Site icon DUNYA PAKISTAN

اسلامی نظریاتی کونسل: ’دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت کی شرط ختم کرنے کی سفارش سات سال پہلے کی تھی‘

Share

پاکستانی قوانین کے مطابق مرد کو دوسری شادی کرنے سے قبل پہلی بیوی سے اجازت حاصل کرنی ضروری ہے تاہم گذشتہ ایک، دو روز سے مقامی ذرائع ابلاغ پر یہ خبر گرم ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت کو حال ہی میں اس قانون میں تبدیلی کی تجویز دی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے سے ان خبروں میں کہا گیا تھا کہ ’اسلامی قوانین کی رو سے دوسری شادی کے خواہش مند مرد کو پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔‘

اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کا وہ آئینی ادارہ ہے جو حکومتِ پاکستان کو قانون سازی اور دیگر معاملات پر اسلام کے حوالے سے مشاورت فراہم کرتا ہے۔

چند مقامی ٹی وی چینلز اور ویب سائٹس پر نظر آنے والی خبروں سے یہ تاثر سامنے آیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت کو یہ تجویز حال ہی میں دی ہے۔ ان کے مطابق حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ متعلقہ قانون میں ترمیم کرے کیونکہ یہ قانون ’شریعت سے متصادم‘ ہے۔

چند خبروں میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی ایک کمیٹی کو یہ سفارشات بھجوائی جا چکی ہیں۔

پاکستان میں دوسری شادی کا قانون کیا ہے؟

موجودہ قوانین کے مطابق اگر کوئی مرد پہلی بیوی کی تحریری اجازت کے بغیر شادی کرے تو پہلی بیوی کی شکایت پر اسے سزا یا جرمانے یا دونوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

قانون کے مطابق دوسری شادی کرنے کے لیے تحریری اجازت نامے کے لیے یونین کونسل کے چیئرمین کو درخواست دینی ہوتی ہے جس میں دوسری مجوزہ شادی کی وجوہات اور پہلی بیوی سے اجازت حاصل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔

یونین کونسل چیئرمین یہ درخواست موصول ہونے پر شوہر اور بیوی سے اپنی اپنی جانب سے ایک، ایک رکن نامزد کرنے کے لیے کہتے ہیں جس کے نتیجے میں چیئرمین کی سربراہی میں ’ثالثی کمیٹی‘ تشکیل پاتی ہے۔

یہ ثالثی کمیٹی پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کی وجوہات کا جائزہ لینے کے بعد اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرتی ہے۔

قانون کے مطابق کچھ مواقع پر اگر ثالثی کمیٹی کی اجازت کے بغیر شادی کی جائے تو ایسا کرنے کی صورت میں مرد کو سزا ہو سکتی ہے یا اس پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہ سزا ایک برس تک قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ دوسری شادی کرنے والے مرد کو پہلی بیوی کو فوری طور پر مہر کی تمام رقم ادا کرنی ہو گی۔

مگر کیا کونسل نے حال ہی میں ایسی کوئی سفارش کی ہے؟

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تردید کی کہ کونسل نے حال ہی میں ایسی کسی تجویز یا سوال پر غور کیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کوئی نئی سفارشات بھی حال ہی میں حکومت کو نہیں بھجوائی گئیں۔

’کونسل نے اس حوالے سے سفارشات سنہ 2013 میں حکومت کو بھجوائی تھیں۔ معلوم نہیں یہ میڈیا کے ہاتھ اب کہاں سے لگ گئیں جو اس معاملے کو دوبارہ اٹھایا گیا ہے۔‘

تاہم ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ کونسل نے جو سفارشات اُس وقت حکومت کو بھجوائی تھیں، اُن پر عملدرآمد التوا کا شکار ہے۔

’ان میں میراث کا معاملہ فیڈرل شریعت کورٹ کے اپیلیٹ بینچ کے پاس زیرِ سماعت ہے جبکہ دوسری شادی کے لیے اجازت کے معاملے پر کونسل کی تجویز پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو پایا ہے۔‘

ان کہنا تھا کہ ایسے میں پاکستان میں رائج قانون یعنی سنہ 1961 کے مسلم عائلی قوانین آرڈیننس کی شق نمبر چھ کے مطابق ہی اس معاملے کو دیکھا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ سنہ 2014 میں اس وقت کے کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کی زیر صدارت کونسل نے مسلم خاندانی قوانین پر بحث کرنے کے بعد کہا تھا کہ سنہ 1961 کے مسلم عائلی قوانین آرڈیننس کی شق چھ ’شریعت سے متصادم ہے کیونکہ اسلام میں دوسری شادی کرنے کے لیے شوہر کو پہلی بیوی سے اجازت کی ضرورت نہیں۔‘

سنہ 2014 میں حکومت کو اس حوالے سے ضروری ترمیم کی سفارش کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے اس وقت کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا تھا کہ ’تاہم دوسری شادی کرنے والے شوہر کے لیے یہ ضروری ہو گا کہ وہ تمام بیویوں کے ساتھ مساوی سلوک برتے۔‘

کیا رائج قانون کے تحت کسی کو سزا ہوئی ہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے گذشتہ برس پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ایک شہری کے مقدمے کے فیصلے میں لکھا تھا کہ قانون کے مطابق اگر پہلی بیوی کی اجازت حاصل ہو، تب بھی مصالحتی کمیٹی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی نہیں کی جا سکتی تھی۔

گذشتہ برس مارچ میں لاہور کی ایک عدالت نے ایک شخص کو پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر شادی کرنے پر تین ماہ قید اور پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ اسی طرح سیالکوٹ کی ایک عدالت نے بھی گذشتہ برس ایسے ہی مقدمے میں ایک شخص کو ایک ماہ قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی تھی۔

تاہم انھوں نے بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ حکومت دوسری شادی پر عائد یہ شرط ختم کرے اور یہ کہ ان پر عائد کیا جانے والا پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ بھی بہت زیادہ تھا۔

’توجہ ہٹانے کے لیے نیا اِیشو‘

یہ خبریں سامنے آنے کے بعد ’دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت‘ کا موضوع سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر زیرِ بحث رہا۔

اس خبر کو لے کر ٹوئٹر پر ایک صارف ڈاکٹر مرتضٰی جی نے کہا کہ ’یہ حکومت کی طرف سے توجہ ہٹانے کا رواں ہفتے کا نیا ایشو ہے، اگلے ایشو کا انتظار کریں۔ وہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کیا شوہر کو گرل فرینڈ بنانے کے لیے بیوی کی اجازت درکار ہو گی۔’

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس خبر کو لے کر بات کرتے ہوئے ایک صارف حنا اندرابی نے لکھا کہ ’مرد پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر شادی نہیں کر سکتا۔ اسلامی نظریاتی کونسل اجازت کے بغیر شادی کی اجازت دے کر اس کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، افسوسناک فیصلہ ہے۔‘

Exit mobile version