بیٹی اک بوجھ! ذمہ دار اسلام ، والدین یاپھر۔۔۔؟؟

حافظ یوسف سراج

yousuf saraj.

’’گو بڑے مہان لوگ بیٹی کو بوجھ سمجھنے سے انکار ی ہیں۔۔لیکن مجھے یہ سچ نہیں لگتا‘‘۔۔
’’ا س معاشرے میں بیٹی کی پیدائش بوجھ نہیں تو کیاہے کہ جہاں اسے اپنے خرچ پرپال پوس کراپنے ہی خرچ پراگلے گھر بھیجناہو۔۔‘‘
’’اور پھر ضرورت پڑنے پر وہاں بھی امداد کی پوٹلی روانہ کرنی پڑتی ہو۔۔‘‘
’’بیٹی کی کمائی کوبے برکت او راس کی کمائی کھانے کو بے غیرتی بتایا جاتاہو‘‘۔۔
’’ ا س کی ذہنی افزائش روک لی گئی ۔۔اگر اسے اعتماد اور اس کی صلاحیتوں کو تھوڑا راستہ مل جاتاتووہ گھرکے باہر بھی کچھ کر دکھاتی ۔۔‘‘
’’وہاں بھی اسے باہر نہیں نکلنے دیا گیا ،جہاں یہ دین بچاآگے بڑھ سکتی تھی۔ یوںیہ یورپ کی عورت سے پیچھے رہ گئی ۔۔۔‘‘
’’القصہ دائیں اور بائیں انتہاؤں میں عورت پس کے رہ گئی۔۔۔۔‘‘
یہ باتیں ہماری ایک بہن صدف انصاف نے اپنی پوسٹ میں لکھی ہیں۔ یقینایہ بڑی اچھی بات ہے کہ ہماری محترم خاتون بات کرتی ہے اور لوگ اس کی بات توجہ اور ہمدردی سے سنتے ہیں۔ ایسی باتیں ضرور ہونی چاہئیں ۔ اس سے انسانوں اور رشتوں کو سمجھنے اور پھر ضروری چیزوں کی اصلاح کرنے کا موقع ملتا ہے۔ مجھے محسوس ہواکہ ان کی بات غلط نہیں مگر اس کا رخ غلط جانب ضرور ہے۔آپ ہی سوچئے ،بھلاکس والد کی خواہش نہ ہو گی کہ اس کی بیٹی، فرض کریں ایک روشن فکر عالمہ،ایک صحیح الدماغ فاضلہ، ایک آفاق کی وسعتوں کو کھوجنے والی،ایک مصنف یا استادِ فن نہ بنے۔ بھلا کیا اسے یہ سب بننے اور کرنے سے اس کے والد نے روک دیاہے؟ اچھا ،یوں دیکھ لیجئے کہ جنھیں یہ موقع دیا گیا، ظاہر ہے ہم کسی جنگل میں نہیں بستے ۔تو کیا انھوں نے کتابیں لکھ لکھ کے لائبریریاں بھر دیں اور کیا ان کے تھیسز اور ریسرچ پیپرز نے دنیا بدل ڈالی؟چلئے، اسے بھی چھوڑ دیجئے ،یہ دیکھئے کہ کیا مردجن کے متعلق خیال ہے کہ وہ بوجھ نہیں ،کیا سارے مصنف بن گئے؟ ریسرچر بن گئے؟ یقیناًجواب ہو گا کہ بالکل نہیں، تو پھر کیارکاوٹ والدین ثابت ہوئے؟ کیا یوں نہیں کہ دراصل یہ عہد overall ہمارے downfall کا دور ہے۔ اس میں عورت کو اس کا حق نہیں مل رہا یا اس کی جملہ صلاحیتوں کے مکمل اظہار کو مناسب میدان نہیں مل رہا تو یہ بھی تو دیکھئے کہ مل کسے رہا ہے؟ صورتحال یہ ہے کہ ہماری کرکٹ ٹیم بھی کپ نہیں لاتی۔ ہمارا ڈاکٹر بھی تشخیص صحیح نہیں کرتا۔ ہمارا عالم بھی مجتہدانہ بصیرت پر مبنی رائے پیش نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ ہمارا دکاندار سودا ملاوٹ سے پاک اور پورا نہیں دیتا اور ہمارا سویپر تک صفائی ٹھیک نہیں کرتا۔ چنانچہ جب ہم مقابلے میں یورپ یا مغرب میں اپنی اپنی صنف یا پیشے کو فروغ پذیر دیکھتے ہیں تو ہمارے ہاں کے ہر طبقے کو لگتا ہے کہ شاید اس کے پیچھے رہنے کا باعث اس کے خلاف برتے جانے والے اس کے اپنوں کے مخصوص رویے یا مخصوص عقائد ہیں۔ اور ایسا موقع پا کر لبرل ہمیں باور کرانے آجاتے ہیں کہ اور کچھ نہیں بلکہ اس سب کا ذمے دارخود تمھار ا اسلام ہے۔ وہی ایسی پابندیاں عائد کرتا اور ایسی ذہن سازی مہیا کرتا ہے کہ تم پیچھے رہ جاؤ اور آگے نہ بڑھ سکو۔ جہاں تک اسلام ہے تو اب اس میں بھلا کسے شک کہ اسلام نے چند اصول دے کے عورت اور مرد دونوں کو بلا امتیاز برابر اس کارگہ حیات میں لا اتارا ہے۔ چلو بعد کے ادوار کو تو سر دست آپ چھوڑہی دیجئے۔ خود عہد رسالت کے ایک خالص دیہی ماحول میں دیکھئے کہ وہ کون سا کام ہے جس میں عورت شریک نہیں رہی؟ سیدہ خدیجہؓ نے تجارت کی اور اپنی شادی کا پیغام خود بھیجا۔ سیدہ صفیہؓ کو رسول اللہ ؐ نے کھیتوں سے اکیلے کام کرکے آتے پایا تو سواری کی پیش کش کی۔ صحابہ کے مسجدوں سے انسلاک اور محبت کے باوجود مسجد کی صفائی کرنے میں ایک عورت ممتاز تھی۔ خواتین نے جنگوں میں کردار ادا کیا اور وہ بہترین داعی بھی بنیں۔ انھوں نے مسجدوں میں جا کے نماز پڑھی اور انھوں نے ہجرتیں بھی کیں۔وقت آیا تو سیدہ عائشہؓ نے جنگ جمل کی قیادت کی۔ادب اور زبان دانی دیکھنی ہوتو سیدہ خنساؓ کو دیکھئے کہ حسان بن ثابتؓ جیسے نابغہ شاعر کے کلام سے جنھوں نے غلطیاں نکالیں۔ام معبد کو دیکھئے کہ آج احادیث کے ذخیرے میں ان سے زیادہ فصیح سراپائے رسولؐ کا بیان کسی اور کی زبانی نہیں ملتا۔
ایک عورت بریرہؓ بھی تھی ۔خوبر واورسیدہ عائشہؓ کی غلام ۔آزاد ی کے بعد اختیارتھا کہ غلام خاوند کو چاہیں تو چھوڑ دیں۔ انھوں نے اپناحق استعمال کر لیا مگر مغیث رومیؓ پگھل گئے۔ انھیں ان سے والہانہ محبت تھی۔ مدینہ کی گلیوں میں بریرہؓ بے نیازی سے آگے آگے چلتیں اور مغیثؓ آنسو بہاتے پیچھے پیچھے ہوتے۔ محبت کی اس فراوانی اورآنسوؤں کی ارزانی پر رسول اللہ کو ترس آیا۔ کہا، مغیثؓ پر ترس کھاؤ اوراس کے پاس لوٹ جاؤ۔ پوچھا ، یہ بطور رسول حکم ہے یا محض ایک مشورہ ۔ فرمایا،محض مشورہ ۔ کہا،تب میں ماننا نہیں چاہتی۔ مسلمانوں کے پہلے بحری بیڑے میں شریک بھی ایک عورت تھی ام حرم بنت ملحانؓ ۔ یہ یوں تھاجیسےSpace کا سفر ۔ یہاں مگر عورت موجود تھی ۔ سیدہ عائشہ اپنے میاں (جو رسول بھی تھے) سے ناراض ہوجاتیں اور اس ناراضی کا اظہار بھی کردیتیں۔ رسول رحمت کی بیویوں نے گھر کے خرچے میں اضافے کا مطالبہ کر دیا۔ ڈنڈا نہیں اٹھایاگیا کہ تم رسول سے ایسے مطالبے کرتی ہو؟ کہا یہاں تو خیر یہ نہیں کہ رسول کو متاعِ دنیا کے ڈھیروں سے کیا نسبت۔ سو چاہو تو مجھے چھوڑ کرکوئی صاحبِ متاع ڈھونڈ لو ۔ انھوں نے رسول کی معیت چنی اور متا عِ دنیا سے قناعت کر لی۔ان دنوں ماضی کا ایک مثالی خاوند ذکر ہوتا تھاابو زرع ۔ رسول اللہؐ نے فرمایا۔’’ عائشہ! میں تمھارے لئے ابو زرع کی مانند ہوں۔
سوچا جا نا چاہئے کہ اگر یہ اسلام ہے تو پھر جو ہمارے ہاں ہے وہ کیاہے ؟ اورکیا آج عورت کے شکوے اور پیچھے رہ جانے کا باعث اسلام ہے؟ اور کیا ایک سازگار ماحول میں محض والدین بوجھ سمجھ کے بیٹی کے پر کاٹ رہے اور اس کی پرواز روک رہے ہیں؟ جی نہیں یہاں اگر عبید شرمین چنائے ہے تو یہاں پردے میں ایک خاتون جہاز کی پائیلٹ بھی ہے۔ یہاں اگر کوئی تعلیم کے نام پر ملالہ ہے تو یہاں میڈم فرحت اور میڈم نگہت ہاشمی بھی ہیں۔یہاں اگر عاصمہ جہانگیر ہے تو یہاں میڈم کنول قیصر بھی ہیں ۔ یہاں سمیحہ راحیل قاضی ہیں اور یہاں ہر شعبہ حیات میں عورت کا ایک قابل قدر مثبت اور تعمیری کردار بھی موجودہے ۔ رہا وہ مثالی کردار جو ہونا چاہئے تھا تو دراصل یہ اس عہدمیں پوری امت پر اتری شامِ زوال کے گہرے سائے ہیں ۔ جن کا کوئی ایک بالخصوص کوئی ایک فرد ذمہ دار نہیں اورنہ ہی کوئی ایک بالخصوص فرد استحصال کی زد میں ہے۔ہاں بطور صنف یا پیشہ کہیں کمی کہیںیا زیادتی ہو سکتی ہے۔ وگرنہ ہم سبھی برابر جھیل رہے ہیں۔سبھی کے درد ہیں ، کہیں کم کہیں زیادہ۔
رہی کمانے کی بات تو یہ اپنی شرائط کے ساتھ آپ کا حق ہے ۔ مگر غور کیجئے گایہ کسی مرد کے لئے بھی زیادہ آسان کام نہیں ہوتا ۔ بے روزگاری نے بڑے بڑے فنکاروں کو فاقوں مار دیاہے۔ یہ ہمارے ہاں ہی نہیں ، کبھی روس میں اورکبھی انڈیا میں بھی تصویریں چھپتی ہیں ۔ چوٹی کے سائنسدانوں کو کبھی جوتے گانٹھتے اور کبھی بھیک مانگتے دیکھا جاسکتاہے۔کبھی کسی ہوٹل پر، کسی وڈیرے کے گھر میں ، کسی ورکشاپ میں کسی چھوٹے یا چھوٹی کو کام کرتے دیکھئے گا۔دفاتر میں بھی سہی، بہت آسان بہرحال یہ نہیں۔کمانے نکلی عورتوں کوملے چند ہزار میں لاکھوں آزار آپ سے مخفی نہ ہوں گے۔ آپ امریکہ کی بات کر لیجئے وہاں صدر اوباماکو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جب اس نے ایک خاتون کمالہ حارث کو کہہ دیا: Best looking attorney gereral in the country۔
کہا گیا کہ کب تک کام کے بجائے محض بطور عورت تحسین پائے گی۔ دیکھئے ، جب آپ کو اسلام،باپ یا شوہر نے شہد کی ملکہ قرار دے کر شہد کی باقی مکھیوں کی طرح مردوں کو آپ کا خدمتگار بنایاہے تو آپ کو کیا پڑی ٹھنڈی سانسیں بھرنے کی ۔مرد کی ساری کمائی بھلا کس لئے ہے؟ باپ ہو بھائی یا شوہر بہرحال آپ کے لئے ، اگر عورت نہ ہوتی تو کائنات میں مرد جتنا نکھٹو بھی کوئی نہ ہوتا۔کیا بجا کہہ گئے حضرت اقبال
وجود زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ۔سو Please dont take it in that way!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *