ہم اور ہمارا اسلام کا قلعہ

Ayaz Amirایازا میر

آج کی دنیا میں اسلام محض کچھ غیر واضح تصورات، فقہ اور شریعت پر ہی مبنی نہیں ہونا چاہئے۔گزشتہ کئی صدیوں سے مجتہدین اور مصلحین مذہبی تصورات میں جدت لانے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔ وہ اگلے ایک ہزار سال تک بھی کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ انتہائی سوچ رکھنے والے مذہب کے نام نہاد اجارہ دار اس ضمن میں ذرہ برابر لچک دکھانے کے بھی روادار نہیں۔ اسلام کے اس قلعے میں آج مذہب کی عملی جہت دکھائی دینی چاہئے تھی کیونکہ نظریات ہمیشہ نظریات نہیں رہ سکتے، اُنہیں عملی حقائق کی شکل اختیار کرنا ہوتی ہے۔ دبئی جہاں اس کے شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری ہوتی ہیں، اپنی جدید زندگی، سماجی آزادی اور بلندو بالا عمارتوں اور تفریح کے تمام لوازمات کے باوجود اسلام کی عملی شکل رکھتا ہے۔ معاشی طور پر ترقی یافتہ ملائیشیا بھی اسلام اپنی عملی شکل کے ساتھ موجود ہے ۔دوسری طرف خلافت رکھنے کے باوجود سلطنت ِ عثمانیہ، جس کے دور میں ترکی کو یورپ کا مرد ِ بیمار کہا گیا، اپنی زبوں حالی کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے ایک دھبہ تھی۔ مصطفیٰ کمال کی قیادت میں جدید ترکی کا قیام دراصل اس ملک میں اسلام کی نشاۃ ِ ثانیہ تھی،اگرچہ مصطفیٰ کمال کے نظریات روایتی مذہبی رسوم سے لگّا نہیں کھاتے تھے۔
سوچنے کی بات ہے کہ جس سرزمین پر خوف و دہشت نے پنجے گاڑھے ہوئے ہوں، جہاں لوگ بھوک اور غربت کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور ہوں، جہاں افراد کی بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں اور جہاں قانون صرف اشراف کے حقوق کا تحفظ کرتا ہو، تو کیا اسے صرف اس بنا پر مسلم ریاست کہا جاسکتا ہے کہ اس کے ہر انچ پر مساجد موجود ہیں اور لائوڈاسپیکرز پر شور ِ قیامت جاری ہے؟ کیا منافقت، جھوٹ، مکروفریب اور نام نہاد پارسائی کے لبادوں میں ملفوف معاشرے کو اسلام سے کوئی نسبت ہوسکتی ہے؟ دراصل اسلام کی جامع جھلک حضرت عمر ؓ کے اس فرمان میں ملتی ہے ’’اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر گیا تو قیامت کے دن مجھ سے اس کی باز پرس ہو گی‘‘۔ اور پھر حضرت علیؓ کا فرمان’’ایک کافر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے، ظالم اور بے انصاف کی نہیں‘‘بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں چھوڑتا کہ اصل اسلام کیا ہے۔
جب اسلام سماجی بہتری کو یقینی بناتا ہے تو پھر ہم پاکستان میں محض دکھاوے کی مذہبی رسومات کے قیدی کیوں بن چکے ہیں حالانکہ وہ اسلام کی اصل روح سے دور ہیں؟ اگر ایک شخص رات کو بھوکا سوتا ہے، اگر کوئی شخص غربت کی وجہ سے خودکشی پر مجبور ہے، اگر کوئی عورت تنگدستی کی وجہ سے اپنے بچوں سمیت نہر میں کود جاتی ہے تو کیا اس ریاست میں نگاہوں کو خیرہ کردینے والے فن ِ تعمیر کے اعلیٰ ترین نمونے زیب دیتے ہیں؟ شاعر ِ لاہور ساغر صدیقی نے درست کہا تھا ’’معبدوں کے چراغ گُل کردو، قلب ِ انسان میں اندھیرا ہے‘‘۔ اگر لاہور کے میو اسپتال میں مریضوں کے لئے کھانے کا اہتمام پرائیویٹ افراد کے چندے سے ہوتا ہو(یعنی ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر،یہ صرف ایک مثال ہے)،جہاں انتہائی ایمرجنسی کی حالت میں بھی غریب افراد کے پاس دوا خریدنے کے لئے پیسے نہ ہوں، جہاں سرکاری اسکولوں میں بچے درختوں کے نیچے بیٹھ کر وہ چیز حاصل کریں جسے عرف ِ عام میں تعلیم کہا جاتا ہے اور جس کے بالمقابل چرخہ، رہٹ اور ہل جدید ایجادات میں شمار ہوتے ہوں اور جہاں امراء کے بچوں کے لئے الگ نظام ِ تعلیم ہو تو انصاف سے تہی داماں وہ ریاست اسلامی جمہوریہ کہلانے پر کیوں مصر ہے؟ جب ریاست اپنی ذمہ داریوں، جیسا کہ سیکورٹی، صحت اور تعلیم (آج یہ تنیوں سہولتیں ہر شخص کو پرائیویٹ طور پر حاصل کرنا پڑتی ہیں) سے ہاتھ اٹھا لے تو کیا وہ اپنے وجود کا مقصد پورا کرتی دکھائی دیتی ہے؟
آج ہمارے سیاسی منظر نامے میں تقریباً تمام دھڑے ایک بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ سماجی انصاف سے پہلے ملک کے طاقتور سرمایہ دار طبقے کو من مانی کرنے کی آزادی دی جائے یعنی عوام کو سہولتیں بعد میں ملیں گی، پہلے معاشی ترقی کا مرحلہ طے پاجائے۔ یہ وہ نظریہ ہے جو سابق برطانوی وزیر ِ اعظم مارگریٹ تھیچر کی پالیسیوں کا آئینہ دار تھا لیکن اسے اس معاشرے میں نافذ کیا جارہا ہے جو اپنی سوچ کے اعتبار سے دیہاتی اور قبائلی ہے۔ میں نے اپنے گناہ گار کانوں سے نواز شریف کو یہ کہتے سنا ہے کہ معاشی ترقی کے لئے عوام سے صرف دس فیصد انکم ٹیکس وصول کئے جانے کی ضرورت ہے۔ آصف زرداری کی معاشی جدت پسندی کا اظہار ان کے اس جملے سے ہوتا ہے کہ جب چین اپنی بنیادی صنعتوں کو پاکستان منتقل کرنا شروع کردے گا، چاہے اس کی نوبت دو تین عشروں کے بعد آئے، تو ہمیں معاشی خوشحالی کا منہ دیکھنا نصیب ہوگا۔ تیسرے سیاسی متبادل کے طور پر عمران خان کی پی ٹی آئی جو بڑی حد تک سرمایہ دار طبقے کی گرفت میں ہے، بھی کم و بیش انہی خطوط پر سوچتی ہے۔جہاں تک بعض دینی جماعتوں کا تعلق ہے تو ان کا کام چندہ اور چرم ہائے قربانی اکٹھا کرنا، کسی نہ کسی طریقے سے اقتدار کے مزے لوٹنا اور معمولی سے معاملے کا کوئی نہ کوئی الہامی جواز گھڑتے ہوئے عوامی جذبات کو جنونی انداز میں برانگیختہ کرنا اور اقبال کے اس فرمودے’’دین ِ ملا فی سبیل اﷲ فساد‘‘ کو سچ ثابت کرناہے۔
درحقیقت آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلۂ مذہب نہیں، معاشی ناہمواری ہے۔نام نہاد دینی جماعتوں کے ایجنڈے پر یہ مسئلۂ موجود نہیں۔ دوسری طرف ملک کے غریب اور نادار افراد جب غربت کے سلگتے ہوئے جہنم سے باہر آنے کا کوئی چارا نہیں پاتے توخوشنما وعدہ فردا پر بہل جانے کو عقیدے کا حصہ مان لیتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ کہ پاکستان میں جو لوگ متمول اور خوشحال ہیں، انہیں عقائد سے کوئی سروکار نہیں۔ اگرچہ پاکستان عالمی معاملات میں اہم کھلاڑی نہیں ہے لیکن اس کے دولت مند افراد کے اثاثے بیرونی ممالک میں جمع رہتے ہیں۔بعض اوقات دل میں سوچ پیدا ہوتی ہے کہ کیا ہمارا دارالحکومت اسلام آبادہے یا دبئی؟ ہمارا حکمران طبقہ بات بات پر اُدھر کا رخ کرتا ہے۔ دراصل پاکستان بہت سی ہجرتوں کی سرزمین بن چکی ہے۔ سب سے پہلے تقسیم ِ ہند کے وقت عقربی ہجرت دیکھنے میں آئی۔ اس کے بعد کام کرنے والے افراد نے خلیجی ممالک کی طرف ہجرت کی۔ آج کل استحقاق یافتہ طبقہ دنیا کے پرکشش مقامات کی طرف رواں دواں ہے۔ مزدور پیشہ افراد جہاں بھی ہوں، ان کے دل اس دھرتی کے ساتھ ہی دھڑکتے ہیں لیکن یہ استحقاق یافتہ طبقہ چاہے یہاں حکمران ہی کیوں نہ ہو، اس کا دل سات سمندر پار ہی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی کوبھی اس بات کی فکر نہیں کہ یہاں کس برق رفتاری سے دینی مدرسے قائم ہو رہے ہیں اور ان میں کیا پڑھایا جارہا ہے؟جب ریاست کے پاس کوئی تعلیمی پروگرام ہی نہیں تو پھر عوام سے کیا گلہ جب وہ جوق درجوق ان مدرسوں کارخ کررہے ہیں۔ وہاں ان کے بچوں کو رہائش بھی فراہم کی جاتی ہے اور خوراک بھی۔
میں اکثر یوٹیوب پر پابندی کے خلاف لکھتا رہاہوں کیونکہ یہ میرے لئے موسیقی اور معلومات کا ذریعہ ہے لیکن جب ایک غریب شخص کے سامنے اس کے بھوکے بچے بلک رہے ہوں اور خودکشی کرنے کا سوچ رہا ہو تو اُسے یوٹیوب سے کیا سروکار؟ئاس پر پھر ساحر کا لافانی شعر ذہن میں زہر بھرے نشتر کی پیوست ہوجاتا ہے’’مفلسی حس ِ لطافت کو مٹا دیتی ہے، بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی‘‘۔
افسوس، کالم میں تیسری مرتبہ خودکشی کا ذکر کر رہا ہوں لیکن کیا کیجئے، تخیلات کی جادوگری میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ حقائق کے نوکیلے سنگریزوں کو خوشنما یاقوت بنا دے تاہم شکم سیر افراد بھوک کی اذیت کو محسوس نہیں کرسکتے۔ ایک اسلامی ریاست میں امیر اور غریب میں اتنی تفاوت نہیں ہو سکتی۔ وہاں نہ مسند نشینوں کے لنگر چلیں گے اور نہ ان سخاوت کے چرچے گھرگھر ہوں گے اور وہاں اگر مرید کے پاس مٹی کا دیا نہیں تو پیر کا گھر بھی بجلی کے چراغوں سے روشن نہیں ہو گا۔ سب پیٹ پر ایک جتنے پتھر باندھیں گے۔
بے عزتی کیا ہے؟ بھوک انسانیت کی سب سے بڑی بے عزتی ہے، ناانصافی بے عزتی ہے بلکہ شیشے کے گھروں میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر پھینکنا بھی بے عزتی ہے۔ اقلیتوں پر ظلم کرنا بھی انسانیت کی بے عزتی ہے۔ پیغمبر اسلامﷺ کے فرمان’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ کے مطابق گلیوں، بازاروں میں کوڑا کرکٹ پھینکنا بھی بے عزتی ہے۔ ہم جن فقہی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں ان پر اگلے پانچ سو سال تک بھی بحث تمام نہیں ہوگی۔ ہم نے اسلام کا یہ قلعہ ایک نظریئے کی بنیاد پر قائم کیا تھا، یہ تمام عمر نظریاتی خلا میں قائم نہیں رہ سکتا۔ اسے حقائق کے درو دیوار کی ضرورت ہے۔ اگر ہم کچھ اور نہیں تو کیا خود پر چڑھائے ہوئے پارسائی کے لبادے بھی چاک نہیں کرسکتے کہ گھٹن کچھ کم ہو اور حیات بخش سانس تو آئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *