نکھٹو میاں اورمحنتی بیویاں

razia syed

سمیع کی والدہ گذشتہ پندرہ سال سے تدریس سے وابستہ ہیں نہایت شائستہ اور دھیمے لہجے کی مالک ہیں۔ ان کے تین ہونہار بچے ہیں جو انہی کے سکول میں زیر تعلیم ہیں اور سکول والے ان کی خدمات کے عوض ان کے بچوں کی فیسوں میں رعائیت دیتے ہیں ۔ سمیع کی والدہ (مصباح )کو شفٹ کی گاڑی انکے گھر تک چھوڑنے آتی ہے اور بس اسکے بعد ان کے گھر سے بنیان اور شلوار میں ملبوس نکھٹو شوہر کی آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں ، کیونکہ وہ سارا دن بے کار رہ رہ کر پریشان ہو جاتے ہیں تو منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے بچوں کو دو تین تھپڑ رسید کر دیتے ہیں اور مصباح کے ساتھ اپنی قسمت پھوٹنے کا رونا بھی روتے ہیں ۔
محلے کی کئی بزرگ خواتین نے مصباح کو یہ سمجھایا ہے کہ تمھارا شوہر ایک تو کاہل ہے کچھ کام کاج بھی نہیں کرتا اور رعب بھی تم پر جماتا ہے توتم اسکو کچھ تو سمجھاؤ تاہم اسکے جواب میں بس انھوں نے یہی کہا کہ ’’ کیا کروں ایک تو شادی دیر سے ہوئی اس وقت شوہر کماتا تھا پھر اسے پتہ چلا کہ میں پہلے سکول میں استانی تھی تو نوکری چھوڑ کر گھر بیٹھ گیا ، اب مجھ سے میرے بچے بھوکے نہیں دیکھے جاتے تو اسکی باتیں سنتی ہوں ۔ ‘‘
دوسری کہانی شبینہ کی جو لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں ، پانچ بچے بھی ہیں ، شوہر پہلے سنار کی دکان پر کاری گر تھا لیکن اب نکما ہو کر گھر پر موجود ہے ، شبینہ نے اپنے شوہر کو کہا ہے کہ تم میرے بھائیوں کی دکان پر مشنیوں کے ٹھیک کرنے کا کام سیکھ لو لیکن وہ نہیں مانتا ۔ شبینہ کے گھر میں بھی ہر صبح کا آغاز بچوں کی مار پیٹ اور گالی گلوچ سے ہوتا ہے ۔
تیسرا اور آخری قصہ سب سے دلچسپ ہے اس میں شوہر تو ضرور باقی دو واقعات کی طرح نکھٹو ہے لیکن جناب کمال ہے آنٹی ذکیہ پر بھی کہ انھوں نے اپنے نکھٹو شوہر کو ناکوں چنے چبوا رکھے ہیں ۔ ذکیہ آنٹی ایک نجی بینک میں اسٹنٹ مینجر ہیں ، خوشحال گھرانا ہے ، برتن دھونے کے لئے ان کے ہاں ایک خاتون آتی ہیں ، جبکہ آٹا گوندھنے سے لے کر صفائی ستھرائی تک کے سب کام انکل شفیق سرانجام دیتے ہیں ۔ محلے کی کئی خواتین ان کی حامی ہیں کہ ایک تو بیوی صبح کی گئی سات بجے دفتر سے آتی ہے تو اسکا بھی فرض ہے کہ کچھ دیر آرام کرے ، شفیق تو سارا دن فارغ ہی ہوتا ہے ۔
پہلے دو واقعات میں تو میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ ایسی محنتی خواتین کے والدین انھیں بیاہ کر بس بوجھ اتار دیتے ہیں اور ان کی واپسی کا کوئی راستہ نہیں چھوڑتے ، وہ مجبوری کے لئے نوکری کرتی ہیں اور ان کے شوہر ان پر سب ذمہ داری عائد کر کے خود فارغ البال ہو جاتے ہیں ۔ کمائی بھی انہی کی کھاتے ہیں اور مار پیٹ بھی انہی کی ہوتی ہے ۔
جہاں تک ذکیہ آنٹی اور ان جیسی دیگر خواتین کی بات ہے میں اس بات سے سو فیصد متفق ہوں کہ واقعی جو مرد کام نہیں کرتا پھر اسے بستر توڑنے کا بھی کوئی حق نہیں ۔ حدیث میں بھی ہے کہ تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ اچھا ہے ۔ میں ماؤں کے اس فارمو
لے کے بہت مخالف ہوں کہ فلاں بے روزگار لڑکے کی شادی کر دو ،اس پر ذمہ داری پڑے گی خود بخود کما کے لائے گا او بھائی جو بندہ اپنی ماں کے لئے کما کے نہیں لا رہا ، بہنوں کو باپ کو سکھ نہیں دے رہا وہ بیوی کے لئے کیا کمائی کرے گا ؟
اگر مرد میں احساس ذمہ داری نہیں اور وہ اپنے خاندان کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا تو میرے خیال سے اسے اس دھرتی پر بھی بوجھ نہیں بننا چاہیے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *