30 مگرمچھوں کا سراغ مل گیا

FBR
کراچی:  ٹیکس چھاپہ کے دوران ایف بی آر نے تیس بڑے رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز کا سراغ لگا لیا۔ڈیلی ٹائمز کے مطابق اب لاکھوں کا ٹیکس وصول کیا جا سکے گا۔ ایف بی آر کی بڑی مچھلیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوششیں رنگ لائی ہیں خصوصا جب تیس بڑے بلڈرز اور ڈویلپرز کے بارے میں اہم معلومات ایف بی آر کی ٹیم کے ہاتھ لگ گئی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کے ایک بڑے کامیاب ریڈ کے ذریعے بڑے بلڈرز کے آپریشن کے بارے میں اہم معلومات حاصل کر لی گئی ہیں اور اب ان کے خلاف قانونی کاروائی کر کے لاکھوں روپے ٹیکس کی مد میں وصول کیے جا سکیں گے۔ آئی آ ر ایس کے ڈائریکٹر خواجہ تنویر احمد کے حکم پر سلمہ گروپ کے ہیڈ آفس پر چھاپہ مارا گیا اور نمائندوں سے اہم معلومات قبضہ میں لے لی گئی۔ اس کے علاوہ ایف بی آر نے بہت سے ڈاکٹرز، فیشن ڈیزائنرز، ریٹیل سٹورز اور ٹیکنالوجی سروسز پر چھاپہ مار کر ٹیکس وصولی کا سلسلہ شروع کیا لیکن اس سے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہ کیا جا سکا۔ ذرائع کے مطابق ٹیکس چوروں کی مدد بہت سے انکم ٹیکس آفیسر کر رہے ہیں اور ان چھاپوں کا فائدہ ملک کی بجائے ان آفیسرز کو جاتا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں کراچی کمانڈ اور کنٹرول سنٹر پر مارے گئے چھاپے سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا کیونکہ کمپنی سے صرف دس ملین روپے وصول کیے جا سکے۔ جب کہ کمپنی کے ذمہ نوے ملین روپے کا ٹیکس ہے۔ اس معاملے میں جب آئی آر آپریشن اور ایف بی آر چیئرمین کو ای میل بھیجی گئی لیکن انہوں نے کوئی جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ اس سے قبل انٹیلی جینس کی طرف سے 63 ملین روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق کراچی آئی آر انٹیلی جینس فروری ۲۰۱۶ تک بہت چستی سے کام میں مصروف تھی ۔ اس دوران انہوں نے 33 چھاپے مارے اور 24 ٹیکس چوروں کو گرفتار کیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *