ماضی کے جھروکے سے(قسط نمبر2)

saeed

حاجی یونس کھوکھر اور لالہ فاضل نے بعد میں دو گنا زیادہ قیمت ادا کر دی تھی۔۔ ہم نے یہ کتابیں پنجاب کے علاوہ سندھ ,،سابق صوبہ سرحد اور بلوچستاں میں پارٹی کے چیدہ چیدہ لوگوں کو د س بارہ دن کے اندر اندر پہنچا دیں۔ بعد میں جب ہم ان لوگوں سے پیسے لینے کے لیۓ گۓ تو ان میں سے کئی لوگوں نے ہمیں مایوس کیا۔۔۔۔ کچھ نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ یہ کتابیں تو پارٹی کی طرف سے مفت تقسیم کرنے کے لۓ ان کو دی ٰگئی تھیں۔ جن لوگوں نے قیمت ادا نہیں کی ان میں گجرات کے مشتاق پگا نوالہ، بیگم نادرہ خاکوانی، حفیظ پیر زادہ اور ممتاز بھٹو کے نام سر فہرست ہیں۔ ان کے علاوہ ایک اور بہت بڑے لیڈر جن کو میاں صاحب نے بعد میں سندھ کا وزیر اعلیٰ بنایا تھا انہوں نے بھی پیسے نہیں دیۓ۔ میرے پاس تقریبا'' ساڑھے تین ہزار کتابیں بچی تھیں۔ وہ ساری کتابیں میں نے گوجرانوالہ کے ذاہد اقبال غوری کو دے کر تاکید کی کہ وہ ان کو کارکنوں میں مفت تقسیم کردیں۔ کچھ عرصہ پہلے میری ذاہد اقبال سے کم و بیش تیس سال کی جلا وطنی کے بعد گوجرانوالہ کی کچہری میں ان کے آفس میں ملاقات ہوٰئی تھی جس کے دوراں انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک لیڈر کی شکایت پر پولیس نے ان کے گھر چھاپہ مار کر ساری کتابیں اپنی تحویل میں لے لی تھیں اور ان کو ایک مارشل لاء کورٹ نے اس جرم کی پاداش میں دس سال کی سزا سنادی تھی۔ شاہی قلعہ لاہور میں حراست کے دوراں انہوں نے اپنی لاء کی تعلیم مکمل کی۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوٰئی کہ وہ آج کل گوجرانوالہ کے کامیاب وکیلوں میں سے ایک ہیں ۔۔ میں اور شیخ اقبال اپنی محنت کو یوں رایگاں جاتے دیکھ کر کافی بد دل اورافسردہ تھے۔ اس دوران پولیس کو بھی میرے کچھ ٹھکانوں کی سن گن مل چکی تھی۔ پشاور میں فارغ بخاری کے صاحب زادے قمر عباس شہید کے گھر پولیس نے چھاپے کے دوران ان کے گھر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ان کا پشاور کے خیبر بازار میں "احباب" نامی پریس سیل کر دیا گیا تھا اور قمر عباس کو پولیس نے قلعہ بالا حصار میں شدید تشدد کا نشانہ بناکر رات کے کسی وقت ان کو مردہ سمجھتے ہوئے جناح پارک میں پھینک دیا تھا۔ ۔ مالاکنڈ میں میرے بوڑھے والد کو پولیس نے بہت تنگ کیا تھا حالانکہ ان کا میری سرگرمیوں سے کوٰئی تعلق نہیں تھا۔ وہ جماعت اسلامی کے کٹر حامی تھے اس لیۓ ان کے ساتھ کوٰیی تشدد وغیرہ تو نہیں کیا گیا لیکن میرے گھر اور جرگہ ہال کے گیٹ پر پولیس نے اشتہاری ملزم کی پرچی لگا دی تھی۔
دریں اثناء مجھے بیگم نصرت بھٹو کا پیغام ملا کہ میں اپنی پہلی فرصت میں ان سے 70،کلفٹن میں ملاقات کروں۔ میرے قریبی دوست سید قمر عباس نے ان کو کتاب کے سلسلے میں پارٹی کے قاید ین کے ناروا سلوک سے آگاہ کر دیا تھا۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کو کچھ عرصہ گزر چکا تھا اس لیے 70 کلفٹن پر تعینات خفیہ ایجنسیوں کے اہل کار اب پہلے کی طرح وہاں اندر جانے والوں کی جانچ پڑتال میں پہلے کی طرح سختی سے پیش نہیں آتے تھے۔ سب سے بڑی سہولت تو یہ تھی کہ قاید اعظم بہ نفس نفیس وہاں آنے جانے والوں کی پریشانی دور کرنے کے لیے سیکیورٹی گارڈ کے روپ میں موجود رہتے تھے۔ جب بھی کسی کو تھوڑی بہت پریشانی لاحق ہوتی وہ پچاس سو کا ایک کرنسی نوٹ پولیس والوں کو پکڑا دیتے ۔ ایسے موقعوں پر جناح صاحب کی پھرتیاں دیکھنے کے قابل ہوتیں ۔ (اجاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *