بھٹو، کیچ پول اور پرنسپل

Rao Manzar Hayat1راؤ منظر حیات
صدر ذوالفقار علی بھٹو رات کے آخری پہر اپنے دفتر سے نکل کر بیڈ روم کی جانب جارہے تھے۔ رات کو محض دوتین گھنٹے کی نیند لینے والا شخص عملاً ہر وقت حرکت میں رہتا تھا۔کمرے میں جانے سے پہلے ذہن میں پتہ نہیں کیاخیال آیا کہ بچوں کے کمروں کی طرف رُخ کر لیا۔ بچے سو چکے تھے ۔ رات کے تین بجے کا وقت تھا، صرف ایک بچے کے کمرے کے بلب جل رہے تھے۔ سب سے چھوٹے بیٹے شاہنواز کا کمرہ تھا۔ دروازہ پر دستک دے کر جب کمرے میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ شاہنواز سگریٹ پی رہاتھا۔ بھٹو کے لیے یہ مکمل طور پر ناقابل قبول تھا کہ جوان بچہ اپنے ہاتھوں سے اپنی صحت برباد کر لے۔ غصے میں لال پیلے ہو گئے۔ دن بھر کا تمام غصہ بیٹے پر نکال دیا۔ بھٹو آدھا گھنٹہ اکیلا بیٹھ کر سوچتا رہا کہ جوان اولاد کو کیسے اتنی بہتر تربیت دی جائے کہ اس کے کس بل نکل جائیں۔ اب رات کے تقریباً چار بج چکے تھے۔ ایک دم ذہن میں آیا کہ حفیظ پیرزادہ سے مشورہ کرنا چاہیے۔صدر کے سٹاف نے وزیر موصوف کوسوتے ہوئے اُٹھایا اور بتایا کہ صاحب نے یاد کیا ہے۔ پیرزادہ انتہائی تشویش کے عالم میں قصر صدرات پہنچے ۔ گمان تھا کہ کوئی انتہائی سنجیدہ ملکی یا غیر ملکی مسئلہ سامنے آچکا ہے۔ بھٹوصاحب نے سوٹ پہنے ڈرائنگ روم میں ٹہل رہے تھے۔ حفیظ پیرزادہ مزید گھبرا گئے۔ خیر انتہائی ادب سے دریافت کیا کہ سر، اس وقت انہیں کس کام کے لیے بلایا گیا ہے۔ بھٹو نے انتہائی غصہ میں شاہنواز کے سگریٹ پینے کا واقعہ پیرزادہ صاحب کو سنایا اور پوچھنے لگے کہ لڑکا بگڑ رہا ہے لہذا اس کا کیا علاج کیا جائے۔ پیرزادہ خاموش ہو گئے کیونکہ یہ معاملہ ذاتی نوعیت کا تھا۔ مگر بے انتہا اہم تھا۔ پیرزادہ صاحب نے ایک دن کا وقت مانگا۔ بھٹو صاحب پورے جلال میں تھے۔ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا باپ جس کے پاس اپنی اولاد کے لیے وقت نہیں تھا۔ خیر بعد کے حالات نے ثابت کیاکہ بھٹو صاحب کے پاس حقیقت میں وقت بہت ہی کم تھا۔ حفیظ پیرزادہ صدر سے وعدہ تو کر آئے کہ مسئلہ کا کوئی حل نکالیں گے۔ مگر انہیں بھی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔ کسی بزرجمہر سے مشورہ کیا۔ اس نے سیدھا سادہ سا جواب دیا کہ مسئلہ کا مکمل حال صرف ایک آدمی کے پاس ہے اور ان کا نام کرنل این ڈی حسن ہے جو اس وقت کیڈٹ کالج حسن ابدال کا پرنسپل ہے۔ اگر شاہنواز بھٹو کسی طریقہ سے اس کالج میں داخل ہو جائے تو تمام معاملات ٹھیک ہو جائیں گے ۔ پیرزادہ فوراً بھٹو کے پاس پہنچے۔ مسئلہ کا جو حل نکالا تھا، بھٹو فوراً اس مشورہ کو مان گئے۔ فیصلہ صادر کر دیا کہ بیٹے کو کیڈٹ کالج حسن ابدال داخل کر وا دیا جائے۔ مگر وہ کالج کے پرنسپل این ڈی حسن سے مکمل طور پر ناواقف تھے۔
صدر پاکستان کے ذاتی سٹاف نے کرنل صاحب کو درخواست کی کہ شاہنواز بھٹو کو کالج میں داخلہ دے دیں۔ کرنل صاحب ایجوکیشن کور کے ریٹائرڈ افسر تھے۔ انہوں نے مکمل طور پر انکار کر دیاکہ کالج کے داخلے بند ہو چکے ہیں اور اب کسی بھی طالب علم کو لینے کی کوئی گنجائش نہیں۔ سٹاف نے صدر کو جب سارا معاملہ بتایا تو وہ حیران رہ گئے کہ بیٹے کو اپنے ہی ملک میں ایک تعلیمی ادارے میں داخلہ نہیں دلا سکتے ۔ لیکن بھٹو ایک ذہین شخص تھا۔ اس انکار کو قطعاً گستاخی نہیں سمجھا۔ اگلے دن، انہوں نے کرنل صاحب کو فون کیا۔ آپریٹر کو حکم دیا کہ وہ بحیثیت صدر ، اپنا پروٹوکول ختم کرکے پہلے لائن پر آئیں گے اور پرنسپل صاحب ، ان کے بعد ۔ کیا آج یہ بات سوچی جاسکتی ہے کہ کوئی بھی وزیر اعلیٰ یا مقتدر شخص ، کسی استاد کو اتنی عزت دے۔ آج کا ہمارا ملک تو بونوں کا ملک ہے۔ کیا افسر شاہی، کیا سیاستدان ، کیا مذہبی علماء اور کیا دانشور۔ سب ایک جیسے ہیں۔ بلند کردار کے جوہر سے بے خبر این ڈی حسن نے صدر محترم کی بات سنی اور انہیں وہی جواب دیا کہ داخلے بند ہو چکے ہیں۔ بھٹو جیسا شخص ، انتہائی ادب سے انکار سنتا رہا۔ درخواست کی کہ شاہنواز اگر بگڑ گیا تو بحیثیت والد، میرا تمام اثاثہ ختم ہو جائیگا۔ پرنسپل صاحب نے جواب دیا کہ وقت دیجیے ۔ میں سٹاف سے مشورہ کر نا چاہتا ہوں۔ کرنل صاحب نے میٹنگ بلائی اور سارا معاملہ ان کے سامنے رکھ دیا۔ کہنے لگے کہ اگر آپ میں سے ایک بھی انکار کرے گا کہ ہمیں شاہنواز بھٹو کو اس وقت داخلہ نہیں دینا چاہیے تو میں انکار کر دوں گا۔ ایک انتہائی مدبر استاد نے مشورہ دیا کہ اگر صدر کا بیٹا ادارہ میں تعلیم حاصل کرے گا تو ادارے کو فائدہ ہو گا۔ اس کے کئی مالی اور انتظامی مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ خیر اس اجتماعی فیصلے کے بعد پرنسپل صاحب نے شاہنواز بھٹو کو کیڈٹ کالج حسن ابدال میں داخلہ دے دیا۔ مگر ان کی ایک شرط تھی کہ صدر کے بیٹے سے کسی قسم کا کوئی امتیازی سلوک نہیں ہو گا ۔ اس کو عام طالب علموں کی طرح رہنا ہوگا۔ چنانچہ شاہنواز بھٹو کو ہوسٹل میں الگ کمرہ نہیں دیا گیا۔ اسے تین طالب علموں کے ساتھ کمرہ شیئر کرنا تھا۔
حسن ابدال میں کھیل لازمی تھے۔ شام کو تمام طالب علم ہر طرح کے کھیلوں میں شرکت کرتے تھے۔ جس میں فٹ بال، ہاکی، باسکٹ بال وغیرہ شامل تھے۔ شاہنواز کو دمہ (Asthama)کا مرض تھا۔ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اسے گرد سے دور رکھا جائے۔ مگر پرنسپل نے حکم دیا کہ وہ عام بچوں کی طرح ہر کھیل میں حصہ لے گا۔ این ڈی حسن کے فیصلے کے سامنے بیگم نصرت بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو سر تسلیم خم تھے۔ چنانچہ بیٹے نے تمام کھیلوں میں بھر پور حصہ لینا شروع کر دیا۔ شاہنواز قطعاً بیمار نہیں ہوا۔ دمہ کا مرض بہتر ہو گیا اور کالج کی ہاکی ٹیم میں آگیا۔کیڈٹ کالج حسن ابدال میں بچوں نے سارے کام خود کرنے ہوتے تھے۔ جیسے جوتوں کو ہر وقت چمکتی ہوئی پالش لگا کر رکھنا، اپنے بیڈ کو ترتیب سے رکھنا اور اپنی الماری کو انتہائی قرینہ سے رکھنا۔ شاہنواز ہر کام کرتا تھا مگر جوتوں کو اچھی طرح پالش نہیں کر پاتا تھا۔ دراصل اس نے تمام زندگی جوتوں کو پالش کیا ہی نہیں تھا۔ بہر حال اسے ہاؤس ماسٹر اکثر ڈانٹتا تھا کہ جوتے چمک نہیں رہے۔ شاہنواز نے مشکل کا ذکر بیگم نصرت بھٹو صاحبہ سے کیا۔ وہ ماں تھی۔ انہوں نے سادہ سا حل نکال لیا۔ ایک دوپہر وزیر اعظم ہاؤس سے ایک گاڑی آئی ۔ ایک ملازم اترا۔ اس کے ہاتھ میں شاہنواز بھٹو کے لیے چمکتے ہوئے جوتے تھے۔ پرنسپل صاحب معمول کے مطابق کالج کی انسپکشن ر ہے تھے۔ انہوں نے سب کچھ دیکھ لیا کہ کس طرح صدر کے بیٹے کے لیے جوتے پالش ہو کر آئے ہیں۔ کرنل صاحب نے ہاؤس ماسٹر کو بلایااور پوچھا کہ یہ بے اصول کیسے ممکن ہوئی۔ قانون یہی ہے کہ سب بچے اپنے جوتے خود پالش کر ینگے۔ شاہنواز نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی تھی۔ سزا یہ تجویز ہوئی کہ آنے والے ویک اینڈ یعنی چھٹی کے دن اپنے گھر نہیں جائے گا اور ہوسٹل کی کھڑکیوں کے شیشے صاف کرے گا۔ اگر خاتون اول یعنی نصرت بھٹو صاحبہ آئیں تو انہیں اپنے بیٹے سے ملنے کی اجازت نہیں ہو گی ۔ سزا کے مطابق شاہنواز بھٹو، چھٹی والے دن قصر صدارت نہ جا سکا۔ والدہ کو جب معلوم ہوا تو خود کالج تشریف لائیں۔ ان کا مکمل احترام کیا گیا۔ تمام بچوں سے ملیں مگر ہاؤس ماسٹر نے بتایا کہ شاہنواز بھٹو سے نہیں مل سکتیں کیونکہ وہ کھڑکیوں کے شیشے صاف کر رہا ہے۔ خاتون اول نے انتہائی مدبر طریقے سے یہ فیصلہ تسلیم کیا اور خاموشی سے واپس چلی گئیں۔ انہوں نے بالکل بُرا نہیں منایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شاہنواز بھٹو نے ساتھیوں سے بوٹ پالش کرنے سیکھ لیے۔ اس واقعہ کے بعد جتنے ماہ حسن ابدال رہا، اس کے جوتے چمکتے رہے۔جب یہ سب کچھ ہوا تو میں کیڈٹ کالج حسن ابدال میں زیر تعلیم تھا۔ مگر مجھے اس واقعہ کی پوری معلومات نہیں تھیں۔ چند دن پہلے میرے دیرینہ استاد ، ملک آصف صاحب تشریف لائے تو انہوں نے یہ واقعہ پوری جزئیات کے حساب سے بیان کیا۔ ملک آصف اس وقت کالج میں استاد تھے۔ آج کل وہ کیڈٹ کالج تربیلا کے پرنسپل ہیں۔ اس پورے حیرت انگیز واقعہ کے چشم دید گواہ تھے۔ انہوں نے دو واقعات اور بیان کیے، میں صرف جزوی طور پر انکار کر کروں گا۔کیچ پول (Catchpole)کا مندرجہ ذیل واقعہ بھی انہوں نے بیان کیا۔ وہ کیڈٹ کالج حسن ابدال کے ابتدائی پرنسپل تھے۔ ڈیرہ دون سے آکر پاکستان میں چالیس برس سے زیادہ تعلیم تدریس کاکام کرتے رہے ۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں لندں چلے جاتے ہیں۔ 1958ء میں بھی اسی طرح لندن چلے گئے۔ معمول تھا کہ ہر ہفتہ لندن سے حسن ابدال میں اپنے دفتر فون کرکے پورے ادارے کے حالات جانتے رہتے تھے۔ حسب معمول ایک دن فون کیا تو سٹاف نے بتایا کہ ان کی غیر موجودگی میں معمول کے مطابق کالج کے مالی معاملات کا آڈٹ ہوا تھا۔ یہ بالکل عام سی بات تھی۔ مگر خاص بات یہ تھی کہ آڈیٹر نے اعتراض لگایا کہ پرنسپل یعنی کیچ پول صاحب نے پانچ سو روپے کا ایک سرکاری خرچہ کیا ہے، جو شائد ان کے اختیار میں نہیں تھا۔ آڈیٹر نے شائد کا لفظ استعمال کیا تھا۔ کیچ پول نے فون بند کیا۔ اوردوکام کیے۔ لندن سے پانچ سوروپے کا چیک بنوایا اور اپنے استعفیٰ سمیت کالج بھجوا دیا۔ جب صدر پاکستان یعنی ایوب خان کو یہ بات پتہ چلی تو اس نے ذاتی طور پر کیچ پول کو استدعا کی کہ استعفیٰ واپس لی ۔ آڈیٹر کے اعتراض کو خود آڈٹ محکمہ نے بلاجواز قرار دے دیا۔ مگر کیچ پول نے استعفیٰ واپس نہیں لیا۔ ائیر مارشل نور خان بذات خود لندن گئے۔ التجا کی کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ مگر کیچ پول نے استعفیٰ واپس لینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد کبھی بھی زندہ حالت میں کیڈٹ کالج حسن ابدال واپس نہیں آئے۔ وصیت کے مطابق انہوں نے دو کروڑ روپے کالج کو عطیہ کیے اور وہیں دفن ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کی خواہش کے احترام میں کیچ پول کی تدفین کیڈٹ کالج حسن ابدال کے ایک قطعہ میں کی گئی ۔ملک آصف صاحب تو یہ قصے سناکر چلے گئے۔ مگر میں ساتویں منزل پر موجود اپنے دفتر میں مکمل طور پر خاموش بیٹھا ہوا ہوں۔ کمرے کی کھڑکیوں سے روشنی چھن چھن کر اپنے عکس سمیت میرے سامنے موجود ہے۔ پر عجیب بات ہے کہ مجھے ہر طرف اندھیرہ وہی اندھیرہ نظر آرہا ہے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *