Site icon DUNYA PAKISTAN

الیومناٹی، دنیا کے طاقتور افراد کا خفیہ گروہ: ایک ایسا سازشی نظریہ جو دنیا پر چھا گیا

Share

بی بی سی فیوچر آپ کے لیے تفصیل کے ساتھ کچھ اہم کہانیاں پیش کر رہا ہے جو آپ کو موجودہ وبا کے دوران وقت گزارنے میں مدد دے سکیں، اور آپ باآسانی اپنا وقت گزار سکیں۔ ہم گذشتہ تین برسوں کی اپنی پرانی کہانیوں کو دوبارہ سے ‘لاک ڈاؤن لانگ ریڈز’ کے عنوان سے آپ کے لیے شائع کریں گے۔

ان کہانیوں میں آپ کو سب کچھ پڑھنے کو ملے گا، دنیا کے سب سے بڑے خلائی مشن سے لے کر کہ کیا بلیاں واقعی ہم سے پیار کرتی ہیں، ایک غیر قانونی مچھیرے کو عدالت کے کٹہرے تک لانے کی طویل کہانی اور ایک چھوٹی سے ٹیم جس نے دوسری عالمی جنگ کے دفن شدہ ایک ٹینک کو نکال کر دوبارہ قابلِ استعمال بنایا۔ البتہ آپ کو ان کہانیوں میں ایک چیز کی جانب اشارہ نہیں ملے گا، اور آپ جانتے ہیں کہ وہ کیا ہے۔ پڑھنے کا لطف لیجیے۔

یہ کہانی ہے ایک ایسے سازشی نظریے کی ہے جس کے سامنے باقی تمام تر سازشی نظریات کوئی کچھ بھی نہیں۔ یہ سازشوں کا ایک ایسا دستر خوان ہے جس پر دنیا بھر کے تمام سازشی نظریات اکھٹے کر دیے گئے ہیں۔

اس سازشی نظریے کے مطابق ’اِلیومناٹی‘ دنیا کے تمام تر امور کو کنٹرول کرنے والے طاقتور ترین افراد کا وہ گروہ ہے جو خفیہ طریقے سے کام کر رہا ہے۔ اور اس گروہ کا مقصد دنیا میں ایک نیا نظام قائم کرنا ہے۔

اس فرضی کہانی کا آغاز سنہ 1960 کے ایک دلچسپ خیال پر مبنی فِکشن سے ہوا تھا۔

جب کئی لوگوں نے اس خفیہ سوسائٹی کی تاریخ کو جاننے کی کوشش کی تو وہ اپنے آپ کو جدید دور کے جرمنی میں پاتے ہیں جہاں ‘آرڈر آف اِلیومناٹی’ کا قیام ہوا تھا۔

یہ سنہ 1776 میں بَویریا کی ریاست کے رہنے والے دانشوروں کی ایک خفیہ سوسائٹی تھی جس کا مقصد پوشیدہ طور پر مل جل کر عام لوگوں کی روز مرّہ زندگیوں پر مذہب اور اشرافیہ کے تسلط کے خلاف مزاحمت کرنا تھا۔ ان میں اس وقت کے کئی نامور ترقی پسند بھی شامل تھے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو قدامت پسند اور مسیحی ناقدین نے ’فری میسنز‘ نامی تنظیم کی طرح غیر قانونی قرار دلوا دیا اور اس طرح اس گروہ کا وجود ختم ہو گیا۔

فلم ’اینجلز اینڈ ڈیمنز‘ بنانے والوں نے الیومناٹی کے تصور کو پھر سے مقبول بنا دیا ہے

سنہ 1960 تک یہ معاملہ ایسا ہی تھا۔ براڈکاسٹر ڈیوِڈ برام ویل جنھوں نے اپنی پوری زندگی اس فرضی قصے کے بارے میں معلومات جمع کرنے میں صرف کی، انھوں نے مجھے بتایا کہ ہم جس الیومناٹی کے بارے میں آج جانتے ہیں اس کا بویریا کی اُس خفیہ سوسائٹی سے قطعی کوئی تعلق نہیں ہے جس کے ساتھ اسے جوڑا جاتا ہے۔

حقیقت میں آج کے جدید دور میں اس فرضی قصے کی دوبارہ سے (بے بنیاد) مقبولیت کی وجہ آج کے زمانے کا کاؤنٹر کلچر، جس میں ایل ایس ڈی جیسی منشیات کے استعمال کرنے کا جنون اور مشرقی ممالک کے فلسفوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی شامل ہے، جیسے عوامل ہیں۔

اِس قصے کا اُس دور میں آغاز ’سمر آف لوو‘ کہلانے والے ہِپّی اجتماع اور ہپی طرزِ حیات سے ہوا جب چھوٹی سی کتاب کہیں سے سامنے آئی جس کا لاطینی زبان میں عنوان تھا ’پرِنسیپیا ڈِسکارڈیا۔‘

قصہ مختصر یہ کتاب ایک مزاحیہ عقیدے ’ڈِس کارڈین ازم‘ (نااتفاقیت) کی ایک مزاحیہ مقدس کتاب تھی۔ یہ چند منچلے انتشار پسند اور مفکروں کے دماغوں کی اختراع تھی تاکہ پڑھنے والے افراتفری کی دیوی ’ایرِس‘ کی پرستش کریں۔

’نااتفاقیت‘ ایک ایسی تحریک تھی جس کا مقصد سول نافرمانی کی حوصلہ افزائی، ٹھٹّے بازی، عملی مذاق، اور افواہیں پھیلانا تھا۔

یہ کتاب ’ثقافتی ضد‘ کے تجسس سے زیادہ حیثیت کبھی حاصل نہیں کر سکی، مگر اس کے ایک عقیدے کو مصنف رابرٹ اینٹون وِلسن نے امر کر دیا۔ اس عقیدے کے مطابق اس نوعیت کی تخریب کار سرگرمیاں سماجی تبدیلیاں لا سکتی ہیں اور افراد کو سوالات اٹھانے پر مجبور کر سکتی ہیں۔

برام ویل کے مطابق ولسن اور ’پرنسیپیا ڈِسکارڈیا‘ کے ایک مصنف کیری تھارن لی نے طے کیا کہ چونکہ دنیا میں مطلق العنانیت، سختی اور کنٹرول میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے اس لیے وہ معاشرے کو جھٹکا دینے کے لیے افراتفری پھیلائیں گے اور اس مقصد کے حصول کا طریقہ غلط اطلاعات پھیلانا تھا۔ تمام ذرائع بشمول ‘ثقافتی ضد’ اور میڈیا کے ذریعے غلط اطلاعات پھیلائی جائیں۔ اور انھوں نے سوچا کہ وہ ابتدائی طور یہ کام اِلیومناٹی کے متعلق کہانیاں بنا کر پیش کریں گے۔

اُس زمانے میں وِلسن مردوں کے ایک جنسی میگزین ’پلے بوائے‘ کے لیے کام کرتے تھے۔ انھوں نے اور اُن کے ساتھی تھارنلی نے اس خفیہ تنظیم اِلیومناٹی کے بارے میں قارئین کے ناموں سے جعلی خطوط لکھنے شروع کر دیے۔ پھر انھوں نے پہلے بھیجے ہوئے خطوط کی تردید کے لیے مزید خطوط بھیجنے شروع کر دیے۔

معروف ہِپ ہاپ سٹار جے زی مبینہ طور پر اِلیومناٹی تنظیم کی علامتی تکون اپنے کنسرٹس میں بنا چکے ہیں

برام ویل کہتے ہیں کہ ’اس کے پیچھے یہ مقصد کارفرما تھا کہ اگر آپ ایک کہانی کے بارے میں بڑی تعداد میں متضاد معلومات پھیلانا شروع کر دیں تو لوگ اس کی جانب دیکھنا شروع کر دیں گے اور سوچیں گے کہ ‘ایک منٹ، یہ معلومات مجھے جس انداز میں ملی ہیں کیا میں ان پر بھروسہ کر سکتا ہوں؟‘

’یہ لوگوں کو افسانوی حقائق کی جانب متوجہ کرنے کا ایک مثالی طریقہ ہے اور یہ حقیقتیں ظاہر ہے اس انداز میں وقوع پذیر نہیں ہوئی ہوتیں جس کی لوگوں کو اُمید ہوتی ہے۔‘

اِلیومناٹی کی فرضی داستان سے جڑی افراتفری دنیا کے ہر کونے تک پھیل گئی۔ وِلسن اور پلے بوائے کے ایک اور مصنف نے ’دی اِلیومناٹس! ٹرائیلوجی‘ لکھ ڈالی جس میں امریکی آنجہانی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل جیسے واقعات پر پردہ ڈالنے کی ذمہ داری بھی اِلیومناٹی پر عائد کر دی گئی۔

یہ کتاب حیران کن حد تک اتنی کامیاب اور مقبولِ عام ہوئی کہ لیورپول میں اس پر ایک ڈرامہ بھی پیش کیا گیا جس کے ذریعے برطانیہ کے دو اداکاروں بِل نگی اور جِم براڈبینٹ کے کرئیر آغاز ہوا۔

برطانوی الیکٹرانک بینڈ ’دی کے ایل ایف‘ اپنے آپ کو ’قدیم قابلِ جواز مومو‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ نام ’نااتفاقیت‘ کا عقیدہ رکھنے والوں کے اُس بینڈ سے لیا گیا ہے جو افراتفری کے عقیدے سے متاثر ہو کر وِلسن کی کتابوں میں اِلیومناٹی میں شامل ہو جاتے ہیں۔

پھر اِلیومناٹی کے کرداروں پر مبنی ایک تاش کا کھیل سنہ 1975 میں ظاہر ہوتا ہے جو اس پوری نسل کے ذہن پر پراسرار خفیہ سوسائٹی کی دنیا کے نقوش بِٹھا دیتا ہے۔

آج یہ دنیا کے سب سے زیادہ مانے جانے والے سازشی نظریات میں سے ایک ہے۔ یہاں تک کہ بڑی بڑی سیلیبریٹیز مثلاً جے زی اور بیونسے نے بھی اس گروپ کی علامات کو اپنایا ہے اور اپنے کنسرٹس کے دوران اپنے ہاتھ اِلیومناٹی کی تکون بنانے کے انداز میں بلند کیے ہیں۔ یہ شاید انتہائی عجیب قسم کا اشتعال انگیز جذباتی لمحہ ہوتا ہے جب یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ جعلی ہے، جو کہ نااتفاقیت کے عقیدے کے حامیوں کا اصل مقصد تھا۔

سنہ 60 کی دہائی کے زمانے کی محدود اور مختصر طباعتی ثقافت آج کے عالمگیریت کے دور میں شاید بہت ہی قدیم زمانے کی بات لگتی ہے، اور یہ بات بلاتردید کہی جا سکتی ہے کہ آج کے دور میں اِلیومناٹی کی افواہوں کی تھیوری کو جو شہرت ملی ہے اس کی وجہ انٹرنیٹ پر مختلف پلیٹ فارمز مثلاً 4 چین اور ریڈاٹ پر اس کے بارے میں معلومات شیئر کرنا ہے۔

لیکن ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جو کہ سازشی نظریات سے بھری ہوئی ہے اور، اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ اس دور میں سازشی نظریات کے ماننے والے بھی بہت ہیں۔ سنہ 2015 میں سیاسی علوم کے ماہرین نے دریافت کیا کہ امریکہ کی نصف آبادی کم از کم ایک نہ ایک سازشی نظریے کی ضرور تائید کرتی ہے۔

ان میں اِلیومناٹی سے لے کر اوبامہ کی جائے پیدائش اور گیارہ ستمبر کے حملوں کے بارے میں یہ خیال ظاہر کرنا کہ یہ تمام کام اندر کے خفیہ لوگوں کا کام تھے یا اس طرح کے دیگر سازشی نظریات شامل ہیں۔

دنیا بھر میں مشہور ایک فرضی قصے کا راز فاش کرنے والی تحریر جو ظاہر کرتی ہے کہ جعلی قصے کتنی تیزی سے پھیلتے ہیں

اینگلیا رسکن یونیورسٹی کے ماہرِ سماجی نفسیات پروفیسر ویرن سوامی کہتے ہیں کہ ’سازشی نظریات کو ماننے والوں کا کوئی مخصوص شخصی خاکہ نہیں ہوتا۔ اس بارے میں کئی آرا ہیں کہ لوگ سازشی نظریات کو کیوں مانتے ہیں، اور ضروری نہیں یہ ایک دوسرے کی نفی کرتی ہوں۔ اس لیے اس کی سادہ ترین وضاحت یہ ہے کہ جو لوگ ان سازشی نظریات کو درست تسلیم کرتے ہیں وہ ایک لحاظ سے کسی نہ کسی ذہنی بیماری کے شکار ہوتے ہیں۔‘

اس موضوع کے دیگر ماہرین ان سازشی نظریات کے بارے میں ایک اور نتیجہ اخذ کرتے ہیں وہ یہ کہ یہ نظریات ان معاملات کے بارے میں ایک علمی وضاحت دے سکتے ہیں جو ہمارے لیے سمجھنا مشکل ہوتی ہیں یا جن سے ہماری عزتِ نفس مجروح ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

سوامی کہتے ہیں کہ ’یہ (سازشی نظریات) ہمیں ایک سادہ سی وضاحت مہیا کر دیتے ہیں۔‘ سوامی نے سنہ 2016 میں ایک تحقیق کی تھی جس سے معلوم ہوا تھا کہ جو لوگ سازشی نظریات پر یقین کرتے ہیں وہ سازشی نظریات پر یقین نہ رکھنے والوں کی نسبت زیادہ ذہنی تناؤ سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ دیگر ماہرینِ علوم نفسیات نے بھی گذشتہ برس یہ دریافت کیا کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کے سازشی نظریات پر یقین کرنے کا امکان کم ہوتا ہے۔

یہ صورتِ حال جدید امریکہ کی ایک تاریک منظر کشی کرتی ہے، خاص کر سوامی کے نزدیک جنھوں نے اس حوالے سے ایک تبدیلی دیکھی ہے کہ اب سازشی نظریات کے مواد کو کون فروغ دیتا ہے۔

’خاص طور پر جنوبی ایشیا میں سازشی نظریات تو اب حکومتوں کے ہاتھ میں اپنے عوام کو کنٹرول کرنے کے آلہِ کار ہیں۔ مغرب میں یہ اس کے بالکل برعکس ہے، یہ ان لوگوں کا موضوع بنتے ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے، جن کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا ہے، اور ان کے اپنے آپ کو بے اختیار سمجھنے کی وہ سوچ ہوتی ہے جن کی وجہ سے وہ یہ سازشی نظریات قبول کرتے ہیں جن کی بدولت وہ حکومت کو چیلنج کرتے ہیں۔ جیسا کہ گیارہ ستمبر کے واقعے کے بارے میں سازشی نظریہ ہے۔ اگر لوگ بے اختیار محسوس کرتے ہیں تو سازشی نظریات انصاف کی خاطر احتجاجی تحریک کی داغ بیل ڈال سکتے ہیں اور لوگوں کو سوالات اٹھانے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔‘

’اب جو بڑی تبدیلی آئی ہے وہ یہ کہ سیاست دان، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے سازشی نظریات کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔‘

امریکہ کے 45 ویں صدر نے سابق صدر بارک اوبامہ کی جائے پیدائش کے بارے میں بار بار الزامات دہرائے کہ وہ اصل میں امریکی ریاست ہوائی میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ انھوں نے سنہ 2016 کے انتخابات کے بعد کئی امریکی ریاستوں پر ووٹنگ میں دھاندلی کے الزامات بھی عائد کیے تھے، اور ان کی انتخابی ٹیم پِیزا گیٹ، باؤلنگ گرین قتلِ عام وغیرہ سمیت کئی پروپیگنڈا کہانیوں کی خالق بھی تھی، جو اب جعلی ثابت ہو چکی ہیں۔

میں نے ویرین سوامی سے سوال کیا کہ اُن کی رائے میں کیا ان سازشی نظریات کا استعمال طویل مدت میں طرزِ سیاست کو متاثر کرے گا؟ سوامی نے جواب دیا کہ ’اگر لوگ سازشی نظریات پر یقین کریں گے تو وہ مرکزی دھارے کی سیاست میں دلچسپی لینا چھوڑ دیں گے۔ وہ نسل پرستی، غیر ملکیوں سے نفرت اور انتہا پسندی جیسے خیالات میں زیادہ دلچسپی لینا شروع کر سکتے ہیں۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سازشی نظریات کو مرکزی دھارے کی سیاست میں لے آئے ہیں

ٹرمپ نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اس طرح کے لوگوں کی نمائندگی کریں، خاص کر ان علاقے کے لوگوں کی جو کبھی امریکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے تھے، یہ ریاستیں ’رسٹ بیلٹ‘ کہلاتی ہیں جن کی صنعتیں زوال کی شکار ہیں۔

تاہم بجائے اس کے کہ امریکی عوام یہ سمجھتے کہ وہ اپنے جیسے ایک غیرسیاستدان نمائندے کی وجہ سے ایوان ہائے اقتدار میں بہتر اور مؤثر نمائندگی رکھتے ہیں، اور نظریاتی طور وہ اپنے آپ کو کم بےاختیار محسوس کرتے اور سازشی نظریات کے کم شکار بنتے، مگر اب حقیقت میں نظر یہ آ رہا ہے کہ پہلے کی نسبت زیادہ امریکیوں کے الیومناٹی جیسی کہانیوں کو ماننے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

ڈیوڈ برام ویل کہتے ہیں کہ ’اگر وِلسن آج زندہ ہوتے تو وہ کچھ تو خوش ہوتے اور کچھ صدمے میں ہوتے۔ سنہ 60 کی دہائی میں انھوں نے سوچا تھا کہ یہ ثقافت بہت زیادہ گھٹن پیدا کر رہی ہے۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ہر شے بہت ڈھیلی ہے۔ ہر شے بکھر رہی ہے۔‘

’اگر لوگ جعلی خبروں اور پراپیگنڈا کے خلاف جنگ کریں تو شاید نسبتاً زیادہ استحکام آ سکے۔ ہم اب یہ محسوس کرنے لگ گئے ہیں کہ سوشل میڈیا کس طرح ایسی کہانیاں پیش کر رہا ہے جو ہم سننا چاہتے ہیں۔‘

انٹرنیٹ فورمز پر بحثوں، عوام میں تائید اور انسانی تخیل کی کھلی آزادی کے باوجود ہو سکتا ہے کہ آج سچ کے متلاشی اور حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والے الیومناٹی جیسی فرضی داستانوں کو ہمیشہ کے لیے رد کر دیں۔ایک ناقابلِ احتساب اور خفیہ اشرافیہ کا تصور اُن لوگوں کے ذہنوں پر ضرور حاوی ہو سکتا ہے جو خود کو کمزور اور پسماندہ تصور کرتے ہیں۔

Exit mobile version