پانامہء اعمال

gul e naukhaiz akhtar

انڈیا کی ایک بڑی کمال کی آرٹ فلم ہے’سارے جہاں سے مہنگا‘۔ اگر نہیں دیکھی تو دیکھ لیں، یو ٹیوب پر بھی دستیاب ہے۔اس فلم میں سائیکل کے پنکچر لگانے والا ایک انقلابی شخص روز مائیک سامنے رکھ کر بستی والوں کو یہ بتانے کی کوشش کرتاہے کہ اُن کے دیس کا پانچ لاکھ کروڑ ڈالر سوئس بینکوں میں پڑا ہے اور اگر یہ پیسہ واپس آجائے تو دیس کے ہر بندے کو چار چار لاکھ مل سکتے ہیں۔ بھولے بھالے حاضرین یہ سن کر سکتے میں آجاتے ہیں اور خوش ہوجاتے ہیں کہ بس اب ان کے دِن پھرنے والے ہیں، کئی ایک تو پلان بھی بنا لیتے ہیں کہ وہ اِن چار لاکھ سے کون سا بزنس کریں گے۔
فلم کا مرکزی خیال بہت منفرد ہے۔ یہ ایک غریب خاندان کی کہانی ہے جو بڑی مشکل سے گذارا کرتاہے۔ خاندان کا سربراہ ایک بزرگ ہے جس کی عمر لگ بھگ 80 سال ہوچکی ہے، اس کے دوبیٹے اور ایک بہو ہے۔بہو گھر کے ایک کمرے میں چھوٹا سا بیوٹی پارلر چلاتی ہے، بڑا بیٹا سرکاری ملازم ہے لیکن اس کا کام بڑا عجیب ہے، یہ صاحب بھینسوں کوبذریعہ سانڈ ‘ ماں بنانے کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ یہ گھرانہ مہنگائی کی وجہ سے بہت پریشان ہے کیونکہ جب بھی یہ دوکان سے کوئی چیز خریدنے جاتے ہیں تو اس کی قیمت دوو تین روپے بڑھ چکی ہوتی ہے۔ انہی دنوں سرکار ایک سکیم کا اعلان کرتی ہے جس کے تحت میٹرک پاس لوگوں کو ذاتی کاروبار کے لیے ایک لاکھ روپے قرض کی آفر کی جاتی ہے۔ چھوٹا بیٹا چونکہ میٹرک پاس ہے لہذا طے پاتاہے کہ اس کے نام پر ایک لاکھ روپے قرض لیا جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ قرض واپس کیسے ہوگا اور اِس کا استعمال کیا ہوگا؟ یہیں سے ایک دلچسپ کہانی جنم لیتی ہے۔
یہ گھرانہ طے کرتاہے کہ ایک لاکھ کی رقم سے یہ تین سال کے لیے اشیائے ضرورت مثلاً آٹا، دالیں‘ چینی‘ گھی وغیرہ خریدیں گے اور گھر کے ایک کمرے میں ذخیرہ کرلیں گے۔ پھر ہر ماہ اسی ذخیرے میں سے ضرورت کی چیزیں نکالیں گے اور اس کی جگہ رقم رکھ دیا کریں گے۔یوں تین سال تک کسی قسم کی مہنگائی اِن پر اثر انداز نہیں ہوگی اور تین سال بعد قرضہ بھی ادا ہوجائے گا۔طریقہ زبردست تھا لیکن غریبوں کو علم نہیں تھا کہ آگے کیا کیا مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ایک دن دروازے کی بیل ہوئی ، بیوی نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک موٹے سے صاحب کھڑے تھے، پتا چلا کہ یہ لون انسپکٹر ہیں اور سرکاری طور پر پتا کرنے آئے ہیں کہ دوکان بنانے کے لیے جو قرضہ لیا گیا تھا کیا اُس رقم سے دوکان کھل گئی ہے؟ یہ سنتے ہی بیوی کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں اوروہ کوئی بہانہ بنا دیتی ہے۔ اسی رات سب گھر والے سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ اب دوکان کیسے کھولی جائے۔کافی سوچ وبچار کے بعد فیصلہ ہوتاہے کہ لون انسپکٹر کو مطمئن کرنے کے لیے بیوٹی پارلر کا آدھا حصہ دوکان میں تبدیل کردیا جائے اور وہاں اشیائے ضرورت کی ساری چیزیں دوکان کی طرح سجا لی جائیں تاہم کسی صورت یہ چیزیں بیچی نہ جائیں بلکہ طے شدہ طریقہ کار کے تحت خود ہی خریدی جائیں۔دوکان کھل جاتی ہے لیکن لون انسپکٹر مطمئن نہیں ہوتا، وہ چھپ چھپ کر دوکان کا جائزہ لیتا ہے اور تب اس پر کھلتاہے کہ دوکان میں گاہک تو آتے ہیں لیکن انہیں کوئی چیز فروخت نہیں کی جاتی۔ یہ اعتراض وہ جب اِن گھر والوں کے سامنے اٹھاتا ہے تو یہ گھبرا جاتے ہیں تاہم اگلے ہی دن اس کا حل بھی نکال لیتے ہیں اور بستی کے کچھ ہمنوا لوگوں کو قائل کرتے ہیں کہ وہ لون انسپکٹر کے سامنے ان کی دوکان پر آئیں گے، کچھ سامان خریدیں گے ، ہر ایک کو سامان کی ایک پرچی دی جائے گی اور رات کے اندھیرے میں یہ سارا سامان واپس دوکان میں رکھ دیا جائے گا۔ قصہ مختصر تمام تر کوششوں کے باوجود ان لوگوں کی دو نمبری پکڑی جاتی ہے اورآگے جوہوتاہے اس کے لیے فلم دیکھئے!اہم بات یہ کہ فلم میں جو انقلابی سائیکل مکینک بستی کے لوگوں کو سنہرے خواب دکھا کر روز جلسے کرتاہے اسے جب پتا چلتاہے کہ قرضہ لے کر یوں تین سال کے لیے مہنگائی سے بچا جاسکتا ہے تو وہ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھولیتا ہے۔یہ فلم بہت سے موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔لوگ ٹیکس کیوں بچاتے ہیں‘ پیسے والوں سے کیوں نفرت کرتے ہیں، اپنی آمدنی کیوں چھپاتے ہیں اور غربت سے کیسے نکلنا چاہتے ہیں۔
پاکستان میں ہر وہ بندہ ٹیکس چوری کرنے والوں کو ’پھاہے‘ لگوانا چاہتا ہے جو خود کئی دفعہ بیوی کے پر س سے تین سو روپے نکالتے ہوئے پکڑا جاچکا ہے۔ویسے تو بیوی کے پرس سے پیسے نکالنا کوئی بری بات نہیں، یہ ہمارا ہی ’’پانامہ‘‘ ہوتاہے لیکن اللہ جانتا ہے جب یہ بیگمات کی پرس میں منتقل ہوتاہے تو پھر قومی خزانہ بن جاتاہے جس کی ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑتاہے۔میرے دوست حاجی الیاس توکہتے ہیں کہ ٹیکس ہوتاہی حرام ہے لہذا جو بندہ ٹیکس نہیں دیتااسے جنت کی وعید سنانی چاہیے۔ حاجی صاحب کہتے ہیں کہ ہم ہر چیز میں ٹیکس دیتے ہیں، سگریٹ کی ڈبی بھی خریدیں تو اس کے پیچھے سیلز ٹیکس کی رقم لکھی ہوئی ہوتی ہے، اس کے باوجود ہمیں اگر الگ سے بھی ٹیکس دینے کی ضرورت ہے تو ایسی قوم کا مقدر صرف اور صرف زلزلے ہی ہوسکتے ہیں۔یہ ہے ہمارا پانامہ ء اعمال۔۔۔!!!
سوال یہ ہے کہ ہم ٹیکس کیوں دیتے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ ٹیکس کی صورت میں ملک کا نظام چلتاہے، سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ملتی ہیں، سڑکیں بنتی ہیں، ہسپتال چلتے ہیں، سکول ، کالج اور یونیورسٹیاں چلتی ہیں اور سب سے بڑھ کر، خود سرکار چلتی ہے۔یہ آخری بات سارے فساد کا باعث بنتی ہے۔اگر میں ٹیکس دیتا ہوں تو مجھے حق ہے کہ مجھے میرے ٹیکس کی رقم کا مصرف بھی بتایا جائے لیکن ظاہری بات ہے جب مجھے پتا چلے گا کہ سرکاری محلات ، غیر ملکی دورے اور سیاسی گڑبڑ کے لیے بھی میرے ٹیکس کا پیسہ استعمال کیا جارہا ہے تو مجھے غصہ آئے گا۔ہربندہ چاہتا ہے کہ اس کا پیسہ کسی نہ کسی طریقے سے ، گھوم گھما کر اسی کی ذات پر خرچ ہو‘ ہونا بھی یہی چاہیے، لیکن ہوتا کیا ہے؟ بڑے بڑے لوگوں کو ہم پالتے ہیں، جو لوگ ٹیکس دیتے ہیں انہیں ٹرین کے ٹکٹ پر بھی ٹیکس دینا پڑتاہے اور جن کے پاس ٹیکس جاتاہے وہ ٹرینوں سے جہازوں تک فری سفر کرنے کے مجاز قرار پاتے ہیں۔جو ٹیکس دیتے ہیں انہیں انکم ٹیکس کی مشکوک نظروں کا سامنا کرنا پڑتاہے اور جو نہیں دیتے وہ تسلی سے دن رات انجوائے کرتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے ایک صاحب پچیس سال سے بھگوان کی پوجا کرتے آرہے تھے، انہی کے ہمسائے میں ایک اور صاحب پچیس سال سے بھگوان کو گالیا ں دیتے تھے۔ ایک دن پہلے والے صاحب بہت بیمار ہوگئے اور ایک دن بھگوان کی عبادت نہ کرسکے۔ فوراً بھگوان کی آواز آئی’نالائق انسان! تم نے ہماری عبادت میں کوتاہی کی، اب تمہیں سزا ملے گی‘۔ یہ فوراً گھگیا کربولے’’ بھگوان! میں تو پچیس سال سے عبادت کر رہا ہوں، صرف ایک دن کی کوتاہی ہوئی ہے جبکہ میرے ساتھ والا ہمسایا تو پچیس سال سے آپ کو گالیاں دے رہا ہے، سزا تو اُسے ملنی چاہیے۔‘‘بھگوان کی آواز آئی’’مورکھ! اُسے ہم کیسے سزا دے سکتے ہیں وہ تو ہمیں مانتا ہی نہیں۔۔۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *