بنیادی جبلتوں کا اظہار جرم نہیں

imad zafar

کی بنیادی جببلتوں میں سے ایک جبلت جنسی تسکین بھی ہے.بھوک کھانے کی ہو یا جنسی آسودگی حاصل کرنے کی دونوں ہی اپنی اپنی جگہ ایک حقیقت اور انسان کی بنیادی ضرورت ہیں..مرد ہو یا عورت دونوں کو جنسی آسودگی کی تسکین یکساں درکار ہوتی ہے.ٹھیک جیسے کہ روٹی کی بھوک مرد اور عورت دونوں کو برابر لگتی ہے. بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اس بنیادی جبلت کے اظہار یا جنسی آسودگی کی خواہش کو ایک گناہ سمجھتے ہوئے اس کے متعلق بات کرنے پر بھی ممانعت ہے.جنسی آسودگی کی خواہش رکھنا ہمارے ہاں جرم اور گناہ سمجھا جاتا ہے اور بالضصوص اگر عورت اس کا اظہار کرنا چاہے تو ہماری اقدار یا روایات فورا پامال ہو جانے کا خدشہ ہوتا ہے.پاکستانی خاتون زہرا حیدر جو اب کینیڈا میں مقیم ہیں انہوں نے انگریزی میں ایک مضمون اپنے جنسی تعلقات تجربات اور ان کے نتیجے میں سماجی رویوں سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں اور دشواریوں دوارے تحریر کیا ہے.مضمون میں انہوں نے زاتی تجربات اور مشاہدات کو بنیاد بنا کر ہمارے معاشرے کے منافقانہ طرز عمل اور رویوں کی نشاندہی کی.اس مضمون کے طرز تحریر سے اختلاف ممکن ہے لیکن اس میں درج کیئے گئے حقائق سے انکار ممکن نہیں ہے. کیا پاکستانی قوم پوری دنیا میں انٹرنیٹ پر پورن سرچ کے اعتبار سے اول نمبر پر نہیں ہے.؟کیا اسلام آباد لاہور کراچی سمیت مخلتلف شہروں کے ہوٹلوں گیسٹ ہاوسز یا ویران مقامات پر گاڑیوں میں دو مرد اور خواتین حضرات باہمی رضامندی سے جنسی آسودگی حاصل نہیں کرتے؟ ان میں سے کوئی بھی فیکٹ زہرا حیدر نے غلط نہیں لکھا. لیکن سوشل میڈیا پر زہرا حیدر کے کیرکٹر پر انگلیاں اٹھنی شروع ہو گئیں.اس کے بیان کیئے گئے زاتی جنسسی آسودگی کے واقعات کو لے کر اسے فاحشہ سے مسابقت دی جانے لگی.ملک کے کسی نام نہاد لبرل انگریزی اخبار کو توفیق نہ ہوئی کہ اس آرٹیکل کو ری پروڈیوس کرنے کی جرات کرتا.اردو صحافت تو خیر چونکہ زیادہ تر رائٹ ونگ کے مجاہدین کے زیر تسلط ہے اس لیئے اردو اخبارات یا ٹی وی چینلز پر اس دوارے بحث ناممکن تھی.ویسے بھی ایسے موضوع پر بحث کیلئے دانشور درکار ہوتے ہیں نا کہ نوٹنکی باز قسم کے اینکرز. زہرا حیدر کے اس مضمون نے معاشرے میں ہمارے رویوں اور سوچ سے متعلق لاتعداد سوالات کھڑے کر دیئے ہیں.وہ سوالات جن سے ہم کسی بھی صورت نگاہیں ملانے کو یا ان کا سامنا کرنے کو تیار نہیں. ایک بچی جس نے سچ کا سہارا لیتے ہوئے اپنی نجی زندگی کے تجربات بیان کر کے ہمارے کھوکھلے رویوں اور جنسی آسودگی سے متعلق ہمارے تصورات پر سوال کھڑے کیئے ہیں اس کی حوصلہ شکنی کرنے اور اس پر طنز و تحقیر کے نشتر برسانا ثابت کرتا ہے کہ ہم بطور معاشرہ جھوٹ پسند کرتے ہیں اور سچ کیلئے ہمارے ہاں کوئی جگہ نہیں ہے.یعنی چھپ چھپا کر جنسی آسودگی حاصل کرنا جائز لیکن اس کے حوالے سے بات کرنا یا بحث کرنا ناجائز. سچ بولنا معیوب لیکن جھوٹ بولنا قابل قبول اور وہ جھوٹ رسوم و رواج روایات مشرقی پن شرم و حیا اخلاقیات کے پردوں میں آسانی سے چھپایا جاتا ہے. یہاں روایتی طور پر مذہب کا سہارا بھی لیا جاتا ہے جس کے تحت بچیوں یا بچوں کی شادی کم عمری میں کر کے ایسے "گناہ" سے چھٹکارا حاصل کرنے کا تصور تو دیا جاتا ہے لیکن خود مرد حضرات کیلیئے لونڈیاں رکھنے کی گنجائش بھی نکالی جاتی ہے. میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو کے مصداق مزہب کو مردانہ جنسی آسودگی کی سکین کیلیئے ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے. ماہرین نفسیات یا ماہرین سماجیات سے کبھی یہ پوچھنے کی زحمت نہیں کی جاتی کہ پھر شادی کے بعد افیئرز کیوں ہوتے ہیں. اب مشکل یہ ہے کہ معاشرے میں اس سبجیکٹ پر بحث کرنا یا تو فاحشہ کا لقب دلواتا ہے یا پھر "لادین" کا. اس جنسی خواہش کی تسکین کو کوئی بھی انسانی نفسیات کے پیمانے میں دیکھنے پر راضی نہیں ہوتا.کیونکہ اس سے خود ساختہ غیرت اور اخلاقیات کے ڈھانچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے. اخلاقیات کے پیمانے ہمارے ہاں عجیب و غریب ہیں.پورن سائٹ دیکھنا کم گناہ تصور ہوتا ہے یا اسے سماج میں کہیں نہ کہیں قبولیت کا درجہ حاصل ہوتا ہے. لونڈیاں رکھنے سے متعلق لاحاصل بحث کو بھی قبولیت کی سند حاصل ہے.لیکن جنسی تسکین یا آسودگی کا تجربہ کرنا گناہ. انسان کی بنیادی جبلتوں پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی یہ ایک مسلمہ اصول ہے. نہ ہی جنسی خواہشات رکھنا بے راہ روی کے زمرے میں آتا ہے.البتہ ان خواہشات کا گلہ جبری طور پر گھونٹنا غیر فطری عمل ہے.سیکس کی تعلیم کو نصاب میں شامل کرنا وقت کی اولین ضرورت ہے تا کہ بچے بچیاں اس حوالے سے مکمل آگاہ ہوں اور ہارمونل چینجز کی عمر تک پہنچتے پہنچتے جسے بلوغت بھی کہا جاتا ہے اپنے جسم میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر شرمندہ ہونے کے بجائے ان کے بارے میں آگاہی رکھیں. اس بنیادی جبلت کے اظہار پر عائد قدغنیں ہٹائی جائیں تو بچے بچیاں ان کے بارے میں ضرورت سے زیادہ متجسس نہیں ہوں گے. کم عمری یا نوجوانی کی عمر میں بچے اور بچیاں ہمیشہ وہ کام کر کے سکون محسوس کرتے ہیں جس پر پابندی یا قدغن ہو. زہرا حیدر کے تجربات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اس کو بتایا جا سکتا ہے کہ زندگی محض رومانویت یا جنسی آسودگی کے گرد نہیں گھومتی.لیکن اس کے لیئے یہ بھی ضروری ہے کہ بچیوں کی آرزوؤں کو غیرت اور بے حیائی کے ساتھ نتھی نہ کیا جائے.انہیں مکمل طور پر ایک انسان سمجھتے ہوئے ان کی خواہشات اور جزبات کو سمجھا جائے اور پھر انہیں اس حوالے سے مکمل آگاہی دی جائے. اس جبلت کے حوالے سے ایک صحت مند مکالمہ کسی بھی طور پر برائی کے زمرے میں نہیں آتا. البتہ خاموش رہ کر یہ ظاہر کرنا کہ معاشرے میں ایسا کچھ ہوتا ہی نہیں ہے اور جو کچھ زہرا حیدر جیسی بچیاں کہتی ہیں وہ جھوٹ کا پلندہ ہے یا اغیار کی سازش اس امر سے معاشرے میں منافقانہ طرز عمل جنم لیتا ہے. ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم جدید دور کے تقاضوں کو سمجھنے سے ہر چند قاصر ہیں اور نہ ہی انسان کے شعوری ارتقا کو سمجھ پا رہے ہیں. انسان نے شعوری ارتقا کی مسافتیں طے کرنے کے بعد یہ جانا ہے کہ آزادی اظہار چاہے جبلتوں کے بارے میں ہو یا نظریات اور رسوم و رواج کے بارے میں اس کو دبا کر صحت مند دماغ یا معاشرہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا. مرد کی عورت کے ساتھ جسمانی تعلق کی خواہش یا عورت کی مرد کے ساتھ جسمانی تعلق کی خواہش ازل انسانی سے ہے اور ابد تک رہے گی.اس خواہش کو بنیادی طور پر معاشرتی اساسی ڈھانچے کے تابع تبھی کیا جا سکتا ہے جب اس تعلق کی خواہش کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے فوائد اور نقصانات پر بحث کی جائے. مذہب یا معاشرتی اقدار کو جبرا محض بچیوں پر تھوپنے کے بجائے جاوید احمد غامدی جیسے پڑھے لکھے مزہبی سکالرز سے اس موضوع پر ٹاک شوز منعقد کیئے جائیں.کہ کیسے دور جدید کے اور فطرت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دین کے پیرائے میں ان موضوعات دوارے بچوں اور بچیوں کو آگاہی دینا ممکن ہے. جب تک جنسی موضوعات کو ایک ہوا بنا کر رکھا جائے گا تب تک معاشرے میں ایک متوازن سوچ یا دماغ تیار کرنا ممکن نہیں ہو گا. رویوں میں تبدیلی لانے کیلئے مکالمے کا آغاز بنیادی قدم ہوتا ہے.زہرا حیدر سے اختلاف رائے کے باوجود اس کے اس مکالمے کا آغاز کرنے پر اسے طنز تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ہمیں جبلتوں کے متعلق اپنا کھوکھلا رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے. جنسی آسودگی کے تکمیل کیلئے ادوایات اور اعضائے مخصوصہ کے تند و توانا ہونے سے متعلق اشتہارات سے بھری پڑی دیواریں اخبارات اور جرائد اور مباشرت کے عنوان پر لکھی اور پڑھے جانے والی ہزارہا کتب خود معاشرے کے جنسی رجحان کی طرف واضح اشارہ بھی ہیں اور اس بات کی یاد دہانی بھی کہ قدغنوں سے پھلتے تعفن کو ختم کرنے کیلئے سماجی ڈھانچے میں تبدیلی اور شریعت کی عین روح کے مطابق اجتہاد کی اس معاشرے کو فوری ضرورت ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *