ترکی کے خلاف جنگ میں تیزی لائیں گے، کرد سربراہ

Jamel Bayek

باغی کرد تنظیم پی کے کے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ترکی کے خلاف جنگ میں تیزی لانے کے لیے تیار ہے کیوں کہ انقرہ اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر رہا ہے۔کردستان ورکرز پارٹی کے سربراہ جمیل بایک نے کہا کہ صدر رجب طیب اردوغان جنگ کے شعلوں کو ہوا دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا: ’جب تک ترکی کا یہ رویہ رہے گا، کرد آخر دم تک اپنا دفاع کرتے رہیں گے، پی کے کے بالکل جنگ میں تیزی لائے گی۔‘ دوسری جانب صدر اردوغان کے ایک مشیر نے پی کے کے کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کے امکان کو رد کر دیا ہے۔ صدارتی مشیر النور جیوک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’پی کے کے ترکی میں ایک الگ ملک قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو کھلی علیحدگی ہے۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مذاکرات کا کوئی امکان ہے تو انھوں نے کہا: ’فی الحال نہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ صدر اردوغان کی جانب سے کرد علیحدگی پسندوں کے خلاف شروع کردہ فوجی مہم کو عوامی حمایت حاصل ہے۔ تاہم جمیل بایک اصرار کرتے ہیں کہ ’ہم ترکی سے الگ ہو کر علیحدہ ملک نہیں بنانا چاہتے۔ ہم ترکی کو تقسیم نہیں کرنا چاہتے۔ ہم ترکی کی سرحد کے اندر اپنی سرزمین پر آزادی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کردوں کے پیدائشی حقوق تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔‘ انھوں نے کہا کہ ترکی کی ضد نے پی کے کے کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ تنازعے کو ’نہ صرف کردستان میں بلکہ ترکی کے دوسرے حصوں میں بھی‘بڑھاوا دے۔گذشتہ جولائی میں ترکی اور پی کے کے کے درمیان دو سالہ تک چلنے والا جنگ بندی کا معاہدہ ٹوٹ گیا تھا۔ اس کے بعد سے تنازعے میں شدت آئی ہے، اور ترک فضائیہ نے شمالی عراق میں کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔ ترکی، یورپی یونین اور امریکہ پی کے کے کو دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔ فوج نے ملک کے جنوب مشرقی کرد علاقوں کے بعض مقامات پر کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مطابق جنگ بندی ختم ہونے کے بعد سے اب تک ترک سکیورٹی فورسز کے 340 اہلکار مارے جا چکے ہیں، جب کہ اسی دوران 300 سے زائد کرد جنگجو اور 200 سے زائد عام شہری ہلاک ہوئے ہیں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *