افق رنگ بدل رہاہے

Ayaz Amirایازا میر

آسمان تو ہمیشہ سے ہی رنگ بدلتا آیا تھا لیکن اس بار تو اس نے حد کردی۔ چند ہفتے یا یوں کہہ لیں چند دن پہلے تک وزیراعظم نواز شریف سے زیادہ مطمئن کون ہوگا، ہرچیز پر ان کی نگاہ تھی اور صورت حال معمول کے مطابق ، لیکن یہ کیا ہوا، اچانک وہ پتے، جن پر ابھی مکمل طور پر تکیہ بھی نہیں کیا تھا، ہوا دینے لگے۔ اب ایسا بھی نہیں کہ آسمان ٹوٹ پڑا ہو لیکن فلک ِ کج رفتار کے تیور کچھ بدلے بدلے دکھائی دیئے۔ سر پر پہاڑ نہیں گرا لیکن دو سطری جملے، صرف دوسطری جملے نے قدموں تلے زمین سرکا دی... ’’فوج اپنے وقار کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گی‘‘ ۔ گزشتہ ایک ہفتے سے یہ چند الفاظ ہیڈلائنز کاحصہ بنے بہت سی پیشانیوں کو عرق آلود کئے ہوئے ہیں... یہ ہے ہماری جمہوریت کی تاب و تواں کہ ہوا کا ایک غیر متوقع جھونکا بھی اس کے ہائوس آف کارڈز کو برہم کردے۔ لبوں کی مسکراہٹ دم توڑ رہی ہے اور مارے جانے والے شب خون اور فراموش کئے جانے والے سبق تشویشناک ناگ بن کر یادوں کے نہاں خانوں میں بسیرا کرچکے ہیں۔ ہمارا سیاسی منظر نامہ...’’اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا‘‘۔ روایتی طور پر عسکری ادارے پی پی پی سے مخاصمت رکھتے تھے۔ گاہے بے دھڑک، کھلے عام، گاہے پس ِ پردہ، تاہم بے نظیر بھٹو اس حقیقت سے آگاہ تھیں، اس لئے انھوں نے کبھی بھی فوج کو اشتعال دلانے کی کوشش نہیں کی بلکہ انھوں نے اس کے سینے پر جمہوریت کا تمغہ بھی سجایا لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ دوسری طرف پی ایم ایل (ن) اور نوازشریف جنرل ضیاء کے فوجی دور کی پیداوار ہیں۔ اس دور کی سیاست آمریت کے سانچوں میں ڈھلی اور ردعمل، خاص طور پر پی پی پی کے خلاف، کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی۔ اس کے باوجود وہ کسی پُراسرار اور گہرے نفسیاتی مسئلے کی وجہ سے دفاعی اداروں کے ساتھ نباہ کرنا دشوار پاتے ہیں۔ یقیناً اس عالم ِآب و گل کے کچھ معروضات عقل و فہم کی رسائی میں نہیں بھی ہوتے۔ نواز شریف نے جہانگیر کرامت، جو ہمارے انتہائی وضع دار جنرل تھے، کے ساتھ الجھائو کی پالیسی اختیار کی۔ جنرل صاحب نے الجھنا مناسب نہ سمجھا اور راستے سے ہٹ گئے۔ اس سے حوصلہ پاتے ہوئے جب نوازشریف نے پرویز مشرف کے ساتھ بھی یہی کرامت دکھانا چاہی تو دائو الٹا پڑ گیا۔ اگرچہ حکومت نے موجودہ آرمی چیف کے ساتھ زیادہ چھیڑخانی نہیں کی لیکن انھوں نے کچھ تو محسوس کیا جو مذکورہ بیان دیتے ہوئے اپنی ناراضی کا اظہار کردیا۔
اس صورت حال کے ابھرنے سے پہلے تک سیاسی منظر نامہ بالکل سکوت کا مظہر تھا۔ پی ایم ایل (ن) کے سامنے کوئی حقیقی اپوزیشن نہیں تھی اور نہ ہی اس کے مقاصد کے راستے میں کوئی رکاوٹ تھی لیکن پھر یکایک حالات نے جنبش لی، چراغ جلنے لگے، محفل سج گئی ، زندگی نے انگڑائی لی اور بقول خوشی محمد ناظر ’’اشجار بھی وجد میں آنے لگے، دلکش وہ سماع طیور ہوا‘‘۔ بس پھر کیا تھا، ایم کیو ایم واشگاف الفاظ میں پرویز مشرف کی حمایت میں کھڑی ہو گئی، علامہ طاہر القادری بھی حجرہ نشینی کو لات مارتے ہوئے دھماکہ خیز بیانات داغتے سنائی دیئے جبکہ چوہدری شجاعت حسین نے چپ کا روزہ توڑتے ہوئے حکومت کو، جتنا لے سکتے تھے، اڑھے ہاتھوں لیا۔ اس دوران پی پی پی کو خود بھی سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کس طرف جارہی ہے کیونکہ بلاول ٹوئیٹر کی دنیا سے باہر آنے کے لئے تیار نہیں تو ان کے بابا جان وزیراعظم کی ڈھارس بندھانے کو اپنی سیاست کا حاصل گردانتے ہیں۔دراصل ہمارے روایتی سیاسی پیمانے بدل گئے ہیں۔ ایک وقت تھا جب پی ایم ایل (ن)دفاعی اور خفیہ اداروں کی پشت پناہی سے پی پی پی کے ساتھ محو ِ کارزار رہتی تھی لیکن اب پی پی پی کو نکال کر دیگر سیاسی کھلاڑی، جو منتشر اور کمزور ہیں، فوج اور حکومت کے درمیان اس تنائو، جو بہت سنگین نہیں، کا فائدہ اٹھانے کے لئے کمر کس رہے ہیں تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ دفاعی ادارے نواز مخالف ہو چکے ہیں۔ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ نوازشریف کی سیاست کی جڑیں پانچ دریائوں کی سرزمین میں گڑی ہیں تو فوج کے ایک بڑے حصے کا تعلق بھی اسی صوبے سے ہے۔ اس دوران وزیراعظم، جو اپنی آخری باری کھیل رہے ہیں، غیر ضروری طور پر کچھ رسک لینے کی کوشش میں ہیں۔
فوج اور حکومت کے درمیان یہ تنائو دو معاملات کی وجہ سے ہے... طالبان کے ساتھ مذاکرات اور پرویز مشرف کیس۔ جہاں تک مذاکرات کا تعلق ہے تو حکومت یہ تاثر دینے میں کامیاب رہی ہے کہ وہ طالبان کی ناراضی دور کرنے کے لئے تیار ہے۔ درحقیقت طالبان کے حقیقی مطالبات، جیسا کہ قیدیوں کی رہائی، بھاری تاوان، فاٹا سے فوجی دستوں کی واپسی، اُسی صورت تسلیم کئے جاسکتے ہیں جب ریاست ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کسی حد تک جانے کے لئے بھی تیار ہو لیکن ظاہر ہے کہ دفاعی ادارے اس صورت حال کو پسندیدہ قرار نہیں دے سکتے۔ جہاں تک مشرف کیس کا تعلق ہے تو فوج نے حکومت کا ساتھ دینے کی کوشش کی تاہم اس دوران اسے توقع تھی کہ حکومت اپنے رویّے میں کچھ اعتدال کا مظاہرہ کرے گی لیکن وزیراعظم بے لچک رویّے اور اصول پرستی کا نمونہ بنتے ہوئے ریٹائرڈ اور حاضر سروس آفیسرز کو تائو دلابیٹھے۔ وہ سوچ رہے ہیں کہ جب شریف برادران قید میں تھے تو مشرف نے اعتدال کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُنہیں بیرون ِ ملک جانے کی اجازت دے دی تھی لیکن اب جب آرمی چیف پر ایسا وقت آیا ہے تو سول حکومت لچک کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ کی گئی ڈیل کے مطابق شریف برادران نے دس سال حجاز کی مقدس سرزمین پر عبادت ریاضت میں مصروف رہنا تھا لیکن پھر ان کے پاسپورٹ، جو ہمارے سفارت خانے کے پاس تھے، واپس کردیئے گئے اور وہ لندن سدھارے۔ اس سے پہلے شہباز شریف کو کمر کے درد، جو کبھی کبھی اٹھتا ہے، کے علاج کے لئے نیویارک جانے کی اجازت دے دی گئی۔
اگر نوازشریف نے پرویز مشرف کو علاج کی غرض سے دبئی جانے کی اجازت دے دی ہوتی۔ اب صورت حال زیادہ گمبھیر ہو چکی ہے کیونکہ اگر حکومت نرمی دکھائے تو اسے کمزوری سمجھا جائے گا اور اگر وہ موجودہ موقف پر قائم رہے تو فوجی قیادت کا رویہ سخت ہو جائے گا۔ اس کامطلب کسی ناروا صورت حال کا پیدا ہو جانا نہیں لیکن بہت سے معاملات پر حکومت اور جی ایچ کیو کے درمیان پیغام رسانی قدرے دبائو کا شکار ہوجائے گی۔ دراصل حکومت خود خطرے کی بو سونگھ رہی ہے، اس لئے اس نے غیر متوقع طور پر چک شہزاد کے فارم ہائوس کی دیواروں کو بلند کردیا ہے کیونکہ یہ جانتی ہے کہ اگر سابق فوجی حکمران کے ساتھ کچھ ہو گیا تو اس کا بار حکومت کو اٹھانا پڑے گا۔ لیکن سوچنے کی بات ہے کہ اتنے وسیع فارم ہائوس کے گرد بم پروف دیوار بنانے سے دبئی کا ٹکٹ کہیں زیادہ سستا پڑتا۔ کیا ہم براہ کرم اس موضوع پربات کرتے ہوئے تھوڑی دیر کے لئے آئین اور قانون کی حکمرانی کی باتیں کرنے سے احتراز نہیں کرسکتے؟یقیناً ہماری بہت سی سیاسی جماعتوں نے ماضی میں آمروں کے ہاتھ مضبوط کئے یا ان کے تعاون سے اقتدار میں آئیں۔ جب ماضی داغدار ہو تو حال کے کسی ایک دھبے پر انگشت نمائی زیب نہیں دیتی۔ ہمیں کہا جا رہا ہے کہ آرمی چیف کا بیان قدرے باعث تشویش ہے لیکن چند دن تک یہ تشویش ہوا ہو جائے گی۔ اس کے بعد راوی چین ہی چین لکھے گا۔ شاید ایسا ہی ہو لیکن طالبان کے ساتھ مذاکرات اور مشرف کیس کا کیا بنے گا؟ کیا یہ معاملات راتوں رات سلجھ جائیں گے؟ کیا ان کی وجہ سے آئندہ تو کوئی پرتشوش صورت حال پیدا نہیں ہو جائے گی؟
اگرمشرف کیس سے صرفِ نظر کر بھی لیں تو طالبان کا معاملہ کس طرف بڑھے گا؟ کیا ہم ان کی تمام باتیں تسلیم کر سکتے ہیں؟ دراصل طالبان اور پاکستان دو مختلف دنیائوں کے نام ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ صلح نہیں، رد کر کے ہی اپنا وجود برقرار رکھ سکتے ہیں۔ پاکستان طالبان کے ساتھ صرف ایک صورت میں امن قائم کرسکتا ہے جب فوج منظر ِ عام سے ہٹ جائے اور پاکستان موجودہ آئینی اور سماجی ڈھانچے سے دستبردار ہو جائے... اور ایسا ہونا ناممکن ۔ طالبان اس بات کو جانتے ہیں اور انہیں اس حقیقت کا بھی علم ہے کہ بات چیت کا یہ مذاق چنددنوں کی بات ہے، اس لئے وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنے لئے زیادہ سے زیادہ رعایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ فوج بھی اس بات کو جانتی ہے، اس لئے وہ ان مذاکرات پر تحفظات رکھتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ حکومت کی موجودہ پوزیشن بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند لینے سے مختلف نہیں اور وہ چاہتی ہے کہ فوجی جنرل بھی اسی طرح کا طرز ِ عمل اختیار کریں۔ شاید ہمارے ماحول میں ہی کوئی ایسی بات ہے جو یہاں لیڈر اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کو اپنی دانائی گردانتے ہیں۔ 2007ء میں مشرف نے بھی یہی کچھ کیا تھا، آج نواز شریف بھی اسی عمل کو دہرا رہے ہیں۔ اس ’’دہرائی‘‘ کی قیمت عوام کو چکانا پڑتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *