لبرل طالبان

gul

یہ جو میں بیان کرنے جارہا ہوں یہ کھلے عام بھی ہوسکتا ہے لیکن تھوڑا ملفوف رکھنے میں ہی عافیت ہے اگرچہ مجھے یقین ہے میری کوشش ناکام رہے گی کیونکہ موضوع ہی ایسا ہے۔ ’ملفوف‘ کتنا اچھا لفظ ہے، یہ ’تم‘ کو ’آپ‘ میں بدل دیتاہے، خصم کو ’شوہر‘ کا درجہ دے دیتا ہے اورزنانی کو عورت کے مرتبے پر فائز کر دیتاہے۔ جو چیزیں ملفوف نہیں انہیں بھی ’ننگی‘ کہنے کی بجائے ’عریاں‘ کہہ کر قابل قبول بنا دیتا ہے۔ہوا یوں کہ لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں کچھ طالبات نے احتجاج کیا۔ احتجاج اس لیے عجیب تھا کہ طالبات نے اپنے مخصوص ایام میں استعمال ہونے والی اشیاء کو ذریعہ احتجاج بنایا۔احتجاج کے دوران طالبات نے یہ اشیاء کالج کی دیوار پر آویزاں کر دیں اوراِن پر کچھ سوالات تحریر کردیے۔یہ سوالات کچھ یوں تھے!!!
1 ۔جب میڈیکل سٹور سے ہم یہ چیزخریدنے جاتی ہیں تو انہیں خاکی لفافے میں ڈال کر کیوں دیا جاتاہے؟
2 ۔ ہمارے مخصوص ایام کو اتنا برا کیوں سمجھا جاتا ہے؟
3 ۔مرد کوبواسیر ہوجائے یا خون کا دھبہ لگا ہو تو اسے بیمار سمجھا جاتا ہے جبکہ یہی صورتحال ہمارے ساتھ ہو تو ہمیں عجیب نظروں سے کیوں دیکھا جاتاہے؟
4 ۔مخصوص ایام کو ایک گالی کیوں سمجھا جاتاہے؟
5۔ہزاروں لاکھوں خواتین صرف اس لیے خطرناک بیماریوں کا شکار ہوجاتی ہیں کہ انہیں ایسی باتوں پر صرف شرمندہ ہونا سکھایا جاتاہے، آخرکیوں؟
6 ۔جب مردانہ بیماروں کے علاج کے لیے دیواریں بھری پڑی ہیں تو عورتوں کے مسائل پر بات کیوں نہیں ہوسکتی؟؟؟
ہر گھر میں مائیں، بہنیں، بیٹیاں موجود ہیں اور ہر دور میں ایام مخصوصہ کے لیے مختلف اشیاء استعمال ہوتی چلی آرہی ہیں تاہم حیرت کی بات ہے کہ طالبات نے اسے گالی سے تعبیر کیا ہے۔ کیا کبھی کسی نے خواتین کے مخصوص ایام کو گالی کے برابر سمجھا ہے؟؟ رہا یہ سوال کہ یہ چیز میڈیکل سٹور والا خاکی لفافے میں ڈال کر کیوں دیتا ہے تو گذارش ہے کہ مرد حضرات بھی جب اپنی کوئی مخصوص چیزخریدتے ہیں توانہیں بھی خاکی لفافے میں ہی یہ چیز پیش کی جاتی ہے ۔ ایسا کسی شرمندگی کی وجہ سے نہیں، عزت کی وجہ سے کیا جاتاہے۔آپ کسی سٹور سے نئے کپڑے خریدیں تو وہ یہ کپڑے آپ کو ہاتھ میں نہیں پکڑا دیتا بلکہ اچھے سے لفافے میں ڈال کر دیتاہے۔ مردانہ امراض کے بارے میں یقیناًدیواریں بھری ہوئی ہیں لیکن ایسا کوئی ایک اشتہار بھی آپ کو لوکل کیبل کے علاوہ کسی ٹی وی چینل پر نظر نہیں آئے گا، ٹی وی چینلز پر آپ کو اُسی چیز کا اشتہار دکھائی دیتا ہے جسے طالبات نے احتجاج کا ذریعہ بنایا ہے۔خواتین کی تو اور بھی بہت سی چیزیں ہیں جنہیں اسی طرح کسی خاکی لفافے میں ڈال کر دیا جاتاہے کیا اِنہیں بھی سافٹ ڈرنک کی طرح ہاتھ میں پکڑا دینا چاہیے؟
لبرلز کے خیال میں طالبات نے ایسا کرکے بالکل ٹھیک کیا ہے بلکہ کچھ احباب کا خیال ہے کہ لباس بھی انسان کے لیے غیر ضروری چیز ہے، ہمیں اس کی قید سے بھی آزاد ہونا چاہیے۔یہ وہ نقطہ ہے جس پر لبرلز ہمیشہ سے میرے جیسے نیم مذہبی یا نیم لبرل لوگوں کو بھی لبرل ازم سے ڈرا دیتے ہیں۔یقیناًلبرل سے لبرل بندے کے گھر میں بھی ایک عدد باتھ روم ہوتاہے، اس میں ایک عدد دروازہ بھی ہوتا ہے اور اس دروازے کی ایک کنڈی بھی ہوتی ہے۔ یہ کنڈی لبرل ازم کی حد ہوتی ہے۔ کم سے کم اس کنڈی کا احترام تو ملحوظ خاطر رکھیں ۔اگر صورتحال یہی رہی تو امید ہے ایک دن آپ گالی کے حق میں بھی دلائل لے آئیں گے۔ ہمارے لبرلز کی اکثریت ماشاء اچھی خاصی پڑھی لکھی ہے، اچھی طرح جانتی ہے کہ گفتگو کے کیا تقاضے ہوتے ہیں ،دلائل کیسے دیے جاتے ہیں، پڑھا لکھا لہجہ کیسے اپنایاجاتاہے۔ کیا اس معاملے میں انہیں آزادی نہیں چاہیے؟ ساری آزادی جسم پر ہی آکرختم ہوتی ہے؟ کبھی کبھی تو لگتاہے ہم دو انتہاؤں میں پھنس گئے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو پورا وجود بمعہ ناک ،کان گلا ڈھانپنے پر مصر ہیں اور دوسرے وہ جو سب کچھ اتار پھینکنے کے درپے ہیں۔ ایسے لبرلز میں یقیناًرنگ محل کا کوئی کپڑے کا تاجر ہرگز شامل نہیں ہوسکتا۔سچی بات ہے صرف طالبان انتہا پسند نہیں، بعض انتہا پسند لبرلز بھی اپنی سوچ میں طالبان ہی ہیں۔
مہذب معاشروں کی پہچان محض ان کا ننگا پن نہیں ہوتا۔ایسا ہوتا تو غاروں کے دور کا انسان سب سے مہذب قرار پاتا۔آپ سے کس نے کہہ دیا کہ ہم لبرل نہیں؟ غول کے غول لبرل ہوچکے ، یہ جو آپ کو چند لوگ نماز پڑھتے یا روزے رکھتے دکھائی دیتے ہیں یہ بیچارے تو اپنی عادت سے مجبور ہیں ورنہ مسجد سے باہر یہ ہم جیسے ہی ہیں۔ لڑکیاں ماڈلنگ کرتی ہیں، ڈراموں میں کام کرتی ہیں، گلوکاری کرتی ہیں،نوکریاں کرتی ہیں، دوپٹہ برائے نام رہ گیا ہے، برقعہ تو شہروں میں خال خال ہی نظر آتاہے، بازاروں میں ہر طرف خواتین خریداری کرتی نظر آتی ہیں۔۔۔اس کے بعد بھی اگر لبرل بھائیوں کو مزید کی خواہش ہے تو یقیناًیہ بہت جلدی میں ہیں۔راتوں رات تویہ معاشرہ تبدیل ہونے سے رہا۔ آج جو آزادی ہے اُس کا تیس سال پہلے تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا اور جو تیس سال بعد ہونا ہے اُس کا ہم آج تصور نہیں کرسکتے۔ اطمینان رکھیئے حالات آپ ہی کے حسب منشا جارہے ہیں ، کیوں اتنے بے صبرے ہورہے ہیں؟مغرب میں ننگے پن کی تاریخ زیادہ پرانی تو نہیں ۔ فی الحال تو ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں ابھی تک بے شمار جگہوں پر ٹی وی کیبل بھی نہیں میسر۔ ایسے میں آپ یکدم پورے معاشرے کو اس کے ماحول اور روایت کے برخلاف 180 ڈگری کے زاوئے پر الٹنے کی کوشش کریں گے تو بھیا خود الٹ جائیں گے۔ہوسکتا ہے ہماری آنے والی کوئی نسل آپ کی ہم خیال نکل آئے لیکن فی الحال یاد رہے کہ ہم جہاں رہتے ہیں اس کا نام پاکستان ہے، اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں تو آپ کا شناختی کارڈ پاکستان کا ہوگا، قوانین پاکستان کے نافذ ہوں گے اورماحول بھی پاکستانی ہی اپنانا ہوگا ۔اسی ماحول اور اسی کلچر میں رہ کر آ پ کو اپنی ٹھیک یا غلط بات کہنا ہوگی لیکن یوں برملا نہیں، ایسے تو ہم بہت سے مقتدر اداروں کے بارے میں بھی گل افشانی نہیں کر سکتے، وہاں بھی اشاروں کنایوں سے کام لینا پڑتاہے۔ یہ تو پھرایسا معاملہ ہے جس پر شائد اکثریت آپ سے متفق نہ ہو۔ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیجئے کہیں ایسا نہ ہو کہ ’بغض معاویہ‘ میں بے شمار لوگ لبرل ازم کے خلاف ہوجائیں۔آپ ہمیں زبردستی لبرل بنائیں گے تو ہم نہیں بنیں گے، ہاں ہمیں ہمارے حال پہ چھوڑ دیں تو ہم آپ ہی کی طرف رخ کیے چل رہے ہیں۔جن طالبات نے نجی یونیورسٹی میں احتجاج کیا ہے انہیں ضرور بتانا چاہیے کہ اگر اسی یونیورسٹی کے لڑکے بھی ایسا احتجاج کرنا چاہیں تو انہیں دیوار پر کیا چسپاں کرنا چاہیے اور کیا یونیورسٹی انتظامیہ لڑکیوں کی طرح لڑکوں کو بھی اس بات کی اجازت دے گی؟؟؟

لبرل طالبان” پر ایک تبصرہ

  • اپریل 23, 2016 at 7:56 PM
    Permalink

    "مہذب معاشروں کی پہچان محض ان کا ننگا پن نہیں ہوتا۔ایسا ہوتا تو غاروں کے دور کا انسان سب سے مہذب قرار پاتا۔آپ سے کس نے کہہ دیا کہ ہم لبرل نہیں؟ غول کے غول لبرل ہوچکے ، یہ جو آپ کو چند لوگ نماز پڑھتے یا روزے رکھتے دکھائی دیتے ہیں یہ بیچارے تو اپنی عادت سے مجبور ہیں ورنہ مسجد سے باہر یہ ہم جیسے ہی ہیں۔ "
    بہت خوب

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *