یہ جنگ دفاعی اور جمہوری بیانئے کے مابین ہے

imad zafar

"ضمیر" کے جاگنے کے بعد اب وطن عزیز میں "احتساب" کا سیزن شروع ہو چکا پے. فوج کے گیارہ افسران کو ملازمت سے کرپشن کے الزامات پر برطرف کرنے کی خبریں جونہی میڈیا پر نشر ہوئیں تو بوٹ پالشییے تجزیہ نگار مارشل لا کی آمد کے خواب دیکھتے گدھ اور جناب عمران خان اور ان کے چاہنے والوں میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ شاید اب نواز شریف کا تختہ الٹنا آسان ہے اور راحیل شریف کسی بھی وقت پانامہ لیکس کو بنیاد بنا کر اقتدار ٹرے میں رکھ کر عمران خان کے حوالے کر دیں گے.اہسے حوالدار تجزیہ نگاروں اور سیاسی بالشتیوں کی یہ لالچ اور کم فہمی دیکھ کر اکثر اوقات ان افراد پر ترس بھی آتا ہے. خیر احتساب کے موسم کی شدت میں اضافہ کرنے کیلئے  فوج کے جو افسران ملازمت سے برخاست کیئے گئے ہیں " ان کی پینشن اور میڈیکل کی سہولیات بشمول پراویڈنٹ فنڈز اسی طرح برقرار ہیں . اس بات سے سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر کوئی سیاستدان کرپشن میں ملوث نکل آئے تو کیا اسے محض اسمبلی سے فارغ کرنے کے بعد دیگر تمام مراعات دینا جاری رکھی جا سکتی ہیں؟ لیکن   یہ بھی غنیمت ہے کہ فوجی افسران میں خود احتسابی کا جذبہ جاگا جو کی اچھی بات ہے.مگر وہ حضرات جو اس خبر میں سے مارشل لا کی آمد کے سورج کا طلوع ہونا دیکھ رہے ہیں ان کیلئے سوائے مایوسی کے اور کچھ بھی نہیں. احتساب کو بنیاد بنا کر حکومتوں کے تختے الٹنے کی ریت کا وقت اب گزر چکا ہے.امریکہ برطانیہ چین اور دیگر یورپی ممالک اب کسی بھی قیمت پر غیر آئینی اقدامات کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے. ماضی میں آمروں کے ساتھ تلخ تجربات نے عالمی طاقتوں کو یہ امر اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ پاکستان میں جمہوری نظام کو سپورٹ کرنے کے علاوہ اور کوئی بھی راستہ نہیں. اب ایک سیدھی سی بات ہے کہ فوج ان عالمی طاقتوں کو ناراض نہیں کر سکتی کیونکہ پاکستان کو ملنے والی امداد ملک میں جمہوریت سے مشروط ہے. البتہ سویلین حکومت پر دباو ڈال کر نئے انتخابات کی جانب ضرور بڑھا جا سکتا ہے.لیکن یہاں پر قباحت یہ ہے کہ اگر نئے انتخابات کسی طریقے سے فوج کے ذریعے کروا بھی لیئے جائیں تو بھی پنجاب سے مسلم لیگ نون کو شکست نہیں دی جا سکتی.جن ادوار میں پس پشت قوتیں سویلین حکومتوں کے تختے الٹ کر انتخابات کروا کر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیا کرتی تھیں ان ادوار کی سیاسی حقیقتیں آج کے دور سے بالکل مختلف ہیں.ان ادوار میں نواز شریف کو بدل کر بی بی اور پھر بی بی کو بدل کر نواز شریف کو لایا جاتا تھا.لیکن اس وقت بی بی کے جانے کے بعد ملکی سیاست میں ایک خلا پیدا چکا ہے جس کے نتیجے میں نواز شریف سیاست کے میدان کے بے تاج بادشاہ بن چکے ہیں اور انتخابات میں انہیں پنجاب سے چیلنج کرنے والا ایک بھی اعلی پائے کا لیڈر اس وقت وطن عزیز میں موجود نہیں. عمران خان پر جتنی محنت اور وقت کا زیاں پس پشت قوتوں نے کیا اس کے بعد اگر وہ پھر بھی اپنے آپ کو ملکی سطح کے رہنما کے طور پر منوانے نہ پائے تو پھر آئیندہ بھی وہ انتخابی سیاست میں کچھ خاص کر دکھانے کے قابل نہیں.   یعنی فوج بھی یہ بات جانتی ہے کہ نئے انتخابات کروا کر بھی شریف خاندان کو پنجاب جیتنے سے روکا نہیں جا سکتا. تو پھر سوال یہ بنتا ہے کہ اس سب ہنگامے کی آخر وجہ کیا ہے اور یہ طوفان کب اور کہاں جا کر تھمے گا. اگر غور کیا جائے تو یہ احتساب کی طوطا کہانی انتخابی دھاندلی اور  دھرنے دراصل وطن عزیز کے عوام کو جمہوری بیانیے سے متنفر کرنے کیلئے ہیں.میڈیا کے استعمال سے عوام کے ذہنوں کو اسیر کرنا چونکہ ہرچند مشکل نہیں اس لیئے جمہوریت سے نفرت کا بیانیہ انتہائی کامیابی سے رائے عامہ پر تھوپنے کا کام جاری و ساری ہے. دوسری جانب ایک ایسا بیانیہ جو دفاع پر مبنی اور ایک نرگسیت پسند قومی تعصب اور جنگ کے گرد گھومتا ہے اس بیانیے کو انتہائی کامیابی سے بوٹ پالش کرنے والے صحافیوں دانشوروں اور سیاستدانوں کے زریعے رائے عامہ تک پہنچا دیا گیا ہے.دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دفاعی بیانیے کا فائدہ صرف اور صرف دفاعی ادارے اور ایسٹیبلیشمنٹ کو ہے. یعنی ہم آج بھی 1977 میں ہی مقید ہیں جب بھٹو کو تختہ دار پر چڑھا کر قوم  کو مزید تقسیم کا شکار کر دیا گیا تھا.  ایک جانب جمہوریت پسند افراد اور دوسری جانب آمریت کو پسند کرنے والے مالشیے اور پالشیے.   یہ جنگ اگر محض اقتدار کی کرسی تک محدود ہوتی تو شاید معاشرے اور قوم پر اس کے مضر اثرات نہ ہوتے.لیکن دفاعی اور جمہوری بیانیے کی یہ جنگ معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کرتی جا رہی ہے. دفاعی بیانیے نے شدت پسندی دہشت گردی کے جو بیج ایوب خان جنرل یحیی ضیاالحق اور پرویز مشرف کے زریعے بوئے وہ اب تنا آور درخت بن چکے ہیں.ایک جانب دہشت گردی کا شکار دم توڑتی معیشت ہے اور دوسری جانب شدت پسندی اور تعصب پر مبنی ایک ایسا معاشرہ جہاں اختلاف رائے گناہ آزادی افکار سنگین جرم اور سوچ رکھنا غداری کے مترادف ہے.دفاع پر مبنی یہ بیانیہ جو عام افراد کے ذہنوں میں جنگوں کو گلوریفای کرتا ہے جو قلم اور تحقیق کی طاقت کے بجائے ٹینکوں اور بندوقوں کی طاقت کو فخریہ سوچوں میں منتقل کرتا ہے اس بیانیے نے آج تک سوائے سقوط ڈھاکہ سانحہ ایبٹ آباد جیسے زخموں اور لاپتہ افراد کی فہرستوں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں دیا.البتہ خود ملک میں ہر کاروبار کرنے کی اجازت حاصل کر لی.دوسری جانب جمہوری بیانیہ ہے جس کی بنیاد اظہار رائے کی آزادی اور برداشت پر مبنی ہے . جو عوام پر کوئی بھی پالیسی تھوپتا نہیں ہے بلکہ عوام کی اکثریت کی  مرضی سے پالیسیوں کے تسلسل یا انہیں تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے. جمہوری بیانیے نے ملک کو ایک متفقہ قانون دینے سے لیکر موٹر وے اور سڑکوں کے جال کے علاوہ مختلف ترقیاتی کام دیئے. اسی بیانیے نے پاکستان کو شدت پسندی  کی آگ سے سے نکالنے کیلیئے  بھی اقدامات اٹھائے. اس جمہوری بیانیے کے علمبردار سیاسی رہنماوں میں بے شمار خامیاں اور کوتاہیاں ہو سکتی ہیں لیکن یہ بیانیہ غلط نہیں ہو سکتا. اسی جمہوری بیانیے کو اپنا کر امریکہ انگلستان اور یورپی ممالک نے معاشرتی اور معاشی ترقی کے زینے طے کیئے.  اسی جمہوری بیانیے نے ترقی یافتہ اور مہذب معاشروں کی داغ بیل ڈالی. پاکستان بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی جانب جمہوری بیانیے کی مدد سے ہی بڑھ سکتا ہے بصورت دیگر دفاعی بیانیے والے معاشروں کا انجام افغانستان اور سویت یونین والا ہوتا ہے. یہ جنگ نواز شریف اور پس پشت قوتوں کے مابین نہیں بلکہ جمہوری اور دفاعی بیانیے کے مابین ہے.  اس جنگ میں کل بھی عمران خان جیسے لوگ مہرے کے طور پر استعمال ہوتے تھے اور آج بھی. فرق صرف اتنا ہے کہ اب کی بار جمہوری بیانیے کا علم تھامنے والانواز شریف ہے جو  خود دفاعی بیانیے کا باغی مہرہ ہے اور اس جنگ کے ہر داو پیچ کو اچھی طرح جانتا ہے.رہ گئی بات  مارشل لا کی یا پھر نئے انتخابات کی تو یہ بازی جیتنا اگر اس قدر آسان ہوتا تو عمران خان اور ہمنوا کب کے بادشاہ بن چکے ہوتے. نواز شریف پانامہ لیکس کے معاملے پر مجرم ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ قانون اور عدالتیں کر دیں گی.لیکن نواز شریف اپنے ماضی کے برعکس ایک معاملے پر ابھی تک بالکل درست ہیں اور وہ درست معاملہ جمہوری بیانیہ کے ساتھ ان کی وابستگی ہے.تاریخ ہمیشہ طاقت کی جنگوں میں لڑنے والے دو مختلف بیانیوں کے علمبرداروں میں سے کوئی ایک لکھتا ہے نا کہ عمران خان جیسے مہرے جو طاقت کی بیساکھیوں کے محتاج بھی ہوں اور جنگ میں دونوں جانب سے لڑنے کا کھوکھلا دعوی کرتے ہوں.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *