہو سکتاہے کہ صاحب اورجی کے معمولی تبادلے میں جوغیر معمولی نقصان حافظ صاحب کے ہاتھوں پہنچناابھی غیریقینی ہی ہو وہ عین اپنی خام کاری کے باعث عین یقینی ہو جائے،مثلاً فرض کیجئے ، آپ کی زبان جائے وقوعہ سے جائے فرارتعمیر کئے بغیر ہی ایسی کھجلی کر بیٹھے۔ اور پھر عین وقتِ فرارظاہر ہو کہ محاورے کے مطابق آگے کنواں اورپیچھے کھائی تویہاں نہیں البتہ مجادلے کے مطابق آگے کنواں پیچھے حافظ مع عزائم ضرورموجودہے۔ظاہر ہے کہ ایسی عاقبت نااندیشی برتنے سے حافظ صاحب کی سات قراتوں کے وقیع اثرات کم و بیش آپ کی سات پشتوں تک دراز ہوسکتے ہیں۔(گھبرائیے نہیںیہاں صرف ایک ہی پشت آپ کی ہوگی اور باقی الحمدللہ آپ کی نسلی پشتیں کام آئیں گی۔)
ہماری دوڑمیں گو وہ مطلوبہ مستعدی تو نہیں،جو اس فن میں درکار ہونی چاہئے ، اس کے باوجود ہمیں بھی گاہے یہ مسئلہ پیش آ ہی جاتاہے۔یعنی کبھی ہم حافظ جی کو حافظ صاحب اور کبھی حافظ صاحب کو جلدی میں حافظ جی کہہ بیٹھتے ہیں۔ بھائی آخر کو انسان جو ٹھہرے ، خیرایسے میں ہماری عاجزانہ دعا یہی ہوتی ہے کہ خواہ عارضی طورپر ہی سہی، بہرحال خداکرے کہ ہمارے مخاطب میں فی الفور دونوں ہی حافظی اوصاف پیدا ہو جائیں۔کم ازکم اتنی سی دیر کے لئے ہی پیدا ہو جائیں کہ حافظ صاحب کے مضبوط فیصلہ لینے سے پہلے پہلے ہم ایک محفوظ فاصلہ لے سکیں۔ اب آپ سے کیاپردہ ایسے موقعوں پر محفوظ مقام تک نہ پہنچنے سے اگلے جہاں پہنچنے کے امکانات خاصے روشن ہو جاتے ہیں۔عرض کیا تھا ناکہ یہ بڑی سنجیدگی اور پامردی کا بھی کام ہے۔ خیر ایسے موقعوں پردنیاوی جاہ منصب نہیں بس دعائے دوستاں ہی کام آتی ہے۔ دعا سے یاد آیا، ایک طالب علم رو روکے دعا کئے جاتاتھا۔یا الٰہی پاکستان کا دارالحکومت ڈھاکا بنادے۔ یا اللہ ڈھاکا کوپاکستان کا دارالحکومت بنادے۔کسی نے پوچھابھائی آخر تمھیں اسلام آبادسے کیاچڑہے؟ کہنے لگا، مسئلہ توکوئی نہیں،البتہ میں امتحان میں ڈھاکہ کو پاکستان کا دارالحکومت لکھ آیا ہوں۔ ایک تحقیق کے مطابق ابھی ایسی کوئی تو تحقیق نہیں ہو سکی کہ ملک میں سادہ حافظوں کی تعداد زیادہ ہے یا حافظ جی صاحبان کی تعداد فزوں تر ہے۔البتہ رمضان میں حافظ صاحبان کی تعداد مسجدوں سے زیادہ اور پولیس کی اندھا دھندفائرنگ کے دوران حافظ جی صاحبان کی تعدادکا پلڑا بھاری نظر آنے لگتاہے۔ویسے یوں تو اس قومی راز پر ہمیشہ پردہ ہی پڑا رہتاہے کہ پولیس کے اندھا دھند معاملات کے لئے حافظ جی صاحبان کی خدمات مستعار لی جاتی ہیں البتہ کسی بھی قسم کی اندھا دھند فائرنگ یا اندھا دھند لاٹھی چارج کے وقت ا س راز سے ذرا سی دیر کے لئے ضرور پردہ ہٹ جاتاہے۔ جیساکہ اخبارات "اندھا دھند" کے لفظ لکھ کر اشارہ کر دیتے ہیں کہ وقوعہ حاضرہ میں حافظ جی صاحبان پر مشتمل اندھے دستے اندھا دھند کام میں لائے گئے ہیں۔ ان خصوصی موقعوں کے علاوہ البتہ دونوں قسم کے حافظ عام انسانوں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔
بہرحال حفظ  مراتب کا خیال نہ رکھنے سے بھی اس باب میں کئی الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔ یوں بھی ہواہے کہ ایک حافظ کی کارروائی کو دوسرے حافظ کی کارکردگی بھی سمجھ لیا جاتاہے۔ گو تاریخی اعتبار سے یہ کاروائیاں زیادہ ترلذیذ کھیر کے میدان میں ہوتی آئی ہیں۔ راوی جو کچھ زیادہ ضعیف بھی نہیں، کے مطابق ایک بار حافظ جی سے پوچھا گیاکہ پیارے حافظ جی! یہ تو بتائے کہ کیا آپ کھیرکھانا پسند فرمائیں گے؟َ  انھوں نے فی البدیہہ حقیقت پسندی کا ثبوت یہ کہہ کر دیاکہ "تو اورکیایہ حافظی ہم نے روکھی سوکھی چبانے کے لئے اوڑھ رکھی ہے؟ دوسرے راوی، جو پچھلے راوی سے کچھ ہی زیادہ ضعیف ہیں، اس روایت میں اضافہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ حافظ جی ہمیشہ سے ہی کھیر کے ایسے طلبگار نہ تھے، ایک وقت تھاکہ یہ کھیر کا نام تک نہ جانتے تھے۔انھی دنوں کا قصہ ہے کہ حافظ جی سے کھیر کھانے کے بارے میں پوچھاگیاتو جیسا کہ ہم نے بتایا یہ اس وقت اس جنتی ذائقے سے ناواقف تھے۔ پوچھنے لگے ، یہ کھیر کیا ہوتی ہے؟کسی نے دور سے پکارا، سفید ہوتی ہے جناب۔ اس پر حافظ جی نے ایک آہِ سرد کے معاً بعد کہا، اے بھائی بھلااندھا کیا جانے سیاہ و سفید۔ اب یہاں پہنچ کربتانے والے نے خود کو مشکل میں محسوس کیامگر حوصلہ نہ ہارتے ہوئے پرویز رشید صاحب کی طرح وضاحتی بیان بہرحال جاری رکھا ،عرض کی،یہ بالکل ویسے ہی سفید ہوتاہے جناب جیسے کوئی جوان بگلا بالکل چٹاسفیدہو!اب سوال اٹھاکہ ایک بالکل جوان بگلا، جو سفید ہو، وہ کیا بلا ہوتاہے؟ کہ جس جیسی پھر کھیر ہوتی ہے؟ اور جس کے بارے بتایاجانا ہے کہ آیا اس کی قسمت میں ایک اندھے کے ہاتھوں کھایا جاناہے یا مسترد فرمایاجاناہے۔وضاحت کار نے بے بسی سے ادھر ادھر دیکھاتو اتفاق سے اسے پاس ہی ایک بالکل سفید بگلا دکھائی دے گیا۔اب اس عقل کے اندھے نے ایک آنکھوں کے اندھے کودرپیش مسئلے کا حل یہی جانا کہ بگلاپکڑ کے سیدھا اندھے کی کسٹڈی میں دے کر اندھے اور بگلے کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔یہ اٹھا اور ایک کامیاب کوشش کرکے بگلا پکڑ لایااورلا حافظ جی کے ہاتھ میں تھما یاکہ بگلا یہ ہوتاہے حضور!اب آپ پریکٹیکلی فیصلہ فرمائیے کہ آیا آپ کھیر کھاسکیں گے یا نہیں؟ حافظ جی نے بگلا محسوس کرنے کوفیصلہ کن ہاتھ آگے بڑھایا۔ سوئے اتفاق دیکھئے کہ کھیر کے بارے حافظ جی کے اخلاصِ نیت کے باوجود ہاتھ جا پڑا بگلے کی صراحی دار ٹیڑھی گردن پر۔ اب حافظ جی اس ٹیڑھی گردن پر ہاتھ پھیرتے جاتے تھے او ربے بسی سے پکارتے جاتے تھے ، صاحبو!ہماری دانش پر اعتماد کرو ، یہ جوکھیر ہوتی ہے نا ،یہ بڑی ٹیڑھی ہوتی ہے ،اس کا پکایا جانا کمال ہوتا ہوگا مگر اس کا کھایاجانا شرعاًوبال، عقلا محال اور عملا جنجال ہے۔سو یہ کھیر دکھانے کی ہو سکتی ہے، کھانے کی ہرگز نہیں۔
حافظ جی کے اس نتیجے تک پہنچنے میں غلطی جہاں بھی ہوئی ہو ،ہمارے قارئین یقیناً اس نتیجے پر پہنچ گئے ہوں گے کہ حافظ جی کی طرح آج ہمارا ہاتھ بھی کالم کی کسی غلط جگہ پر پڑگیاہے۔جی ہاں مگریقین جانیے کہ ٹھیک اسی وقت ہم نے غلط جگہ سے ہاتھ اٹھا کے کالم کی ٹھیک جگہ پر رکھ لیاہے۔ شاید آپ نے دھواں اٹھتے دیکھا ہو ،کچھ دن ہوئے ،یہاں ایک کھیر پک رہی ہے۔نام ہے اس کا اسلام ضابطۂ حیات نہیں ہے۔فی الوقت تویہی کہ حضور یہ جہاں ہاتھ رکھ کے آپ نے قطعی فیصلہ فرماد یاکہ یہ کھیرٹیڑھی ہے، کھائی نہ جائے گی۔ٹیڑھی ہو کہ میڑھی، یہ کھیربہرحال نہیں۔ یہ کوئی عقلی بگلا بھی نہیں، یہ تو بس بگلے کی نازک سی گردن ہے، جو ظاہر ہے کھیر کی طرح بالکل سفید تو ہو سکتی ہے، کھیر نہیں ہو سکتی۔ آپ نے ناحق اس کھیر کے پکانے میں کالم کاقیمتی چرخہ جلا دیاہے۔
( یہ کھیر نہیں تو پھر کھیر کیا ہے ؟ ہمیں اگلاچرخہ لانے اور جلانے تک کی فرصت بخشئے۔عرض کرہی دیں گے۔ ان شااللہ !)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *