چیکو سلواکیہ سے ’’چیکیا‘‘ تک

chechملکوں کے نام بدلنا کوئی انہونی بات نہیں ۔ اس کی بہت سی مثالیں ہیں اور وجوہات بھی۔ مثلاً برما نے اپنا نام ’’میامار‘‘ اس لے رکھا کہ برما کا تشخص ایک آمریت والے ملک کے حوالے سے تھا ۔ اسی طرح سوویت یونین کا نام اس کے اندر جغرافیائی سرحدوں کی تبدیلی کے بعد ’’ رشیا ‘‘ رکھ دیا گیا۔ اسی طرح مشرقی پاکستان اب ’’ بنگلا دیش ‘‘ کہلاتا ہے۔ اس کے علاوہ ملکوں کے نام تبدیل ہونے کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ کچھ اسی طرح کا مسئلہ اس وقت جمہوریہ چیک کے ساتھ ہے ۔ جب یہ ملک یوگوسلاویہ سے علیحدہ ہوا تو اس کا نام چیکوسلواکیہ رکھا گیا ، جو بدل کر جمہوریہ چیک رکھا گیا اور اب اس کا نام چیکیا رکھنے کا عمل جاری ہے۔ چنانچہ رواں مہینے کی چودہ تاریخ سے اس ملک کی پارلیمنٹ یہ چاہ رہی ہے کہاکانام ’’چیکیا ‘‘( Czechia)رکھ دیا جائے۔ اور وزیر خارجہ نے اس کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ لیکن ایک سروے کے مطابق 74% لوگ یہی چاہ رہے ہیں کہ ملک کا نام تبدیل نہ کیا جائے ۔ ملک کے صدر میلوس زمان کا کہنا تھا کہ یہ صرف اور صرف انگریزی کے ہجوں ( Spelling ) کا مسئلہ ہے۔ ان کے خیال کے مطابق Czech کو انگریزی میں Czechia کہیں گے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے Russian Federationکی جگہ اس کا نام اب Russiaہے۔ لیکن ماہرین اس پر یہ تنقید کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ cz تو پولش زبان کا انگریزی ورژن ہے ۔ اس کا چیک زبان سے کوئی تعلق نہیں۔ ادھر حکومت پریشان ہے کیونکہ اولمپیک کے مقابلوں میں ملک کے کھلاڑی حصہ لیں گے تو سوال یہ ہے کہ ان کے ملک کے انگریزی میں کیا سپیلنگ ہوں گے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس بات کا اتنا ہی خیال تھا تو اسے یہ کام پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ بہرکیف وزیر خارجہ نے یہ کہہ کر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ صرف ہجوں کا کومسئلہ ہے اس لیے پارلیمنٹ اس کی منظوری دے اور ملک کو جگ ہنسائی سے بچائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *