ڈاکٹر کتنے انسان ہیں اور کتنے کاروباری

ڈاکٹر رابعہ خرم درانیbirth
میرا تجربہ میو اور لیڈی ولنگڈن ہسپتال کا ہے .. اب آپ ہمیشہ بات کرتے ہیں ڈاکٹر کی .. میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں ڈاکٹر میں چھپے انسان کی کہانی ۔لیڈی ولنگڈن میں آغاز نائٹ ڈیوٹی سے ہوا .. پہلی نائٹ پر 16 میجر آپریشن اسسٹنٹ کروائے اور 20 25 نارمل ڈیلیوری تھیں .. میں ہاوس سرجن تھی .. میرے ساتھ ایک میڈیکل آفیسر اور ایک سینئر رجسٹرا تھیں .. ہم 3 ڈاکٹرز اور 2 نرس لیبر روم میں .. جبکہ تھیٹر کا عملہ الگ ہوتا ہے .. .
میرا پہلا دن تھا ۔اصولی طور پر فائنل ائیر پاس کرنے کے لئے 20 نارمل ڈیلیوریز .،جو کام کے لوڈ کی وجہ سے 200 تک بھی جا پہنچتا ہے لیکن لکھا 20 ہی جاتا ہے اور ایک آپریشن کی اسسٹنٹ چاہئے ہوتی ہے .. لیکن اس کا حال بھی نارمل کیسز والا ہی ہو جاتا ہے ..
خیر پہلی ڈیوٹی ..اکلوتی ہاوس سرجن 16 میجر آپریشن .. جزب اور ہمت کی فراوانی .. اگلی صبح بغیر بریک کے دوپہر دو بجے تک ڈیوٹی اور رات کے داخل شدہ مریضوں کو سنبھالنا .. .. دوپہر دو بجے سے شام 7 بجے تک آف ٹائم .. اس میں آپ کھانا کھا لیں .. نیند پوری کر لیں .. نہا دھو کر صاف کپڑے تبدیل کر لیں ..پانچ گھنٹے کے بعد دوبارہ آپ 36 گھنٹے کی ڈیوٹی پر حاضر ہو جائیں۔ یاد کھیں جذبہ ختم نہیں ہوتا۔ہاں نیند پوری نہیں ہوتی۔ اگر بند ہوتی آنکھوں کو کھولنے کے لئے اگر ڈاکٹر چائے پی لے تو خبر لگتی ہے .. مریض تڑپ رہا تھاڈاکٹر ٹی پارٹی کر رہے تھے۔
خیر میں بتا رہی تھی کہ ایک ایک بیڈ پر چار چار خواتین دردِ زہ میں مبتلا خواتین محض بیٹھ سکتی تھیں ۔ کیونکہ بیڈ تو کم تھے اور رش زیادہ .. لیبر روم میں گیلری میں واش روم میں ..ہر جگہ ڈاکٹرز بچہ پیدا کروا رہی ہوتی ہیں۔ انتہائی مشکل حالات میں۔ میو بچہ وارڈ ایمرجنسی میں ایک 24 گھنٹے میں تین سو سے چار سو بلکتے تڑپتے شدید بیمار بچوں اور ان کے نہایت پریشان لواحقین سے با اخلاق طریقے سے پیش آنا ، یہ نوجوان ڈاکٹروں کا ہی کرشمہ ہے لیکنآپ میں سے کوئی تمام دن اور رات اور اگلا دن مسلسل خون چیخوں کراہوں موت اور خوف کے درمیان سے گزرے اور پھرمسکرا کر دکھا دے۔ پرائیویٹ سیٹ اپس میں آپ کا اپنا سسٹم ہوتا ہے ۔ کام کے اوقات اپنی مرضی اور مارکیٹ ٹرینڈ کے مطابق ایڈجسٹ کئے جا سکتے ہیں ۔ ہاں آپ اپنے کام کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں اور کسی اور پر یا سسٹم کی خرابی پر الزام دہر کر بری الزمہ نہیں ہو سکتے۔ اس لئے تمام کام نہائیت سخت مانیٹر اور مخصوص تفاصیل کے ساتھ کرنا ہمارے پروفیشنل ازم کا تقاضہ ہے تا کہ پیچیدگیوں کے امکان کو حتیٰ الوسع کم کیا جا سکے۔ اب ہوتا کیا ہے۔ ہم لوگ صبح اٹھتے ہیں تو بچے سکول جا چکے ہوتے ہیں۔ ہمارا دن آفس میں ، مریضوں کے ساتھ گزرتا ہے۔ بچے گھر پر آ جاتے ہیں .. میڈ کھانا دے دیتی ہے .. ٹیوٹر بچوں کو پڑھا کر چلا جاتا ہے .. ہم رات میں واپس آتے ہیں تو بچے سوچتے ہوتے ہیں۔بسا اوقات دو ، دودن ہم اپنے سوئے بچوں کو دیکھ کر ان کے معصوم گالوں کو چوم کر اپنی تڑپتی ممتا اور پدرانہ شفقت کو بہلا لیتے ہیں ..۔ اگر ماں ڈاکٹر نہیں ہے تو کم از کم بچوں کو ماں میسر ہے لیکن .. ایک مکمل گھر کی تصویر ناممکن اگر نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے ۔سب کہیں گئے کہ ڈاکٹر اپنے لالچ کے لئے پریکٹس کرتے ہیں۔میں آپ کو بتاتی ہوں کہ ایک اچھا جنرل پریکٹیشنر معاشرے کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ڈاکٹر جب کسی کی جان بچاتا ہے، جب میرے ذریعہ سے کسی بے اولاد کے گھر کلکاریاں گونجتی ہے .. جب بچوں کی ماں اپنے جہاد سے سرخرو ہو کر اپنے گھر کو مکمل کرنے کے لئے اپنے خاندان میں واپس جاتی ہے .. جب بھی میں یا میرے نامدار کسی گھر کو ٹوٹنے سے بچاتے ہیں .،کسی خاندانی جھگڑے میں ثالث بنتے ہیں،تب ہم فیس کے لئے ایسا نہیں کرتے۔ ہمیں وہ دعائیں تازہ دم کر دیتی ہیں جو ان مطمئن دلوں سے نکلتی ہیں۔ میں بھی سرکاری سیٹ اپ میں پرائیویٹ سیکٹر کو پیسہ بنانے کی مشین جانتی تھی ۔ لیکن اب جانتی ہوں کہ نہیں ایسا نہیں ہے .. ڈاکٹر اگر ایک اچھا اور با ضمیر انسان ہے تو وہ ہر لمحہ جہاد کر رہا ہے .... ہمارا جہاد ہماری طاقت جوانی خاندانی زندگی اور معاشرتی زندگی کی قربانی ہے۔
ذرا سوچیں آپ تمام دن ٹی بی،کینسر،زخم، درد، ٹوٹی ہڈیوں، بہتے آنسوؤں ،پائین سپرٹ اور ملٹی وٹامنز کی بدبو کے ساتھ گزارنے کو پیسہ کمانے کی مشین کہیں گئے یا قربانی۔اور کیا یہ زندگی آپ اپنے لئے پسند فرمائیں گے ؟میں جانتی ہوں میں اسی لئے اس دنیا میں آئی ہوں .. میرا کام ہی میری عبادت ہے۔لیکن صاحبان گرامی .. میرے بچے بہی پڑھتے ہیں،روٹی ہمیں بھی چاہئے ،سردی گرمی ہمیں بھی لگتی ہے .. بجلی کے عادی ہم بھی ہیں،تو فیس نہ لیں گئے تو امریکی یا برٹش گرانٹ تو ہمیں میسر نہیں۔ اب ایک شکایت اور بہی ہے کہ جنرل پبلک کا رویہ بہی بدل رہا ہے .. ۔مسیحا کی عزت کم کر کے اسے کاروباری سمجھ لیا گیا ہے اور گورنمنٹ کی پالیسیز بھی پریکٹس فرینڈلی نہیں ہیں۔میڈیا نے بھی ڈاکٹروں کے سفید پاکیزہ کوٹ کو خون آلود کر کے ڈاکٹر کے سر پر دو لال سینگ آگا دیے ہیں .. جیسے ہم ہر مریض کو کند چھری سے ذبح کرنے والے جلاد ہیں ۔ لیکن ذرا انصاف سے سوچیے کیا حقیقت یہی ہے ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *