عمران خان کی تبدیلی

jam sajjad hussain

جب سے متنازعہ پانامہ لیکس نے دنیا بھر میں آف شور کمپنیز کا ڈھنڈورا پیٹا ہے تب سے اب تک دنیا بھر کے وہ ممالک جہاں کمزور نظامِ حکومت رائج ہے وہاں بھونچال کی سی کیفیت ہے۔ پانامہ لیکس میں سب سے دلچسپ چیز یہی تھی کہ تمام امریکی کاروباری حضرات کو کلین چٹ تھما دی گئی یوں دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ امریکہ اور امریکی دنیا بھر میں ’’ایماندارہیں ‘‘۔ پہلا اعتراض روسی صدر اور روسی میڈیا نے اٹھایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دنیا بھر کے لیڈران کو پانامہ کے ذریعے بے نقاب کیا گیا ہے مگر پانامہ لیکس میں کوئی امریکی شامل نہیں ہے۔ یہ وہ پہلا نقطہِ اعتراض تھا جس پر ہمارا سادھو میڈیا چپ سادھے میاں نواز شریف کے پیچھے پڑگیا۔ ہمارے ملک میں چونکہ سیاست موقع پرستی اور مسائل پیدا کرنے کی بنیاد پر کی جاتی ہے اس لیے سیاسی پارٹیوں کے ٹھنڈنے کاروبار میں جان آگئی اورانہیں اپنی سیاست کے لئے نیا موڑ مل گیا۔ یوں ہر سیاسی پارٹی اپنی وسعت اور اوقات کے مطابق پانامہ پیپرز کے معاملے کو پوری طرح اچھال رہی ہے۔ بدعنوانی کا اس ملک سے خاتمہ کس کو اچھا نہیں لگتا؟ لیکن عوام نے شاید اب یہ سوچ لیا ہے اور انہیں یہ احساس بھی ہوگیا ہے کہ جو آج اعتراض کررہے ہیں وہ کل حکومت میں آکر وہی کام کرتے ہیں جو ان سے پچھلے کرتے آئے ہیں۔ عوام کو بے وقوف سمجھا گیا ہے اور عوام بے وقوف اس لیے بنے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے ووٹ کا حق بھی چرایا جانے لگا ہے۔ چلیں پرانی پارٹیاں تو بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتی آئی ہیں لیکن جو پارٹی ابھی تبدیلی کا نعرہ لگالگا کر اپنا گلہ پھاڑ چکی ہے کیا کسی معاشرے میں تبدیلی لانے کے لئے ضروری لوازمات کا جائزہ لیا ہے؟کیا اس پارٹی کے اندر وہ لیڈران موجود ہیں جو بے داغ پہچان کے ساتھ ساتھ صرف سیاست کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں۔ کیا جہانگیر ترین ایک کاروباری شخص نہیں ہے؟ کیا مخدوم شاہ محمود قریشی حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی اور حضرت شاہ رکن عالم کے مزاروں سے اکٹھا ہونے والا پیسہ اپنے استعمال میں نہیں لاتا اور کیا شاہ محمود قریشی ایک کاروباری آدمی نہیں ہے؟ کیا علیم خان ایک کاروباری شخص نہیں ہے؟ کیا دیگر نامور رہنما کاروباری شخصیا ت نہیں ہیں؟ جب حکمران جماعت سیاست میں آکر اپنا کاروبار کررہی ہے تو کیا تحریک انصاف کے رہنما سیاست میں عبادت کی غرض سے اترے ہیں؟ چلیں مان لیا کہ عمرا ن خان ذاتی حیثیت میں ایک صاف ستھرا اور ایماندار شخص ہے مگر اپنی ٹیم کے بارے میں خان صاحب کا کیا خیال ہے؟ اس لیے جب خان صاحب اپنی کسی تقریر میں اسلام اور اصحابہِ کرام کی زندگیوں کی مثال دیتے ہیں تو انہیں ان امثال کو پہلے اپنی پارٹی کے رہنماؤں کی زندگیوں پر لاگو کرکے پھر دیگر سیاسی رہنماؤں پر لاگو کرنا چاہیے۔ دین اسلام کے پہلے خلیفہ نے جب حکومت باگ دوڑ سنبھالی اور پہلے دن وہ اپنی کپڑے کی دوکان پر جانے لگے تو سوال ہوا کہ کہاں جارہے ہیں ؟ ۔’’اپنی دوکان پر‘‘۔ جواب ملا۔ پھر سوال ہوا کہ اگر آپ خلیفہ ہو کر دوکان چلائیں گے تو بازار میں باقی دوکانوں پر کوئی کیوں جائے گا؟ اس لیے طے کرلیا جائے کہ کاروبار کرنا ہے یا پھر حکومت کرنی ہے۔ جب دوسرے خلیفہ اسلام نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی تو ایک دن بیٹا جو کچھ عرصہ قبل تجارت کی غرض سے باہر چلا گیا تھا وہ بے پناہ مال و متاب کے ساتھ واپس پہنچا تو سوال ہوا کہ اس قدر مال کہا ں سے آگیا ؟ ۔ ’’میں نے اپنے چچا جان سے قرض لیا تھا اس سے کاروبار کیا اور اب وہ قرض بھی لوٹا دیا ہے‘‘۔ مگر خلیفہ اسلام نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر وہ سامان واپس کرو کیونکہ تمہارے گورنر چچاکو یہ اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ تمہیں قرض دے۔کیا یہ تعلیمات ہمیں کسی بھی سیاسی پارٹی میں نظر آتی ہیں؟ جب ایسا نہیں ہے تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ دوسروں کو اسلام کی تعلیمات دیتے جاؤ اور خود ہر طرح سے ہر قسم کا مکھن کھاتے جاؤ۔ اس لیے جب تک اپنا دامن صاف نہیں ہوتا تب تک دوسروں پر کیچڑ اچھالنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا نہ ہی عوام کو اور نہ ہی آپ کو۔ دوسری اہم بات تبدیلی کے لئے ضروری لوازمات ہیں۔ جو قومیں تبدیلی لاتی ہیں ان کے رہنماؤں کی صحت اور کردار مکمل طور پر مکمل ہوتا ہے۔ ان کے چہروں پر عزم ، بات میں سچائی اور کردار میں چٹان کا عزم ہوتا ہے۔ ان کی خواتین کے چہروں پر جھریاں مگر سخت بدن کی مالک ہوتی ہیں جو ایسے مرد پیدا کرتی ہیں جو قوموں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ کیا تبدیلی لانے والی جماعت میں اپنے مرد و خواتین رہنماؤں میں کوئی ایک بھی نشانی موجود ہے؟ ۔ بابائے چین جنابِ ماؤزے تنگ اور چو این لائی کے چہروں ، ان کے بدن اور کردار کی سچائی کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح کیوبا کے انقلابی رہنما فیدل کاسترو ، راؤل کاسترو اور علی عزت بیگو وچ کے چہروں اور کردار وں کو بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ امن کے ذریعے قوم کی تقدیر بدلنے والے جنابِ قائد اعظم محمد علی جناح اور بھارتی رہنما جنابِ کرم داس موہن چند گاندھی کے وجود اور طرزِ زندگی کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ تبدیلی کردار سے آتی ہے۔ تبدیلی کے لئے حالات بالکل موزوں ہیں کیونکہ قوم ہر طرح سے پس رہی ہے ۔ مہنگائی کا جن کسی بھی حکومت سے قابو میں نہیں آرہا۔ واپڈ نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔ واپڈ کی غنڈہ گردی نے عوام کی سکت اور کمر دونوں توڑ دی ہیں۔ پولیس کا نظام اس قدر بوسیدہ ہوچکا ہے کہ چاہتے ہوئے بھی عوام کو انصاف کی راہ پر نہیں ڈال سکا بلکہ افسران سے لے کر ماتحت تک سبھی بدعنوانیت کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ججز وقتاََ فوقتاََ خود بیانات دیتے آئے ہیں کہ نظامِ عدالت ابھی تک عوام کو انصاف دینے میں ناکام رہا ہے۔ کمیشن بنتے ہیں ۔ انکوائریاں ہوتی ہیں۔ صرف چھوٹی مچھلیاں ہی جال میں پھنسا کر مگر مچھوں کو کلین چٹ دے دیا جاتا ہے۔ تبدیلی کے لئے جو حالات درکار ہوتے ہیں وہ موجود ہیں مگر ان حالات کو تبدیل کرنے کے لئے جو لوگ درکار ہوتے ہیں وہ ابھی نہیں ہیں۔ ہر کوئی اپنا سٹیج تیار کرکے اپنا شو دکھاتا ہے۔ اپنے مداری لاتا ہے۔ اپنے تماشائی لاتا ہے اور دو تین گھنٹے کا ڈرامہ رچاتا ہے اور واپس اپنے محلات میں چلا جاتا ہے اور عوام جنہیں بھٹو نے طاقت کا سرچشمہ قرار دیا تھا وہ اپنی اپنی کٹیا میں چلے جاتے ہیں۔ یہ بات بجا ہے کہ کچھ طبقات نے عمران خان کو اس ملک کو کرپشن سے پاک کرکے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی ٹھان لی تھی مگر پچھلے دھرنے اور موجودہ کنسرٹ کے ذریعے انہیں بھی مایوسی ہوئی ہے۔ تحریکِ انصاف کے جلسے میں شرکت کے لئے خواتین باقائدہ تیار ہو کر میک اپ کرکے جلسے میں شرکت کرتی ہیں۔ مرد رہنماؤں کو خود نہیں پتا ہوتا کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں اور ان کا لیڈر کیا سوچ رہا ہے۔ شاید وہ وقت بہت قریب آتا جارہا ہے جب کوئی ایسا رہنما اپنے گروہ کے ساتھ نکلے گا جو اس ملک میں حقیقی انقلاب لائے گا اگرچہ اس ملک کے عوام میں ابھی تک وہ افراد چھپے ہوئے ہیں جو انقلاب کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *