"اس شاعری میں عزت سادات بھی گئی"

noshi

آپ سے اور خود سے معذرت کے ساتھ ۔۔۔ !
یوں تو بہت دن سے سیاسی اُٹھا پٹخ جاری ہے۔۔ ہم بھی اس میں رتّی بھر اپنا حصہ ڈالتے رہے ہیں لیکن آج اس حوالے سے طبعت کچھ بے دلی کا شکار ہے ۔ ۔ ایسے میں دل چاہا کہ کیوں نہ آج ادب کے حوالے سے بات کر لی جاۓ، آخر ہم شاعر ہیں ۔۔ باقاعدہ یا بے قاعدہ ۔۔۔ !
اور یہ بھی ایک طرح کی سیاست ہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ہم نے ادب کی داستان سراۓ میں قدم رکھا تو سادگی کی حد تک کم عمر تھے ۔ ادبی دُنیا کے ہر رُخ کو اپنی سادہ و بے ساختہ سوچ کے آیٔینے میں دیکھتے ،نہایت دیانتداری سے۔۔ اصل حقائق کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھنے کی تو جیسے طلب ہی نہ تھی ۔ بس ایک ہی سودا سر میں سمایا تھا کہ حرف و معنی میں وہ طاقت ہے جو کائنات کو تسخیر کر سکتی ہے سو ہم بھی کر لیں گے۔ عمر کی ناتجربہ کارآسودگیاں ساتھ ساتھ تھیں سو ہر اچھا شعر کہنے والا فرد اچھا انسان محسوس ہوتا۔۔ ہر بھلی بات کہنے والے کا دل بھلا بھلا سا معلوم ہوتا۔ ’’ داد‘‘ کو واقعتاً ’’داد‘‘ سمجھ کر ہی وصول کرتے اور بے داد کو بے داد ہی خیال کرتے ۔۔ اس عمل میں کہیں سازشوں کی ہمہ جہتی کا شائبہ تک نہ ہوتا۔۔ کیا عالمِ خوش گمانی تھا۔ اوّل اوّل سفر کے تو آبلے بھی خوشگوار لگتے۔۔ آج بھی اُنکی یاد مسکرانے پر مجبور کر دیتی ہے۔
لیکن بُرا ہو اس آگہی کا کہ جس نے انسان کو ہمیشہ ہی دن میں خواب دیکھنے کی لذّت سے محروم کیا ہے۔
کیسے کیسے پردے اُٹّھے ، کیسے کیسے بُت ریزہ ریزہ ہوۓ ۔ کیسی کیسی نظموں سے یقین اُٹھا ، کیسی کیسی غزلیں معنویت سے خالی ہویٔیں ۔ حتّیٰ کہ وہ کتابیں جو سرہانے رکھ کر سوتے تھے کئی بارانہیں نذرِ آتش کرنے کو جی چاہا۔ بالخصوص دبستانِ شاعری میں چند ایسی قدآور شخصیات سے شرفِ ملاقات نصیب ہوا کہ شعر دیکھو تو جیسے شبنم کے قطروں سے پروئی تسبیح اور گفتگو کے جوہر دیکھیں تو گویا دیواروں کو ناخنوں سے کُھرچ رہے ہوں۔
اس وقت طبیعت کی روانی تو کہتی ہے کہ چند نام بھی لے لیٔے جایٔیں لیکن بزرگوں کی رائج کردہ مرّوت کی روایت کا سہارا لے کر چپکے سے نکل جایٔیں تو بہتر ہے ۔ ہم تو یوں بھی اُن خوش نصیبوں میں سے ہیں جو ہمیشہ سے بلا توّقف، جا بے جا اختلاف کی زَد میں رہے ہیں ۔ پھر بھی تمام مصلحتوں کو بالاۓ طاق رکھ کر ایک معصوم مشورہ ضرور دیں گے کہ جب بھی کہیں اچھا شعر پڑھیں یا سُنیں تو اس کے خالق سے ملاقات کے جنون میں مبتلا نہ ہو جائیں بلکہ گریز کے جتنے حیلے کر سکیں کرتے رہیں ،
یہی نہ ہو اس گداگری میں قلندری کا ہنر بھی جائے

شعر کا لطف لینے میں کسی احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی کہ یہ نشّہ ہی نشّہ ہے اور اس کے لکھنے والے کو سراہنے میں مرئی و غیر مرئی احتیاطیں درکار ہیں کہ یہ ہوش ہی ہوش ہے۔ شاید اس طرح کمالِ فن کا سرُور محفوظ رہ سکے۔ انسان فطرتاً کھوجی ہے، ذرا خزانے کا علم ہوا نہیں اور نکل پڑا تلاش میں۔۔ شعر شناس کا بھی یہی حال ہوتا ہے ، تخلیق سے متّاثر ہوا نہیں اور لگا اس کے خالق کے شعور، تحت الشعور اور لا شعور کی کھڑکیوں پر دستکیں دینے۔ یہ اور بات ہے کہ اس کاوش میں ہاتھ سیاہ ہو جایٔیں اور انگلیاں پیشانی سے چُھو جایٔیں تو وہ بھی داغ داغ ۔۔ پھر بھلے ہی ماتم کرتے پھریئے!
اس شاعری میں عزّتِ سادات بھی گئی!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *