اقوامِ متحدہ کے لیے ایرانی سفیر کو ویزہ دینے سےامریکا کاانکار

5348e6f80c722اوباما انتظامیہ نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایک غیرمعمولی سفارتی سرزنش کے طور پر اقوامِ متحدہ کے لیے ایرانی سفیر حامد ابوطالبی کو ویزہ نہیں دے گا۔
خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ اقدام امریکا اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے منجمد سفارتی تعلقات کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں میں پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔ یاد رہے کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان تہران کے متنازعہ نیوکلیئر پروگرام کو محدود کرنے کے لیے ایک معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔
ایرانی سفارت کارحامد ابوطالبی کا تعلق اس گروپ سے بتایا جارہا ہے، جس نے 1979ء کےد وران تہران میں واقع امریکی سفارتخانے کا گھیراؤ کیا تھا۔ اس دوران 52 امریکی 444 دن تک یرغمال بنے رہے تھے۔امریکی فیصلے کے بعد حامدابوطالبی نیویارک واقع اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں اپنا عہدہ نہیں سنبھال سکیں گے۔
حامد ابوطالبی کو امریکا میں داخلے کی اجازت نہ دینے کے لیے صدر اوباما پر امریکی کانگریس کا دباؤ تھا۔اس ہفتے کے آغاز میں وہائٹ ہاؤس نے ایرانی حکومت پر واضح کردیا تھا کہ اپنی طالبعلمی کے دور میں انقلابی کے طور پر سرگرم رہنے والے حامد ابوطالبی کو اقوام متحدہ کے سفارتکار کے عہدے کے لیے منتخب کرنے کا اقدام غیرعملی تھا۔
دوسری جانب ایران نے امریکی فیصلے کو افسوسناک قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *