سورن سنگھ ، قائد اعظم اور گریٹر پاکستان

naeem-baloch1KPKسے تعلق رکھنے والے سردار سورن سنگھ پہلے صوبائی وزیر نہیں جو مسلمان دہشت گردوں کے ہاتھوں جان کی بازی ہارے ہیں ۔اس سے پہلے اسلام کے نام پر بننے والی دنیا کی پہلی نظریاتی مملکت میں ایک اور صوبائی وزیر شہباز بھٹی، جو کہ مسیحی تھے ، موت کی وادی میں دھکیل دیے گئے تھے۔ ان کے قتل کے بعد یہ بحث تو متوقع ہی تھی کہ وہ شہید قرار دیے جائیں یا ہلاک، لیکن اس دلچسپ بحث کو مؤخر کرتے ہوئے ہم کچھ وہ معلومات جو میڈیا پر موجود تو ہیں لیکن عام نہیں ہوئیں، اپنے قارئین کے سامنے اعادے کے لیے رکھتے ہیں ۔
*پولیس کے مطابق سورن سنگھ کو ایک ہی گولی آنکھ کے قریب ماتھے پر لگی ہے۔ اہلکاروں نے بتایا کہ سورن سنگھ کو ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے۔
* پشاور شہر ہشت نگری گیٹ کے قریب سکھوں کے ایک گوردوارے کو 70 سال بعد عبادت کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ سردار سورن سنگھ نے حکومت کے اس اقدام کو سراہا تھا ۔ اس میں سردار سورن سنگھ کی کوششوں کو بھی خاصا دخل تھا۔
*سورن سنگھ نے 2011 ء میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ اس سے پہلے وہ جماعت اسلامی سے وابستہ تھے۔ *وہ سکھ برادی کے اہم رکن تھے اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے انھوں نے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے ۔ پیشے کے لحاظ سے وہ ڈاکٹر تھے اور اس کے علاوہ پشتو زبان کی ٹی وی چینل اے وی ٹی خیبر کے لیے وہ تین سال تک ایک پروگرام کی میزبانی کرتے رہے جس کا نام ’’تھا زہ ہم پاکستانی یم ‘‘جس کا مطلب ہے میں بھی پاکستانی ہوں۔
*اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان عمر خراسانی نے اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے ۔
*عمر خراسانی نے ایک ای میل میں کہا ہے کہ سورن سنگھ کو اقلیت کی وجہ سے نہیں مارا گیا بلکہ اس کی وجوہات کچھ اور ہیں جس کا علم حکومت اور اس کے اداروں کو ہے۔
ان حقائق کے بعد بحث کے متعدد دروازے کھلتے ہیں ، لیکن میرا ذہن اس واقعے پر قائد اعظم محمد علی جناح کی ان کوششوں کی طرف چلا جاتا ہے جو انھوں نے پاکسان کے بننے پر پنجاب کو ایک رکھنے میں کی تھیں ۔ اہل علم میں سیکولر اور مذہبی پاکستان کی بحثیں تو چل ہی رہی ہیں اور اپنی اپنی مرضی کے تاریخی حقائق کو استعمال کرنے کے نت نئے طریقے بھی آزمائے جارہے ہیں لیکن ذرا ان حقائق کو بھی جان لیں کہ:
* قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنانا چاہتے تھے جہاں غیر مسلموں کی ایک معقول آبادی ہو اور ان کو ہر اعتبار سے سے مسلم آبادی کے برابر حقوق حاصل ہوں ۔ اسی لیے انھوں نے اس وقت کی سکھ قیادت ماسٹر تارا سنگھ ، گیانی ذیل سنگھ اور ہر دیت سنگھ کو اس بات کی پیشکش کی کہ اگر وہ پاکستان میں رہنا قبول کر لیں گے تو انھیں پنجاب پورے کا پورا دے دیا جائے گا ، جہاں ان کی اپنی فوج ہو گی ، اپنی پارلیمنٹ ہو گی ، اپنی حکومت( مرضی کا وزیر اعلیٰ اور کا بینہ ) ہو گی۔ اس پیشکش کے علاوہ ایک دوسری آپشن بھی ان کو دی گئی تھی کہ متحدہ ریاست میں چیف آف آرمی سٹاف ان کا ہی ہو گا ، وزارتوں میں کوٹا ہو گا اوردیگر مراعات بھی ہوں گی۔
*مگر اس پیشکش کا جواب دینے سے قبل ہی لاہور کے فسادات میں ماسٹر تارا سنگھ کی ماں کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔
سوچتا ہوں کہ اگر یہ فسادات نہ ہوتے اور سکھ قیادت قائد اعظم محمد علی جناح کی پیشکش مان لیتی تو کیا آج ہم سورن سنگھ جیسے سچے پاکستانی کو یوں کھو دینے پر رو رہے ہوتے؟پھر سوچتا ہوں کہ ہم جہاد جیسی عبادت کو روزانہ کی بنیاد پر کیسے ادا کر پاتے ؟ہماری قرار داد مقاصد کیسی ہوتی؟موجودہ آئین کیا ایسا ہی ہوتا جیسا اب ہے ؟ لیکن سب سے مشکل یہ پیش آتی کہ دفاع کرنے کے دوران میں جان نثار کر دینے والے فوجیوں میں کس کو شہید اور کن کو جاں بحق قرار دیتے ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *