تاریخ کے جھروکوں سے ۔۔۔ مسلم ترکوں اور آئرلینڈ کے عیسائیوں کے درمیان پرانے رشتے

turkeyعمل الصِبائی

تاریخ 1845ء سے 1852ء کے درمیان آئرلینڈ میں پڑنے والے عظیم قحط کو کبھی نہیں بھولے گی۔لیکن بہت سے لوگ یا تو بھول چکے ہیں اور یا پھر انہوں نے کبھی سنا ہی نہیں ہو گا کہ مسلمانوں نے آئرلینڈکے لوگوں کی اس قحط کے دوران بھرپور مدد کی تھی۔
یہ عظیم قحط وسیع و عریض فاقہ کشی ، بیماری اور نقل مکانی کا دور تھاجس کے دوران ملک کی مجموعی آبادی میں 20فیصد کمی واقع ہوئی۔
ذرا تکلیف کی سطح کا تصور کریں۔ جوہن رانیلاگ نے اپنی کتاب، ’’آئرلینڈ کی مختصر تاریخ‘‘ میں لکھاہے کہ تقریباً 10لاکھ لوگ بھوکے مر گئے۔کچھ اموات کی وجہ فاقہ کشی تھی اور کچھ کی وجہ ناقص یا کم غذا کے سبب ہونے والی بیماریاں تھیں۔ لہٰذا مزید ایک لاکھ لوگ آئرلینڈ سے نقل مکانی کرگئے۔ ان لوگوں میں سے زیادہ تر امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا گئے۔
اسے بعض اوقات، ’’آئرلینڈ میں آلوؤں کا قحط‘‘ کہہ کر بھی یاد کیا جاتا ہے کیونکہ اس وقت ملک کی آبادی کا ایک تہائی اپنی بقاء کے لئے محض اس اکلوتی سستی خوراک پر انحصار کرتا تھا۔جب کہ قحط پڑنے کی بنیادی وجہ آلوؤں کی فصل کو لاحق ہونے والی ایک بیماری تھی جسے عرف عام میں، ’’آلوؤں کو تباہ کرنے والی قوت‘‘ کہتے ہیں۔
آئرلینڈ کے کسانوں کے لئے آلو سارا سال روزانہ کھائی جانے والی خوراک تھی۔اس اکلوتی فصل پر اس قدر وسیع انحصار اور پودوں میں جینیاتی تنوع کی عدم موجودگی،وہ دو بنیادی وجوہات تھیں جن کے سبب آئرلینڈ میںآلو کی بیماری تباہ کن اثرات کی حامل ثابت ہوئی تھی۔ لیکن یورپ کے دوسرے ملکوں میں اس کے اثرات زیادہ برے ثابت نہ ہوئے حالانکہ یہ بیماری ان ملکوں میں بھی پھیلی تھی۔
آئرلینڈ کے لوگوں کی تکالیف کو کم کرنے کے لئے دنیا بھر سے امدادی رقوم بھیجی گئیں۔
جوہن مچل اپنی کتاب، ’’آئرلینڈ کی (شاید) آخری فتح‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’اس عرصے کے دوران آئرلینڈ میں سے کسی نے خیرات کی درخواست نہ کی۔ البتہ برطانیہ نے آئرلینڈ کے لئے دنیا سے امداد حاصل کی۔آئرلینڈ میں کبھی کسی نے برطانیہ یا کسی دوسری قوم سے خیرات یا کسی قسم کی مدد کی درخواست نہ کی لیکن برطانیہ نے از خود دنیا سے آئرلینڈ کے لئے مدد کی اپیل کی ۔‘‘
جوہن مچل کے مطابق، عثمانی سلطنت کے حکمران، سلطان عبدالمجید نے آئرلینڈ کے کسانوں کو 10000پاؤنڈز دینے کا ارادہ کیا لیکن ملکہ وکٹوریہ نے درخواست کی کہ سلطان صرف 1000پاؤنڈز کی امداد روانہ کریں کیونکہ خود انہوں نے صرف2000پاؤنڈز، اہل آئرلینڈ کو’’عطا‘‘ کئے تھے۔
لہٰذا نقد تو سلطان نے صرف1000پاؤنڈز ہی بھجوائے البتہ ان کے ساتھ ساتھ انہوں نے آئر لینڈ کے لوگوں کے لئے خوراک سے بھرے تین بحری جہاز بھی بھجوا دئیے۔ برطانوی انتظامیہ نے ان بحری جہازوں کو روکنے کی کوشش کی لیکن خوراک دروگیڈا کی بندرگاہ پر بحفاظت پہنچ گئی اور اسے عثمانی ملاحوں ہی نے وہاں پہنچایا۔
ایک خط جو ترکی کی عثمانی نوادرات میں ابھی تک محفوظ ہے، بالخصوص آئرلینڈ کے امراء کی جانب سے ترک سلطان کی مدد کے سبب ان کا شکریہ ادا کرنے کے لئے لکھا گیا تھا۔(ماخذ: ’’آلو، فراہمی اور انسان دوستی‘‘ از کرسٹائن کِنیلی اور ’’قحط کا معنی‘‘ از پیٹرک او سلیوان)
سلطنت عثمانیہ کے مسلمانوں کی مدد کی یاد میں، دروگیڈا نے عثمانی ہلال اور ستارے کو اپنی ساحلی افواج کے جھنڈے میں شامل کر لیا۔ان کے فٹبال کلب کا نشان ، اس ڈیزائن کو آج تک برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ایک مسلمان حکمران کی جانب سے ایک عیسائی قوم کی فیاضانہ مددکو آئرلینڈ کی کمیونٹی کی طرف سے خوب سراہا گیا۔ترکی اور آئرلینڈ کی دوستی مختلف اقوام کے مابین امن کا ایک نمونہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *