سیاست نوّے کی رائیگاں دِہائی میں واپس

khalid mehmood rasool

میاں صاحب ! اب آپ نہیں بچیں گے۔۔۔ ثبوت آچکے، آپ نے جواب دینا ہے، احتساب ہر صورت میں ہو گا۔۔۔ یومِ تاسیس پر عمران خان کا اسلام آباد میں جلسے سے خطاب۔ جواب آں غزل کے طور پر پرویز رشید نے ارشاد کیا۔۔۔ عمران پیسہ دینے والوں کو کمیشن سے بچانا چاہتے ہیں مگر اب ان کا حساب ہو گا۔ چیرمین تحریک انصاف کی داڑھی میں بال نہیں سب تنکے ہیں، عوام ان کے یو ٹرن دیکھ چکی۔ سعد رفیق نے اپنا حصہ یوں ڈالا۔۔۔ عمران کی اے ٹی ایم مشینیں بھی اب سامنے آئیں گی۔ بلاول کا اپنی جگہ استفسار تھا کہ جناح دور سے تحقیقات سے وزیر اعظم عوام سے کیا چھپانا چاہتے ہیں؟ سراج ا لحق مصر تھے کہ لٹیروں کو جیل جانا ہو گا، آج سلطانہ ڈاکو ہوتا ( سلطانہ موئنث ہونے کی وجہ سے " ہوتی" ہے لیکن سراج ا لحق نے یہی مناسب جانا) تو رکن اسمبلی ہوتا۔۔۔ یہ تمام سرخیاں ڈیلی ایکسپریس کے پیر کے صفحہ اول کی ہیں۔ ذیلی سرخیاں تو او ر بھی بہت تھیں۔ بلکہ ان کے آفٹر شاکس میں اگلے دو دن اس سے بھی تیز، تیکھے اور جوشیلے بیانات میڈیا کی زینت بنے۔
ہمارے وہ احباب جو پچھلے پانچ دس سال کے دوران '" یوتھ" میں شامل ہوئے ہیں، انہیں تمام تر سنجیدگی کے ساتھ یہ یقین ہے کہ یہ سیاسی تہلکہ ان کی جدوجہد کا ثمر ہے ورنہ اس خوابیدہ قوم کو خراٹے لینے سے فرصت ہی کہاں تھی۔ ان کے سیاسی شعور اور سوشل میڈیا پر ان کی شب و روز محنت کا نتیجہ ہے کہ قوم با لآخر بیدار ہو رہی ہے۔ جو تھوڑی بہت کاہلی اور سستی تھی وہ ٹی وی نیٹ ورکس نے پوری کر دی۔ قوم کو جہاں یہ علم ہے کہ سلمان خان نے بالآخر شادی کا فیصلہ کر لیا ہے ، وہیں قوم کو یہ بھی علم ہو رہا ہے کہ کس کس نے دولت لوٹی، کتنی لوٹی اور اس کے بعد ذکر اس پری وش پانامہ لیکس کا شروع ہو جاتا ہے۔جی تو ہمارا بھی یہی چاہتا ہے کہ حاضر توفیق معلومات کی بناء پر اپنی اپنی سیاسی وابستگی کے مطابق حکم صادر کرنا شروع کر دیں لیکن کیا کریں عین انہی پانچ دس سالوں میں ہم تنزلی پا کر یوتھ سے ادھیڑ عمری میں لینڈ کر چکے ہیں۔ ان خبروں اور تجزیوں پر ذہن ٹٹولا تو اندازہ ہوا کہ یہ سب کچھ کہیں سن چکے ہیں، بالکل اسی ترشی اور غصے کے ساتھ۔ بالکل اسی عزم کے ساتھ کہ۔۔۔ اب آپ نہیں بچیں گے!!!
یادش بخیر 1988 میں اسمبلی برطرف ہوئی تو نئے الیکشن کے نتیجے میں پی پی پی کی حکومت بمشکل اقتدار میں آئی۔ مقتدر حلقوں سے پس پردہ کئی عہدو پیمان الگ ہوئے۔ ابھی ڈھنگ سے حکومت شروع بھی نہ ہوئی تھی کہ " جانے نہ پائے " کا ماحول شروع ہو گیا۔ بے نظیر کو مخالفین نے سیکورٹی رسک قرار دیا۔ بھارتی وزیر اعظم راجیوگاندھی سارک کانفرنس کے لیے اسلام آباد آئے تو کشمیر سے متعلق کچھ بورڈ ان کے استقبالی راستے سے ہٹانے پر یار لوگوں نے انھیں کیا کیا بھارت نواز خطابات سے نہ نوازا۔ چوہدری اعتزاز احسن جو آج اس قدر دوڑ دھوپ کر کے اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پر لانے اور اپنی آل پارٹیز کانفرنس میں ایک میز پر بٹھانے کے جتن کر رہے ہیں، ان پر بھارتی پنجاب میں سکھ مزاحمت میں شریک کئی سو افراد کی فہرست خفیہ خفیہ بھارت کو دینے کا الزام لگا۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے اپوزیشن کا اتحاد بنا جس میں جماعت اسلامی سمیت آج کی مسلم لیگ اور ق لیگ بھی شامل تھی۔ یہ اتحاد کیسے بنا، اس کی روداد سپریم کورٹ کے روبرو اصغر خان کیس میں آ چکی۔ وہی کہانیاں جو زباں زد عام تھیں، عدالت میں حلفاّ اقرار ہوئیں۔ اڑھائی سال کی مدت سے قبل ہی قانون کے رکھوالے اس وقت کے صدر نے بے نظیر کو گھر بھیج دیا۔ الزام کرپشن اور بد انتظامی۔
اس کے بعد نواز شریف وزیر اعظم بن گئے۔ ابھی وہ بھی اپنے پاؤں پسارنے نہ پائے تھے کہ مقتدر حلقوں کو شکوے شکایتیں شروع ہو گئیں۔۔۔ اور پھر وہی ہوا، انھیں اسی پی پی پی کے تعاون سے گھر بھیج دیا گیا۔ الزام اب کے بار بھی وہی تھے یعنی کرپشن اور بد انتظامی کے۔ اس کے بعد جو ہوا اسے ماہرین نے میوزک چئیر کا نام دیا۔ ایک کے بعد دوسرے کی باری۔ اپنی باری آتے ہی مخالف کے لتے لینا پہلی حکومتی ترجیح اور مصروفیت رہی۔ پسندیدہ حربہ اور ہتھیار احتساب تھا۔یہ کھیل 1999 تک چلا۔ کیا کیا دشنام طرازی اور الزام تراشی ایک دوسرے پر نہ کی گئی۔ پرویز مشرف نے دونوں کو باہر کا راستہ دکھایا اور اپنے تئیں راوی کو چین ہی چین لکھنے پر مامور کیا۔ اس کے بعد کی تاریخ ا نہیں بھی اچھی طرح معلوم ہے جو پانچ دس سال پہلے ہی یوتھ میں شامل ہوئے ہیں۔
سیاست سے ہمیں مجبوراٌ کچھ دلچسپی یوں ہے کہ ہم پولیٹیکل اکونومی کے طالب علم ہیں۔ سو اکونومی کے ساتھ سیاست نے کیا واردات کی یا معیشت کی وجہ سے سیاست کے ساتھ کیا ہاتھ ہو گیا، اس کھوج کی وجہ سے ہمیں سیاست کے نئے پرانے خدوخال ذہن میں تازہ رکھنے کی مجبوری رہتی ہے۔نوے کی دہائی جسے سیاسی اور معاشی ماہرین Lost Decade کہتے ہیں یعنی ضائع کی گئی دہائی۔ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے اس گیارہ سالہ دور میں نو حکومتیں قائم ہوئیں۔ چارنگران یعنی Interim -set up ، چار سیاسی حکومتیں اور پھر اکتوبر 1999 میں ایک نئی حکومت۔ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے عرض ہے کہ پچاس کی دہائی میں اس وقت کی حکومتی میوزک چئیر میں بھی اسی طرح آٹھ حکومتیں بنیں اوربگڑیں۔
معیشت کا اس اکھاڑ پچھاڑ میں کیا حال ہوا؟ ضیاالحق دور میں جی ڈی پی میں اوسطاٌ سالانہ اضافہ 6.6 % ہوا۔ مالی خسارہ دل کھول کر روا رکھا گیا جسے معیشت کو 90 کی دِہائی میں بھگتنا پڑا۔ اور یوں 1988 میں پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ نوے کی دِہائی کی اکھاڑ پچھاڑ کا سب سے زیادہ نقصان معیشت کو سہنا پڑا۔ جی ڈی پی میں شرح نمو سکڑ کر اس دِہائی میں فقط چار فی صد رہ گئی۔مالی خسارہ سات فی صد سے زائد رہا جبکہ external Deficit چار سے پانچ فی صد رہا جس کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ بیرونی قرضے جو 1990 میں 20 ارب ڈالر تھے، 1998 میں بڑھ کر 43 ارب ڈالر ہو گئے۔ برآمدات بدستور جمود کا شکار رہیں۔ اسی دوران غربت میں دو گنا اضافہ ہوا یعنی 18% سے بڑھ کر 34% ہو گئی۔ اقوام متحدہ کے ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈکس میں پاکستان کا شمار سب سے نچلے بیس ممالک میں کیا گیا۔
ماہرین نے اس قدر مایوس کن معاشی کارکردگی کی چار بڑی وجوہات بیان کیں۔ اول۔ سیاسی عدم استحکام اور حکومتوں کی بار بار تبدیلیاں۔ دوم۔ دونوں بڑی جماعتوں نے انتہائی ناقص گورنس کا مظاہرہ کیا۔ سیاسی مصلحتوں اور ذاتی وفاداریوں نے گورنس کو جکڑے رکھا۔ سوم۔ بر وقت اور مشکل فیصلے کرنے کے لیے سیاسی عزم اور قوت کی کمی رہی۔ چہارم۔ اچانک اور ان چاہے واقعات نے بھی اپنا رنگ دکھایا مثلاٌ پریسلر ترمیم، بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں دھماکوں کی وجہ سے زرِ مبادلہ کے ذخائر منجمد کرنے پڑے اور ایک طرح سے عالمی سطح پر مالیاتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔
آج پندرہ اٹھارہ سال بعد ویسی ہی سرخیاں اور ہیڈ لائینز سن کر ہمارے سامنے نوّے کی رائیگاں دِہائی گھوم گئی۔۔۔ " اب آپ نہیں بچیں گے۔۔۔ میاں صاحب ! ثبوت آچکے، آپ نے جواب دینا ہے، احتساب ہر صورت میں ہو گا۔۔۔ لٹیروں کو جیل جانا ہو گا"۔ " یوتھ" کا دل تو شاید ٹوٹے گا لیکن ہمیں یہ اعتراف ہے کہ یہ اور اس جیسے بیانات اور دعوے ہم پہلے بھی بار بار سن چکے اور قیمت بھی بھر چکے ۔ اس بار اضافت یہ ہے کہ داؤ پر CPEC کی سرمایہ کاری بھی ہے اور لولا لنگڑا سسٹم پھر نشانے پر ہے ۔ ایک بھولی بسری فلم کے بول یاد آ رہے ہیں۔۔۔ یہ تو وہی جگہ ہے گذرے تھے ہم جہاں سے۔ کسی کو یاد دلائیں تو کیا، کہیں تو کیا کہ بقول یاسمین حمید۔۔۔
کھو گیا کثرتِ گویائی کے ہنگامے میں
ایک جو حرف تھا گفتار میں دانائی کا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *