چھوٹے لوگوں کی بڑی انا

babar sattarبابر ستار

 کیا یہ ہمارے انا پرست اور مصنوعی وقار کا پرچار کرنے والے فوجی اور سیاسی قائدیں کے چہرے پر طمانچہ نہیں ہے کہ ایک ایٹمی طاقت کے حامل اور دنیا کے طاقتور ترین فوجی طاقتوں میں سے ایک ہونے کے باوجود یہ ملک اپنے ہی بنائے ہوئے شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ایک طرف ہمارے سیاستدان اور جرنل ہیں جو شہید ہونے والے فوجیوں اور عوام کے خوں کا حساب لینے کے دعوے کرتے ہیں اور دوسری طرف وہی طبقہ اپنے متعلقہ اداروں(پارلیمنٹ اور آرمی ) کے وقار کو مجروح کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔
کیا سیاستدانوں کے بلند وبانگ تقریروں سے پارلیمنٹ کی بالا دستی قائم ہوگئی ہے؟ کیا کمانڈو جوانوں کے سامنے آرمی چیف کی تقریر سے آرمی کا وقار بلند ہوا ہے؟ہم نے پچاس ہزار افراد دہشت گردی کی وجہ سے کھو دیے ہمارے ایف سے کے جوانوں کے سر وں کافٹ بال کھیلا گیا ۔چاہے وہ فاٹا ہو یا کراچی، اسلام آباد کچہری ہو یا راولپنڈی کی سبزی منڈی، حکومت کی رٹ کہیں دکھائی نہیں دی۔اور ہمارے قائدیں مسائل حل کرنے کے بجائے آپس میں لڑ رہے ہیں۔
یہ کہتے ہوئے مجھے کوئی جھجھک محسوس نہیں ہو رہا کہ ہمارا آئین سول حکومت میں فوجی مداخلت کی اجازت دیتا ہے؟ میں جمہوریت کا حامی ہوں لیکن اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو کوئی بھی شخص یہ نہیں کہ سکتا کہ فوج کو حکومت میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے اکثر علاقے یا تو براہ راست فوج کے کنٹرول میں رہے ہیں یا پھر فوج در پردہ رہ کر معمالات کو چلاتی رہی ہے۔اب سوال یہ کہ حکومت میں فوجی مداخلت کو کیسے ختم کیا جائے؟
آئین کے بننے کے بعد ایک منتخب وزیر اعظم کو پھانسی پر لٹکا یا گیا اور دوسرے کو ملک بدر کیا گیا ۔آئین میں آرٹیکیل چھ ہونے کے باجود کیا یہ سب ہونا چاہیے تھا؟ کیااسی آرٹیکل چھ کے ہوتے ہوئے ایک آرمی چیف کو ایک سابق آرمی چیف کے عدالتی ٹرائل پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کھلے عام اپنے اور اپنے ادارے کے وقار کی حفاظت کا دعویٰ کرنا چاہیے تھا؟
اداروں کے تصادم سے بچنے کے لیے ہمارے سول اور فوجی قیادت کو ثابت قدم رہتے ہوئے ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا ہوگا اور دونوں طرف سے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔فوج کو ایک مقدس گائے کا درجہ دینے سے خود اس ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔یہ آسان کام نہیں ہے کہ خود کو قوم کا نجاد دہندہ سمجھنے والے آسانی سے قانون اور آئین کی بالادستی کو تسلیم کریں، اس کے لیے پورے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا پڑیگا۔
اس قسم کی تبدیلی جرنیل تولا سکتے ہیں جو اب قائل ہو چکے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل قومی تحفظ اور قومی مفاد(جو فوجی حکمران استعما ل کرتے رہے ہیں ) کے جھوٹے دعوؤں سے غیر یقینی کی صورحال کا شکار ہو چکا ہے ۔لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ قوت اور اختیار چھوڑنا آسان کام نہیں اس لیے فوج اور حکومت کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کی ذمہ داری سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے ۔لیکن نواز شریف اور ان کے رفقاء اس میں ناکام ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔
سوچنے والی بات یہ ہے کہ تین مہینے تک فرد جرم عائد ہونے سے بچنے کے لیے فوجی سرپرستی میں رہنے کے بعد مشرف کا نئے وکیل کے ساتھ کورٹ میں پیش ہونا، ان پر فرد جرم عائد ہونا اور ان کا نام ای سی ایل سے خارچ کرنے کی اپیل کرنا، کیا یہ سب بنا کسی یقین دہانی کے ہو رہا تھا؟ اگر نواز شریف کی طرح سے ایسی کوئی یقین دہانی کی گئی تھی جس کی بعد میں خلاف ورزی کی گئی اور وزاراء اس واقعے کے بعد سینہ تان کے چلنے لگے ہیں تو اس صورتحال میں فوجی قیادت کا غصہ کوئی عجیب بات نہیں۔
اگر نواز شریف کو یقین تھا کہ مشرف کو سزا دینے سے سو ل ملٹری تعلقات کے لیے بہتر ہے تو ان کو چاہیے تھا کہ اس کام کو سلیقے سے کرتے۔ آرمی چیف کو پہلے ہی بتا دیتے کہ مشرف کے معاملے میں کوئی ڈیل نہیں کی جائے گی،اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جاتا کہ یہ کیس متنازعہ نہ ہو جائے اور اس کو سیاسی انتقام کا لبادہ نہ پہنایا جائے۔
غازی کیمپ میں آرمی چیف کے طرز عمل سے لگتا تھا کہ وہ غصے میں آپے سے باہر ہوگئے ہیں ۔اس بات سے قطع نظر کہ اعلیٰ فوجی قیادت کو دھوکہ دیا گیا یا نہیں ، آ ایس پی آر کے پریس ریلیز سے خاکی وردی والوں کا غصہ ظاہر ہوتا ہے۔یہ کہنا کہ مشرف کے معاملے پر فوج کو کوئی غصہ نہیں ، حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔مشرف کیس کو لیکر پالیسی سازی میں آرمی چیف پر ان کے ادارے کی طرف سے سخت دباؤ نظر آرہا ہے جس کو برداشت کرنا ان کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ۔
نواز شریف اپنے پہلے دور حکومت میں ایک آرمی چیف کے ساتھ لڑائی کر بیٹھے ، دوسرے دور میں ان کے ہی نامزد کردہ آرمی چیف نے ان کو نکال باہر کیا ۔ کیا وہ اب بھی کوئی سبق نہیں سیکھا؟کیا ان کو پتہ نہیں ہے کہ دہشت گرد پہلے ہی ہمارے دروازوں تک پہنچ گئے ہیں ۔ اگر کوئی دور ہے جس میںیہ ملک کسی بھی سول ملٹری کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا ، تو وہ آج کا دور ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *