لونڈیاں ، ان کا ستر اورہمارے اسلاف (حصہ اول )

rehanابو یحیٰی
(معروف اسلامی سکالر جناب جاوید احمد غامدی سے ایک ٹی وی پروگرام میں سوال کیا گیا کہ کیا کوئی مرد کسی غیر محرم عورت سے مصافحہ کر سکتی ہے ؟ اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ حضورﷺ نے اپنے لیے یہ پسند نہیں فرمایا کہ آپؐ عورتوں سے مصافحہ کریں ۔ یوں ا نھوں نے اپنا یہ موقف دیا کہ یہ اگرچہ پسندیدہ نہیں لیکن اسے حرام بھی نہیں قرار دیا جا سکتا۔اس پر سوشل میڈیا میں بہت لے دے ہو رہی ہے ۔ اس بحث میں ایک موقف یہ سامنے آیا کہ اسلامی فقہ میں اس قسم کا فتویٰ کوئی نئی چیز نہیں بلکہ عورت کے حوالے سے جو تصور ہمارے ہاں پایا جاتا ہے وہ اس سے بہت مختلف ہے جس کا سراغ ہمیں عرب کی اسلامی ثقافت اور معاشرت میں ملتا ہے۔اسی وجہ سے معترضین کی رائے قابل لحاظ نہیں ہے۔ زیر نظر مضمون میں مصنف نے اسی حوالے سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے ۔ قارئین اس پر اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔ ادارہ )
برادر عزیز عمار خان ناصر صاحب نے جو فیس بک کے صفحات پر اپنی پے در پے پوسٹوں سے جو بحث اٹھادی ہے، اس کے کئی پہلو ہیں۔ ان میں سے ایک اہم پہلو لونڈیوں کاستراور ان کے حوالے سے بیان کردہ بعض رویوں سے متعلق ہے۔ ان چیزوں کو پڑھ کر بعض ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ کیادین اسلام لونڈیوں کوانسان نہیں سمجھتاتھا۔ اوریہ کہ ہمارے قابل احترام اسلاف کی کتب میں اس طرح کی چیزوں کیوں ملتی ہیں جو بظاہر اخلاقی طور پر قابل اعتراض ہیں۔
اس کی وضاحت اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ بات صرف اسلاف کے علمی ذخیرے تک ہی محدود نہیں، بلکہ قرآن اور خاص کر احادیث پر اسی پہلو سے بعض سنگین اعتراضات کیے جاتے ہیں۔ا گرچہ ہمارے جیسے طالب علم ان کی بنیاد پر مستشرقین کے اسلام، قرآن اور پیغمبر اسلام کے خلاف پروپیگنڈے سے واقف ہیں اور ان کا جواب دیتے رہتے ہیں، مگر عام لوگ ان چیزوں سے واقف نہیں۔ جب دیگر ذرائع سے ان تک ایسی چیزیں پہنچتی ہیں تو ان کا اعتماد متزلزل ہوجاتا ہے۔ نیز احادیث میں اسی نوعیت کی بعض چیزوں کو دیکھ کر انکار حدیث کا ایک ذہن پیدا ہوجاتا ہے۔
میں آغاز کلام میں اس حوالے سے اپنا ایک واقعہ بیان کرنا چاہوں گا جس کی وجہ سے بالکل ابتدئی زمانے ہی میں مجھے اس مسئلے کو گہرائی میں جاکر سمجھنے کا موقع مل گیا تھا۔تقریبا ربع صدی قبل میں علوم اسلامی کی تعلیم کے زمانے میں اصلاحی دروس دیا کرتا تھا۔ان دروس میں میری دعوتی سرگرمیوں کے نتیجے میں متاثر ہونے والے میرے کلاس فیلو اور جونیئر وہ طلباو طالبات شریک ہواکرتے تھے۔یہ لوگ مجھ سے بہت عزت اور محبت کا تعلق رکھتے تھے۔کسی موقع پر میں نے درس میں ایک حدیث بیان کردی جس میں بدکاری کی شناعت کو ذرا کھل کر بیان کیا گیا تھا۔اس حدیث کے بیان کرنے پر درس میں موجود کچھ طالبات نے مجھ سے احتجاج کیا۔
یہیں سے میں نے پہلی دفعہ اس پر سوچنا شروع کیا کہ ایسا کیوں ہے کہ ہمارے بنیادی علمی ذخیرے میں ایسی چیزیں موجود ہیں جن کا بیان کرنا یا سننا بھی ہمارے مروجہ معیارات کے مطابق درست نہیں۔اتفاق سے ہمارے نصاب میں سورہ قیامہ موجود تھی۔ ہر کلاس کے سارے لڑکے لڑکیاں ایک مرد استاد سے اس سورت کی آیت: (کیا انسان ایک قطرہ منی نہ تھا جو ٹپکادی جاتی ہے)کی تشریح و تفسیر پڑھتے تھے ۔ان طالبات کو تو میں نے اس پس منظر میں بات سمجھادی ، لیکن خود اپنے اندرسوالات کی ایک دنیا پیدا ہوچکی تھی۔ چلیں وہاں تو مخلوط تعلیم پر لعنت بھیج کر اس مسئلے سے جان چھڑائی جاسکتی تھی، مگر اُس وقت تک میں عمرہ ادا کرچکا تھا۔ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ مسجد الحرام میں سب مرد و زن موجود ہوتے اور امام صاحب قرآن کی یہی سورتیں پڑھا رہے ہوتے تھے۔
چنانچہ اصل مسئلہ یہ سامنے آیا کہ بات حدیث کی بھی نہیں ہے۔ قرآن کی ہے۔ اس کو تو نمازوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ زمانہ رسالت میں تو مردوں کے پیچھے ہی خواتین کی صفیں ہوتی تھیں۔ خُلِقَ مِن مَّاء دَافِقٍ(انسان کو ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا)، نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَأْتُواْ حَرْثَکُمْ أَنَّی شِءْ تُمْ(تمھاری عورتیں تمھاری کھیتیاں ہیں تو جہاں سے چاہو اپنی کھیتیوں میں آؤ)،فَلَمَّا تَغَشَّاہَا حَمَلَتْ حَمْلاً خَفِیْفاً(پس جب مرد نے عورت کو ڈھانپ لیا تو اس نے ہلکا سا حمل اٹھالیا )اور ان جیسی کئی آیات قرآن ہی میں موجود ہیں۔انھیں پڑھا بھی جاتا اورسنا بھی جاتا ہوگا۔اچھا! ماننے والوں کو چھوڑ دیجیے منکرین کا کیا کریں گے۔ کفار مکہ کے خلاف قرآن مجید نے پوری چارج شیٹ عائد کی ہے۔ ان کی فکری، عملی اور اخلاقیوں کو کھل کر نشانہ بنایا۔ جواب میں انھوں نے بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ مگر قرآن مجید پر یہ الزام نہیں لگایا کہ اس میں اخلاقی طور پر کوئی معیوب بات ہے ۔حالانکہ ان کے لیے یہ بہترین موقع تھا کہ قرآن اور صاحب قرآن کو بدنام کرنے کے لیے کوئی اس طرح کی آیات کو بنیاد بناکر یہ بات اچھالیں کہ قرآن مجید کی تماثیل اورمضامین اخلاق اور ادب کے معیارات سے گرے ہوئے ہیں۔
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ عربوں کے مزاج اور معاشرت میں اس طرح کی باتیں معیوب نہ تھیں۔احادیث کے ذخیرے میں جو بعض واقعات، مکالمات نظر آتے ہیں، وہ بھی اسی عرب کلچر کی عکاسی کرتے ہیں۔زمانہ جاہلیت کے عربی قصائد کو جانے دیجیے کہ شاعری اخلاقیات کی پابند نہیں ہوتی۔ مگر یہ حقیقت اپنی جگہ بہرحال موجود ہے کہ شاعری ان کے ہاں خواص تک محدود نہ تھی بلکہ پورے معاشرے کا شغل تھا۔ہمارے معاشرے میں کتنے لوگ ہیں جو میر سے لے کر مصحفی جیسے کلاسیکل شعراء کے ہاں پائے جانے والے معاملہ بندی کے اس رنگ کو جانتے ہیں جس میں عشق کی چنگاری کے بجائے جنس کی آگ بھڑکتی ہے۔ جن کو یہ اشعار آتے ہیں وہ کسی مہذب مجلس میں ان کو نہیں پڑھ سکتے جبکہ اہل ذوق جانتے ہیں کہ امراء القیس کا معلقہ کیا تھا ، اس کے بعض اشعار کی نوعیت کیا تھی اور یہ کہ وہ بطور اعزازخانہ کعبہ میں لٹکا ہوا تھا۔ اس سے کم از کم عرب کی معاشرت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ایک کھلا ہوا معاشرہ تھا۔
تاہم میری بات کا کوئی غلط مطلب نہ نکالیے گا۔عربوں کے ہاں عہد جاہلی کے ادب میں جو اخلاقی گراوٹ تھی، قرآن مجید کسی پہلو سے اس کا کوئی شائبہ بھی اپنے اندر نہیں رکھتا۔قرآن مجید ادب عالیہ کا شاہکار ہونے کے باوجود ہر قسم کی اخلاقی گندگی سے بہت بلند ہے۔ ہاں بند معاشروں میں جو غیر فطری پابندیاں زبان و بیان پر بھی عائد ہوجاتی اور تہذیب سے گری ہوئی سمجھی جاتی ہیں، قرآن مجید ان پابندیوں کو قبول نہیں کرتا۔بلکہ زندگی کے حقائق کو ایک فطری دائرے میں رہتے ہوئے بیان کردیتا ہے۔یوں یہ ہماری حدود کا تعین بھی کردیتا ہے۔
احادیث کا ذکر میں اس وقت اس لیے نہیں کروں گا کہ وہ اس وقت اصلاً زیر بحث نہیں ہیں۔تاہم جیسا کہ اوپر بیان ہوا، ان میں بیان کردہ بعض واقعات اور مکالمات کو بھی عرب کی اُس وقت کے کلچر کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔بعض نادان اس بات کو نہیں سمجھتے۔ اپنے عجمی پس منظر میں ان روایات کو اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس طرح کی ناشائستہ چیزوں کا بیان کس طرح ان مقدس شخصیات کے حوالے سے درست ہوسکتا ہے۔تاہم یہ اعتراض اس پس منظر سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے جسے ابھی ہم نے بیان کیا ہے ۔
عربوں کے اس ثقافتی پس منظر کو واضح کرنے کے بعد اب ہم اس مواد کی طرف آتے ہیں جس کا کچھ حصہ جب سامنے آیا تو تہلکہ مچ گیا۔ ایک رائے یہ سامنے آئی کہ اس طرح کے مواد کو سامنے آنا ہی نہیں چاہیے۔ مگر انفارمیشن ایج میں اب کچھ بھی چھپانا ممکن نہیں رہا ہے۔ایک رائے یہ سامنے آئی کہ یہ فحاشی کا بیان ہے۔ یہ بات بھی درست نہیں ہے۔ہم اس کی تفصیل ابھی کیے دیتے ہیں۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *